119

خود مختاری سے رائے شماری: آفتاب احمد

سابق قائد جے کے ایل ایف مرحوم امان اللہ خان میڈیا اور عامتہ الناس کے ہاں جانی پہچانی شخصیت تھے۔ میں نے اُن کے متعدد خطابات سُنے۔ مختصر کتابچوں کے علاوہ اُن کی سوانح عمری جہد مسلسل بھی پڑھی۔ کشمیر کاز کے لیئے اُنکی کی کمٹمنٹ اور خود مختار کشمیر کے موقف پر اُن کے دلائل نے بہت سے جوانوں کو اس نظریہ سے متعارف اور متاثر کیا۔ اُن کی وفات کے بعد جے کے ایل ایف بالخصوص اور جموں و کشمیر کی عوام بالعموم، ایک نڈر، محب وطن اور مخلص لیڈر سے محروم ہو گئے۔ اور اُس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فرنٹ کی سرگرمیاں خال خال ہی نظر آئیں۔

حالیہ دنوں میں جب ایل ایف نے دوبارہ ایل او سی کو توڑنے کا عندیہ دیا تو میرے زہن میں پہلا سوال اُس کی قیادت سے متعلق آیا۔ یوُں ڈاکٹر توقیر گیلانی کا نام پہلی بار سُنا۔ فریڈم مارچ شروع ہوا۔ مظفرآباد کی فضا ایک بار پھر آزادی، جان سے پیاری خودمختاری، وغیرہ کے نعروں سے گونج اُٹھی۔ گویا ۹۲ء کی یاد تازہ ہو گئی ہو۔ لیکن اس فرق کے ساتھ کہ اس بار کال اگرچہ لبریشن فرنٹ کی تھی مگر دعوت عام ہر غیرتمندکشمیری کو قطع نظر اُسکی جماعتی وابستگی کے تھی۔ جس کا ریسپانڈ بھی مثبت رہا۔

میں ہر بینرز کو اس اشتیاق کے ساتھ دیکھتا رہا کہ کہیں توقیر گیلانی کی تصویر نظر آ جائے۔ لیکن نظر جِدھر جِدھر جاتی۔ وہاں شہید مقبول بٹ، امان اللہ خان اور یسین ملک ہی پوسٹرز یا بینرز پر نظر آئے۔ کوئ ایک پینا فلیکس بھی ایسا نہیں تھا جس پر جے کے ایل ایف کے مارچ کو لیڈ کرنے والے موجودہ چیئرمین کا نام یا تصویر پرنٹ ہوتی۔ زاتی تشہیر کی نفی کا ایسا منظر سوائے تبلیغی جماعت کے ماضی میں مجھے کہیں اور نظر نہ آیا تھا۔ کیا ایسا اتفاقاً ہو گیا تھا؟

نہیں! بلکل بھی نہیں۔ توقیر صاحب نے یقیناً دانستہ طور پر ایسا کرنے کا کہا ہوا ہو گا۔ اُسے اُس کے ضمیر نے بتلایا ہو گا کہ ناموری پیدا کرنے کا ایک اصلی اور خالص طریقہ فقیری میں پنہاں ہے۔ نہ کہ دھرتی ماں کے ان عظیم سپوتوں اور تحریک حُریت کے بے مثال کرداروں کے ساتھ اپنی تصویر یا نام لکھوا کر سستی شُہرت حاصل کرنا۔ یہی وہ چیز تھی جس نے میرے دل میں توقیر کی توقیر نے بِن دیکھے اور سُنے جگہ بنا لی۔
مجھے کچھ عرصہ سے محسوس ہو رہا تھا کہ آزادی پسندوں کے نعروں میں ماضی والا جذبہ اور جوش و خروش شائد مفقود ہو گیا ہے۔ لیکن پانچ اور چھے اکتوبر کو نوجوانوں کے مسلسل اور فلک شگاف نعروں نے اس خیال کو مسترد کرنے پر مجبور کر دیا۔ پیدل مسافت،تھکن، بھوک، ٹھنڈی راتیں غرض کوئ بھی رکاوٹ آزادی کے متوالوں کے جذبات کو سرد کرنے میں بالکل بھی نا کام رہی۔ مُجھے تو اُن ماؤں پر رشک آیا۔ جنہوں نے بخوشی اپنے لعلوں کو لہو دینے گھر سے رخصت کیا۔

فرنٹ کے رضا کاروں نے جس نظم و ضبط کا مظاہرہ اس پورے سفر کے دوران بھمبر سے چناری تک کیا وہ بھی ہر اعتبار سے مثالی تھا۔ شاہراہ سری نگر جہلم ویلی میں قافلہ کا پہلا پڑاؤ گڑھی دوپٹہ کالج گراؤنڈ تھا۔ یخ بستہ ٹھنڈی رات اور کُھلا آسمان، لیکن مجال ہے کہ کسی نے کوئ حرف شکایت لب پر لایا ہو۔ بچوں کے ہمراہ ہونے کے باعث میں غروب آفتاب کے بعد ہٹیاں چلا آیا۔ اگلے دن مجھے ایک دوست نے بتلایا۔ کہ کیسے گڑھی دوپٹہ گراؤنڈ چھوڑنے سے پہلے اُس کی مکمل صفائ کی گئی اور پھر روانگی کا اعلان ہوا۔

مظفرآباد سے چناری تک قافلے کا جگہ جگہ جس والہانہ عقیدت کے ساتھ استقبال ہوا وہ بھی شرکاء کارواں کو مدتوں یاد رہے گا۔ پھولوں کی پتیاں یوں نچھاور کی گئیں جیسے حریت قیادت انڈین کشمیر سے آ رہی ہو۔ جگہ جگہ پانی، شربت اور بعض مقامات پر فروٹ سے شرکاء کارواں کی تواضع ہوتی رہی۔ جہلم ویلی کے اطراف کے گاؤں سے خواتین، بچے بوڑھے جگہ جگہ نم آنکھوں اور بلند ہوتے ہاتھوں کے ساتھ شرکاء مارچ کی سلامتی کے لیئے دعا گو نظر آئے۔

میں مظفرآباد سے چکوٹھی ہونے والے پہلے دو فریڈم مارچز کا بھی عینی شائد رہا۔ اور بالترتیب دونوں مواقعوں پر باقیوں کے علاوہ اپنے خُوبرو دوست اور کلاس فیلوز مرزا سجاد انجم اور راجہ سجاد کو دھج سے مقتل میں جاتے دیکھا۔ نوے میں این ایس ایف کے سات جوان کنڑول لائن توڑنے میں کامیاب بھی ہوئے۔ ۹۲ء میں جب کنٹرول لائن کو پچھاڑنے کا دوبارہ اعلان امان صاحب نے کیا۔ میں تب بھی قافلہ میں شریک تھا۔ عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر جب اپر اڈا مظفرآباد سے روانہ ہوا۔ تو تا حد نگاہ سر ہی سر نظر آ رہے تھے۔

لبریشن فرنٹ کے آزادی مارچ میں شرکاء مظفرآباد سے سرینگر کی جانب روانہ ہو رہے ہین۔ تصویر بشکریہ امیر الدین مغل

آنکھوں ششدر تھیں کہ خودمختار کشمیر کا نظریہ کشمیریوں کو اتنا محبوب ہے۔ فورسز نے ماضی کے تجربہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس بار بیک فٹ کے بجائے فرنٹ فٹ پر کھیلنے کی حکمت عملی تہہ کی تھی۔ چکوٹھی کے بجائے جسکول پُل( چناری سے دو کلو میٹر آگے) پر سر بکف نوجوانوں کے لیئے حد متارکہ متعین کی گئی۔ اُس بار سات زندگیوں کے چراغ گُل ہوئے اور سینکڑوں زخمی، جن میں فولادی عزم کے حامل ہمارے دوست افضال ہمدانی اور زاکر نقوی بھی شامل تھے۔

قتل گاہوں سے چُن کر ہمارے عَلم
اور نکلیں گئے عشاق کے قافلے

اس مختصر تاریخ کو زہن میں رکھتے ہوئے اِس مرتبہ مجھے مظفرآباد سے ہی اُن لمحات کا انتظار تھا۔ کہ چیئرمین جے کے ایل ایف اس بڑی رکاوٹ سے پہلے اپنے جانباز و سرفروش ساتھیوں سے کیا آخری خطاب کریں گئے۔ جو ایک بار پھر اس عزم کے ساتھ گھروں سے نکلے ہیں کہ”

سر فروشی کی تمنا اب بھی ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زورکتنا بازوئے قاتل میں ہے

بالآخر چناری کالج گراؤنڈ میں وہ لمحات میسر آ ہی گئے۔ جب چیئرمین توقیر گیلانی کو دیکھنے، سننے کا موقعہ میسر آیا۔ یاد رہے مجھے پلمنے کی اگر عادت ہوتی تو راستہ میں کہیں بھی یہ موقعہ یا ہینڈ شیک دستیاب ہو سکتا تھا۔ لیکن مجھے دیکھنے سے زیادہ سُننے کی خواہش تھی۔

جے کے ایل ایف کے میر کارواں کا خطاب اُسکے عہدے کے شایان شان تھا۔ سانولی رنگت، متوازن قد اور جسم کے حامل اس جوان نے جب مائیک ہاتھ میں لیا۔ تو ابتدائیہ سے ہی سامعین کی پوری توجہ حاصل کر لی۔ میں نے اپنے چند دوستوں کے ہمراہ بغیر ایک قدم دائیں بائیں اُٹھائے پوری توجہ سے اُسے سُنا۔ یہ کوئ سیاسی خطاب نہیں تھا اور نہ ہی اس میں رتی بھر دکھلاوا یا جوہر خطابت سے کسی کو متاثر کرنے کی کوشش تھی۔ یہ اُس جوان کی پُکار تھی جس کا سینہ دھرتی ماں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر جذبات سے چھلنی چھلنی تھا۔

یہ اُس جوان کا واویلا تھا جو عالمی سامراج کا ضمیر جھنجھوڑنے سے زیادہ اپنوں کی بے حسی کا ماتم کر رہا تھا۔ اُسے شکوہ تھا کہ آزادی کے لیئے دو چار دن کا نہیں، دو چار سالوں جتنا لانگ مارچ کرنے کا عزم ہونا چائیے۔ اُسے اپنوں سے گِلہ تھا کہ ہماری پیاس بیچی گئی۔ ہمارا فرات بیچا گیا۔ اب ہمارے لہو کو بیچنے کا پلان بن رہا ہے۔ الغرض اُس کے ایک ایک لفظ سے اخلاص اور وطنیت کی خوشبو آ رہی تھی۔ وہ تھا تو خودمختار کشمیر کے نظریات کا علمبردار، پر اب ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے رائے شماری اور اُس کے نتیجہ میں ہونے والے فیصلہ پر سر تسلیم خم کرنے کو تیار تھا۔

جو رُکے تو کوہ گراں تھے ہم، جوچلے تو جاں سے گُذر گئے
رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا

(نوٹ: یہ مضمون مصنف کی پیشگی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا سے کاپی کر کے لگایا گیا ہے۔ کشمیریت پر ایسے مضامین شیر کرنے کا مقصد، حالات حاضرہ کے حوالے سے مضامین کو محفوظ رکھنا ہے تاکہ تاریخی اسناد کے طور پر استعمال کیا جا سکتے۔ اگر صاحب مضمون یا کسی بھی شخص کو کاپی رائٹس پر اعتراض ہو تو رابطہ کرنے کے بعد مضمون ہٹایا جا سکتا ہے، شکریہ)

تصاویر: بشکریہ امیر الدین مغل