143

نہتے لڑکوں سے خوف زدہ حکمران

13 ستمبر 2019،یونیورسٹی گرائونڈ مظفرآباد، تین ہزار کا مجمع ، دس سے بارہ لڑکے اپنے ایک نعرے سے مصنوعی سہارے پر کھڑے نظام کو زمین بوس کر دیتے ہیں ، کاغذی پھولوں کی اصلیت کا دھڑن تختہ ہوتا ہے ۔۔۔رد عمل کیا خوب ہے، گرفتاریاں ، تشدد ، غلیظ گالیاں کیا یہ آزادکشمیر کا اصل چہرہ ہے ؟ ۔۔۔۔۔کیا یہ آزاد کشمیر کی آزادی ہے؟ کیا یہ اظہار رائے اور شخصی آزادیوں کا وہ چہرہ ہے جو ہمیں اکثر دکھایا جاتا ہے ؟

میں سلام پیش کرتا ہوں ان بچوں کو جنہوں نے خوف جبر اور دوہرے معیار کو چیلنج کیا ۔
آزادکشمیر میں اظہار رائے اور انسانی حقوق کی آزادیوں کے جھوٹے دعوے کی اصلیت دکھائی۔ بڑی بڑی باتیں کرنے والوں کے چہروں سے نقاب اتارے ۔

تم گھروں کو بھرو تو محبت وطن ہم گھروں کو لٹائیں تو غدار

تم لہو جو پیو تو محب وطن ہم جو نعرہ لگائیں تو غدار ۔۔۔
آزادی اور خودمختاری کے نعرے سے اتنی پریشانی کیوں؟اس آواز میں ایسی کیا طاقت ہے کہ حکومت آزاد کشمیر اور ارباب اختیار خوفزدہ ہو کر تشدد پر اتر آتے ہیں اگر یہ نعرہ ارباب اختیار کے نزدیک اس قدر ناپسندیدہ ہے تو آزادکشمیر سے لے کر دنیا بھر تک ہر اسٹیج سے جو حق خودا رادیت کی بات کی جاتی ہے اسے کیا نام دیا جائے ؟؟؟؟

نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکن کامران مغل گزشتہ دو روز سے لاپتہ ہیں انہیں نامعلوم افراد نے ان کے گھر سے اٹھا لیا تھا۔

بھارت اپنے زیر قبضہ علاقوں میں جو ظلم کر رہا ہے اس کی وجہ آزادی کا مطالبہ ہے جس کی سزا بھارت کے نزدیک گرفتاریاں اور تشدد ہے ۔۔۔آپ کے نزدیک بھی اگر آزادی کا مطالبہ جرم ہے تو پھر فرق آپ خود کریں ہم کہیں گے تو گستاخی ہو گی۔

ارباب اختیار کو یہ ذہن میں رکھنا ہو گا کہ تشدد سے خوف وجبر کی فضا پیدا کر کے اپنے قومی جرم اوربزدلی کو پوشیدہ رکھنے کی ان کی خواہش پوری نہیں ہو گی۔۔۔ یہ پرامن لوگوں کا خطہ ہے اسے پرامن رکھنے کا واحد حل لوگوں کی خواہشات کا احترام ہے۔پونچھ تیتری نوٹ لائن آف کنٹرول کی طرف 20سے 25ہزار لوگوں کے اجتماع کے خوف سے فرار کا راستہ نہتے بچوں پر تشدد نہیں،۔اگر ان غیرت مند لوگوں نے دارلحکومت مظفرآباد کا رخ کر لیا تو پوزیشن کیا ہو گی ؟؟؟

حقیقت لائن آف کنٹرول کی طرف ہر احتجاج یہ ثابت کرتا ہے کہ جموں کشمیر ناقابل تقسیم وحدت ہے، موجودہ جبری تقسیم جموں کشمیر کے لوگوں کے لیے ناقابل قبول ہے ۔ 5اگست کے بعد جو کچھ ہوا یا جو کچھ ہو رہا ہے سب جانتے ہیں کہ یہ جائنٹ وینچر ہے ، شہ رگ کا دعویٰ کرنے والے سری نگر اور جموں سے دستبردار ہو چکے ہیں ، آزادکشمیر کے حکمران اور سیاستدان اپنے لوگوں سے سچ نہیں بول رہے، اسی لیے ہمارے نہتے بچوں کے سچے نعروں سے خوفزدہ ہیں ۔ تشدد کرنے والے پولیس اہلکار معصوم اور بے بس ہیں ، ان کا سرمایہ جہاں اور زندگی چند ہزار کی سرکاری نوکری ہے ،ہم انہیں مورد الزام نہیں ٹھہراتے اس یقین کے ساتھ کہ ان ہی کے گھروں میں غیرت اور حمیت کے علمبردار جنم لیں گے، لیکن آج کی تاریخ آزادکشمیر کے ان غداروں کو اپنی نظر میں رکھے ہوئے ہے ۔۔۔

جو اپنے اقتدار اور سیاست بچانے کے لیے خاموش ہیں ۔ہمارے نزدیک الحاق پاکستان کا نظریہ قابل احترام لیکن الحاق پاکستان کے حامی سیاستدانوں کو یہ ضرور معلوم ہونا چاہیے کہ تقسیم کشمیر کے خلاف آواز اٹھانے سے نظریہ الحاق پاکستان پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہاں یہ اور بات ہے اگر کشمیر بنے گا پاکستان کا نظریہ تقسیم کشمیر میں بدل چکا ہے اور اب اس پر آزادکشمیر کے حکمرانوں سے انگوٹھا لگوانے کے لیے زمین ہموار کی جا رہی ہے۔ واللہ ۔۔۔۔۔ کس قدر کمزور ہیں، کس قدر بزدل ہیں ، یہ آزادکشمیر کے حکمران ۔۔۔۔جہاں بات کرنی ہو وہاں ان کی شلواریں گیلی ہوتی ہیں ۔ ایک حکم شاہی کیا آیا ۔۔۔۔سب کی زبان بند ۔۔۔ دلائل تبدیل۔۔۔۔ نظریئے تبدیل ۔۔۔آزادی کے لیے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کی وہ بڑھکیں تحلیل۔


رہبری ، رہنمائی کے سارے کردار بے نقاب ہوئے ، قیادت کے سارے دعوے زمین بوس ہوئے ۔۔۔اور اب کپکپاتے ہونٹوں، خشک زبانوں ، نظریں چراتی آنکھوں ،بے ضمیر جسموں کے ساتھ نسل نو کی آزادی کے نعروں کے سامنےاحساس ندامت لیے زندہ لاشوں کی شکل میں ایک ڈھیر پڑا ہوا ہے۔ مگر ڈھٹائی دیکھیے لوگوں کی امیدوں اور جزبات سے کھیلنے والے ، آزادی کو کاروبار بنانے والے اب نئے کنٹریکٹ کے ساتھ میدان میں اترنا چاہتے ہیں کہ ’’آزادی پسند غداروں” کو مٹایا جائے گا لیکن یہ ذہن میں رہے نئی نسل انہیں پہچان چکی ہے ،تیتری نوٹ ریلی اور اپر اڈا میں 13ستمبر کو چند لڑکوں کا بے خوف ہو کر آزادی کا نعرہ اس کی سب سے بڑی دلیل ہے۔