166

کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر جذباتی فضاء …مگر!!

اس خطے کا ایک خاص مزاج ہے کوئی بیمارملے تو ہم سب اپنے نسخے پیش کر کے ڈاکٹر بن جاتے ہیں۔اسلام کی حقیقی روح پر عمل کریں یا نہ کریں مسلک پر جان دینے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔رمضان المبارک آئے تو اشیائے ضرورت مہنگی کر کے نماز اور روزے کے ساتھ افطاری کا مکمل اہتمام کرتے ہیں مگر غریبوں کا خیال بہت کم رکھتے ہیں۔۔۔دین،معیشت،سماج، بین الاقوامی تعلقات اور بالخصوص مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے ہم میں سے ایک بڑی تعداد کے پاس حقائق کے برعکس جذباتی اور”عقل کل“کے مائنڈ سیٹ کے ساتھ دلائل کا ڈھیر ہوتا ہے۔گرچہ عام آدمی کی اس طرح کی گفتگو قابل ذکر نہیں مگر خاص الخالص اور اہم عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں کی حقائق کے برعکس گفتگو ہمارے اجتماعی مزاج کا آئینہ ہے۔

5اگست 2019 کو ہندوستان نے اپنے زیر انتظام 1لاکھ ایک ہزار مربع کلو میٹر پر محیط ریاست جموں وکشمیر کی اپنے آئین میں موجود خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے ہندوستان میں ضم کرنے کا بل پاس کیا،جبکہ ریاست جموں وکشمیر کے 59ہزار 196مربع کلو میٹرپر محیط لداخ کوبراہ راست انڈین یونین کا علاقہ قرار دیا۔آرٹیکل 370میں ترمیم کر کے جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی اور 35اے کو مکمل ختم کردیاجس سے ایک کروڑ 45لاکھ سے زائد باشندگان بھارتی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی شہری حیثیت (اسٹیٹ سبجیکٹ)ختم ہو کر رہ گئی۔

پہلے دیکھتے ہیں آرٹیکل 370کیا ہے،آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق دفعہ 370ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کا تعین کرتی تھی جس کے تحت ریاست جموں وکشمیر کے خارجی امور،دفا ع اور کرنسی ہندوستان کے پاس تھے جبکہ دیگر تمام اختیارات بھارت کے زیر انتظام جموں وکشمیر کی اسمبلی کے پاس تھے۔ہندوستان کی طرف سے دفاع خارجہ امور اور مالیات سے ہٹ کر کسی بھی معاملہ پر کوئی بھی قانون ریاستی اسمبلی کی منظوری سے مشروط تھا جبکہ 35اے بنیادی طور پر اسٹیٹ سبجیکٹ رولز کو تحفظ دیتا تھا جس کے تحت ریاست جموں وکشمیر کا ہر شہری ہی ریاست کی زمین اورملازمت حاصل کرنے کا حقدار تھا کوئی بھی غیر کشمیری ریاست جموں وکشمیر میں نہ تو زمین خرید سکتا تھا اور نہ ہی ملازمت حاصل کر سکتا تھا۔یہ قانون تادم تحریر آزادکشمیر میں موجود ہے۔

آرٹیکل 370تقسیم کشمیر کے سات سال بعد 1954میں 27اکتوبر 1947کے معاہدہ الحاق ہندوستان کی روشنی میں ہندوستان کے آئین کا حصہ بنا ۔5اگست 2019کو جب اسے ختم کیا گیا تو جذباتی فضاء دیکھنے میں آئی۔ایک سے بڑھ کر ایک بیان سامنے آیا۔تبصرے،تجزیے،مسئلہ کشمیر ختم،کشمیر تقسیم ہو گیا،ٹی وی چینلز سیاسی و سفارتی حلقوں اور عام آدمی کی گفتگو کا عنوان ہیں۔ایسی منظر کشی کی جا رہی ہے گویا قیامت آگئی ہو۔میرے نزدیک ایسا کچھ بھی نہیں ہوا نہ اس سے کوئی مسئلہ کشمیر پر فرق پڑا۔لیکن اس کے ردعمل میں اس خطہ کی لیڈر شپ کا بیانیہ تضادات سے بھرپور تھا ۔وزیر اعظم آزادکشمیر کا یہ بیان کہ اب بھارت کا کشمیر پر کوئی حق نہیں رہا۔۔۔۔۔گویا اس سے پہلے حق تھا؟،صدر ریاست کا بیان تھا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے بھارت کا چہرہ بے نقاب ہو گیا،صدر ریاست،وزیر اعظم اور وزراء کی محکمہ تعلقا ت عامہ کی طرف سے جو سرکاری پریس ریلیز سامنے آئیں ان کے الفاظ تھے کہ”صدر اور وزیر اعظم نے دفعہ 370کے خاتمہ کے بعد کی صورتحال پر فلاں سے ملاقات کی اور کہا“………… 06اگست کو فاروق حیدر کی پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے جو خبرجاری کی اس میں ایک جملہ ہے ”بھارت نے دفعہ 370ختم کر کے یہ ثبوت دیا کہ کشمیر پر اس کا قبضہ جابرانہ ہے“

بھائی دفعہ 370معاہدہ الحاق ہندوستان سے وجود میں آتا ہے۔ہم اس معاہدے کو تسلیم ہی نہیں کرتے تو پھر دفعہ 370زیر بحث کیوں؟کاش ہماری لیڈر شپ کبھی کشمیر سے جڑے معاملات پر سنجیدگی سے مطالعہ کرتی۔ہمارا اصل ایشو 35اے تھا اس پر بات کرنی تھی اور بات کرنی چاہئیے۔اس لئے جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا ہندوستان اپنے زیر انتظام علاقوں کی آبادی کی ہیئت نہ تبدیل کر سکے،لیکن اس پر بات کرنے کیلئے اخلاقی حیثیت کو دیکھنا ہوگا۔کیسے آئیے دیکھتے ہیں۔

سچ یہ ہے کہ میں بھارت سے الحاق کی دستاویزات کو تسلیم ہی نہیں کرتا اس کی بہت سی دلیلیں ہیں کہ اس وقت بغاوت ہو چکی تھی ہری سنگھ نے اگر معاہدہ کیا تو سرینگر سے بھاگتے ہوئے کیا۔۔۔26اکتوبر 1947کو ہری سنگھ رات گئے بھاگ گیا تھا 27اکتوبر 1947کو ہندوستانی فوجیں سرینگر اتریں۔مورخین کے نزدیک 22اکتوبر سے 27اکتوبر تک مہاراجہ ہری سنگھ کی ہندوستان کی کسی اعلیٰ شخصیت سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔دوسری بات یہ کہ معاہدہ تقسیم کی روح کے مغائر تھا جس میں عوام کی رائے کو مدنظر رکھا جانا ضروری تھا۔

ایک ایسا معاہدہ جسے آزادکشمیر اور پاکستان کی قیادت نے کبھی تسلیم نہیں کیا اس کی کوکھ سے جنم لینے والی دفعات پر اتنا شور کیوں؟لیکن اس کے ساتھ کچھ سچ اور بھی ہیں۔1947؁ء کے بٹوارے کے بعد معاہدہ کراچی چوہدری غلام عباس اور سردار ابراہیم نے کیا جس میں گلگت بلتستان سے عملداری ختم ہوئی کیا وہ 5اگست 2019کے بھارتی اقدام کی طرح کا ایک عمل نہیں تھا۔گزشتہ صدی کی آٹھویں دہائی میں گلگت بلتستان سے اسٹیٹ سبجیکٹ ختم کر دیا گیا اس پر کیا جواب ہوگا۔

گلگت بلتستان آرڈر 2018میں گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی اگر کوئی قانونی بنائے اور وزیر اعظم پاکستان اسی معاملہ پر کوئی قانون سازی کریں تو اسمبلی کا قانون کا لعدم ہوگا۔

عبوری آئین 1974بلکہ 13ویں ترمیم کے بعد آزادکشمیر کے پاس جو اختیارات ہیں انہیں دیکھا جا سکتا ہے؟کہ آزادکشمیر کہاں کھڑا ہے۔۔۔۔دلچسپ بات یہ 1954میں جب آرٹیکل 370سامنے آیا تو مخالفت کی گئی آج ختم ہوا پھر بھی مخالفت۔اس پار کی آئین ساز اسمبلی کو تو 5اگست 2019کو قانون ساز اسمبلی میں بدلا گیا ہمارے ہاں تو پہلے دن سے قانون سازاسمبلی ہے۔

ان باتوں کا مقصد ہندوستان کی حمایت قطعاً نہیں بلکہ سچ یہ ہے کہ ہمارے مہربان اپنے عمل سے اسی جگہ کھڑے ہیں۔چند ماہ قبل وزیر اعظم آزادکشمیر پر اعلیٰ سطحی میٹنگ جس کی صدارت غیر سیاسی شخصیت نے کی تھی گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کیلئے دباؤ ڈالا گیا،وزارت خارجہ کے ترجمان کی دلیل تھی کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے سے مسئلہ کشمیر پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تو اب کیسے فرق پڑ گیا۔۔سینئر قانون دان منظور گیلانی کہتے ہیں کہ حروف یعنی یکطرفہ قانون سازی سے ریاست کی جغرافیائی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا،درست مگر میرے نزدیک ایک مخصوص عرصہ کے لیے فرق اس وقت پڑتا ہے جب جائنٹ وینچر ہو ۔

پاکستان کے نامور آرٹیکل رائیٹر وسعت اللہ خان کا حالیہ صورتحال پر ایک کالم کچھ تاریخی حقائق سامنے رکھتا ہے۔مثلاً انڈونیشیاء نے ایسٹ تیمور پر قبضہ کیا اسے اپنا صوبہ بنایا اور پھر ایک طویل جدوجہد کے بعد ایسٹ تیمور آزاد ہو گیا۔عدالتی فیصلوں اور آئین سازی سے اگر قوموں کو غلام رکھا جا سکتا تو آج دنیا میں 200کے قریب ممالک کا وجود نہ ہوتا۔برطانیہ کی ہندوستان پر قبضے کے بعد قانون سازی ابھی سات دہائیاں قبل کی بات ہے۔موجودہ حالات میں آرٹیکل 35اے کا خاتمہ ہمارے لئے اس لئے چیلنج ہے اس لئے کہ ہندوستان جموں وکشمیر کی آبادی کی ہیئت آئندہ دس سال بیس سال میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا۔لیکن ایک اور سچ یہ ہے کہ پالیسیی ساز اور اس خطہ میں مسئلہ کشمیر جن کی ملکیت ہے کا ایجنڈا بالکل مختلف نظر آتا ہے۔وہ آزادکشمیر کو صوبہ بنانے کی حکمت عملی لیے دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہے ہیں۔بہت عرصہ قبل ایک سوال سامنے آیا تھا کہ اگر سرینگر کے مزاحمت کار دہلی کے ساتھ مذاکرات کر کے کسی دوسرے راستے کا انتخاب کرتے ہیں تو آزادکشمیر کا مستقبل کیا ہوگا۔اس کا ایک ہی جواب تھا صوبہ۔

1947سے 2019تک کا ریکارڈ دیکھا جائے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ تحریک ہماری تھی ہی نہیں۔غلط پالیسی سے یہ انڈسٹری کی شکل اختیار کر گئی تھی جس کا ایندھن بحیثیتِ قوم ہم باشندگان ریاست جموں کشمیر تھے۔ بیس کیمپ کی حکومتیں اربا اختیار کی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں کا عملی نمونہ رہیں ہم نے سفارتی موقف کے برعکس جہادی پریکٹس کے اثرات کے بارے میں درجنوں مرتبہ آگاہ کیا۔غدار اور انڈین ایجنٹ قرار دیا گیا۔ہم غلط سہی مگرگزشتہ ایک دو سال میں اپنی ہی بنائی ہوئی جہادی پالیسی کو ختم کر کے کشمیریوں کو بھارت کے رحم و کرم پر چھوڑنے والے مجرم کب کٹہرے میں آئیں گے۔جہاد سے قطعاً انکار نہیں پرامن جدوجہد بھی جہاد ہوتی ہے۔لیکن غیر کشمیری جہادی تنظیموں کو کشمیر میں لانے کا یہ نتیجہ نکلا کہ کشمیری جہادی تنظیموں کے الائنس متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ صلاح الدین کو بھی دہشتگرد قرار دیا گیا۔یہ آخری کیل تھا جس کے بعد مہربانوں کی اپنی آزادی کی تحریک دہشتگردی میں بدل گئی۔1990 کے بعد پرامن جدوجہد کی حامی تنظیموں کو ختم کیا گی .

اپنے بیانیے کی جنگ غلط حکمت عملی کے تحت لڑی گئی جس کی قیمت سرنگر وادی نیلم اور ایل او سی پر ہم نے ادا کی۔کاش ہم پر اعتبار کیا جاتا ۔ خارجی موقف کے عین مطابق اہل کشمیر کی سیاسی اور سفارتی حمایت کی جاتی تو شاید آج جو پوزیشن ہے وہ نہ ہوتی۔غلط پالیسیاں اور اس سے جنم لینے والے اثرات سے موجودہ حالت تک کچھ بھی نہیں بدلا۔اگر آج بھی صاف نیت سے کشمیر پالیسی ترتیب دی جائے اہل کشمیر کو اپنے فیصلے کرنے میں آزادی دی جائے تو قومی آزادی کی تحریک شروع ہونے کا پہلا دن 5اگست 2019ہو سکتا ہے۔ہاں اگر ادھر تم ادھر ہم پر اتفاق ہو چکا ہے اور یہ سارا کھیل اہل کشمیر کو مطمئن کرنے کیلئے ہے تو باشندگان ریاست جموں وکشمیر کو طویل جدوجہد کیلئے تیار رہنا ہوگا۔