دسمبر 2019میں عسکری پس منظر کے حامل آزادکشمیر کے سابق صدر سردار انور خان سے ایک طویل نشست ہوئی‘انتہائی محتاط گفت گو کے باوجود سردار انور خان نے یہ تسلیم کیا کہ کشمیر کے بارے میں غیر مقبول فیصلہ کیا جا رہا ہے۔
Author: عبدالحکیم کشمیری
21توپوں کی سلامی تو بنتی ہے
محترم فاروق حیدر خان کی طرف سے نامزد بدعنوان آفیسران تین سال سے نہ صرف بھرپور راحت میں ہیں بلکہ ترقیابی سے بھی فیض یاب ہوئے۔سینکڑوں نہ سہی درجنوں مثالوں میں ایک مثال ڈپٹی وزیر اعظم راجہ امجد پرویز کی ہے جو ان ہی تین سال میں نامزد بدعنوان آفیسران کی فہرست میں سے نکال کر پرنسپل سیکرٹری کے عہدے پر فائز کیے گئے۔
ہم بندوق تو نہیں اُٹھا سکتے
چند مناظر جو کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کیے۔ایک ویڈیو کلپ میں پولیس لوگوں کو ایک ہوٹل کی دوسری منزل سے اتار کر بے رحمانہ تشدد کرتی ہے،ایک اور ویڈیو کلپ ایک شخص جو پرامن اور خالی ہاتھ کھڑا تھا اس کے سر میں اچانک ایک پولیس والے نے زور دار ڈنڈامارا جس کے بعد مذکورہ شخص ذبح کیے ہوئے مرغ کی طرح چند سیکنڈ کیلئے ہاتھ پاؤں مارتا ہے اور پھر ساکت ہو جاتا ہے
نہتے لڑکوں سے خوف زدہ حکمران
بھارت اپنے زیر قبضہ علاقوں میں جو ظلم کر رہا ہے اس کی وجہ آزادی کا مطالبہ ہے جس کی سزا بھارت کے نزدیک گرفتاریاں اور تشدد ہے ۔۔۔آپ کے نزدیک بھی اگر آزادی کا مطالبہ جرم ہے تو پھر فرق آپ خود کریں ہم کہیں گے تو گستاخی ہو گی۔
مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ کا کردار
جنوری 1951ء میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کو ممکن بنانے کے لیے دولت مشترکہ کے وزرائے اعظم نے ہرممکن سفارتی کوشش کی کہ وہ دونوں ملک فوجوں کو غیر مسلح کرنے اور انخلا پر رضامند ہو جائیں۔ اس ضمن میں انہوں نے دونوں ملکوں کے سامنے درج ذیل تجاویز پیش کیں کہ وہ ان میں سے کسی ایک کو تسلیم کر لیں۔
کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر جذباتی فضاء …مگر!!
عبوری آئین 1974بلکہ 13ویں ترمیم کے بعد آزادکشمیر کے پاس جو اختیارات ہیں انہیں دیکھا جا سکتا ہے؟کہ آزادکشمیر کہاں کھڑا ہے۔۔۔۔دلچسپ بات یہ 1954میں جب آرٹیکل 370سامنے آیا تو مخالفت کی گئی آج ختم ہوا پھر بھی مخالفت۔اس پار کی آئین ساز اسمبلی کو تو 5اگست 2019کو قانون ساز اسمبلی میں بدلا گیا ہمارے ہاں تو پہلے دن سے قانون سازاسمبلی ہے۔
لطیفوں کی دنیا : عبد الحکیم کشمیری
2200کرپشن کے مقدمات کی فائلیں دفتر داخل ہو گئیں ۔ کوئی ایک نامزد سیاستدان گرفتار نہیں ہوا ، جس پر سب سے زیادہ الزام عائد کیے گئے تھے اسے اپوزیشن لیڈر بنا دیا ۔۔۔ یہ جنوری 2019کی بات ہے جب اڑھائی سال بعد اعلان کیا کہ میں احتساب نہیں کروں گا۔۔۔ہے نا زبردست لطیفہ
کیا آزادکشمیر کی محدود شناخت بھی دائو پر ہے
وزیراعظم اپنے ارباب اختیار سے دوٹوک انداز میں یہ بات بھی کریں کہ انتظامی رشتوں کے معاہدوں کی توہین ایسا عمل ہے جس سے نفرت جنم لے گی ، احساس محرومی بڑھےگا۔۔۔۔۔۔۔اور اس کے نتائج کبھی بھی اچھے نہیں ہوتے۔
تماشائی اور تماشا
جس ضرورت کے لیے آپ 9ارب 50کروڑ خرچ کر رہے ہیں اس کا بجٹ صرف 50کروڑ کا ہندسہ ہے ، پھر اتنے بڑے نظام اور اتنے بڑے بجٹ کا فائدہ۔۔۔۔۔ کیا دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات ہیں
پیڑ کاٹنے آئے ہیں کچھ لوگ میرے گائوں میں
پیڑ کاٹنے آئے ہیں کچھ لوگ میرے گائوں میں
ابھی دھوپ تیز ہے بیٹھے ہیں اس کی چھائوں میں