151

امریکی صدر کا کشمیریوں کے متعلق بیان اور کنفیوزن

امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس کے دوران واشگاف الفاظ میں کہا کہ “کشمیری میں لوکھوں لوگ بستے ہیں جو کسی دوسرے کی حکمرانی چاہتے ہین”۔ دوسرے لفظوں میں شاید ٹرمپ کو یہ لگا ہو کہ یہ لوگ اپنی حکمرانی کرنے کے قابل نہیں ہیں مگر ٹھہریے یہ بات اتنی سادہ بھی نہیں ہے۔

امریکی سڈر ڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر پر گفتگو کر رہے ہیں۔

اس وقت پوری دنیا مسئلہ ریاست جموں کشمیر سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔ جہاں ایک طرف انسانی حقوق کے کارکن، سول سوسائٹیز کے لوگ اور درد دل رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ کشمیر کے اوپر پاکستان اور بھارت نے مل کر قبضہ کیا ہوا ہے وہیں ان کی ریاستیں ایک دوسرے زاویے سے مسئلہ ریاست جموں کشمیر کو دیکھتی ہیں اور ایسا کرنے میں جو کئی عوامل کا حصہ ہے۔

1- جیسا کہ انہیں بتایا جاتا ہے، انہیں بتانے والے کون ہیں؟ جواب سادہ سا ہے پاکستان اور ہندوستان کے حکمران۔ ریاست جموں کشمیر کے کسی شہری کو بھی سرکاری سطح پر ان لوگوں تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ اور نہ ہی ان کے پاس ایک غیر سرکاری یا عام آدمی کی بات سننے کا وقت ہے۔

2۔ جیسا کہ انہیں بتایا جاتا ہے اور ان کو بتانے میں دفتر خارجہ کا عمل دخل ہوتا ہے، ہر ملک کے متعلق ان کی خارجہ پالیسیز ہوتی ہیں اور یہ پالیسیز باہم دلچسپیوں اور معلومات کے تبادلے ترتیب پاتی ہیں تو جیسی ان کے پاس معلومات ہوتی ہے ویسے ہی وہ قوانین بناتے ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ سعودی عرب اور دبئی جیسے مسلم ممالک بھی مسئلہ کشمیر کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہیں۔

3- دونوں فریقین کے درمیان ہونے والے معاہدات: جب دو فریق کسی ایک نقطے پر راضی ہو جاتے ہیں تو وہ معاہدہ کر لیتے ہیں جو کہ ان دونوں فریقین پر لاگو ہوتا ہے۔ اب کوئی تیسر شخص یا غیر فریق ان دونوں کے درمیان کشیدگی یا تعلقات کو ان معاہدوں کی رو سے دیکھتا ہے اور کسی ممکنہ تصفیہ کی شکل بھی انہی معاہدوں سے اخذ کی جاتی ہیں۔ اس وقت بین الاقوامی برادری مسئلہ کشمیر کو شملہ معاہدہ کے تناظر میں بھارت اور پاکستان کا زمینی جھگڑا تسلیم کرتی ہے ریاست جموں کشمیر کی ایک حیثیت اور اس میں بسنے والے لگ بھگ دو ارب لوگوں کا مسئلہ۔

4- بین الاقوامی قوانین کی رو سے ان دونوں فریقین کے درمیان معاملات کس نوعیت کے ہیں، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ ریاست جموں کشمیر کی نوعیت آرٹیکل چھ کے مطابق طے کی گئی ہے۔ اس میں صرف دو فریق ہیں یعنی ہندوستان اور پاکستان جبکہ تیسرا کوئی فریق نہیں ہے۔

5-ڈونلڈ ٹرمپ نے ذکر کیا کہ مسئلہ کشمیر ایک مذہبی مسئلہ ہے اور مذہب ایک پیچیدہ سبجیکٹ ہے۔ یعنی ٹرمپ صاحب کو یہ بتایا گیا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے اندر جو تحریک ہے اس کا اصل محرک مذہب ہے اور مذہب کی وجہ سے وہاں معاملات پیچیدہ ہیں، جبکہ ریاست کے دیگر لوگ بھی ریاست کی آزادی اور اس کی 1947 والی پوزیشن کی بحالی پر یقین رکھتے ہیں۔ اس صورت میں ٹرمپ زمینی معروضی حالات سے تو آگاہ نہیں ہو گا۔ اس کا علم خارجہ بریفنگز تک ہی محدود ہو گا۔

اب ان نکتوں کے بعد اصولوی طور پر ٹرمپ کا بیان ٹھیک ہے لیکن اس میں ایک پہلو ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کا بھی نکل رہا ہے جن کی حیثیت اس وقت بین الاقوامی براداری تسلیم کر رہی ہے اب ہمیں سوچنا یہ ہے کہ ہم نے ریاست جموں کشمیر کی آزادی کی تحریک کو کونسا رنگ یا موڑ دینا ہے۔ خارجہ امور انہی دو ممالک تک رکھنے ہیں یا پھر انہیں اپنے ہاتھ میں لے کر بین القوامی دنیا کو ایک تیسرا رنگ بھی دکھانا ہے۔