Abdul Hakeem Kashmiri 120

پیڑ کاٹنے آئے ہیں کچھ لوگ میرے گائوں میں

پیڑ کاٹنے آئے ہیں کچھ لوگ میرے گائوں میں 
ابھی دھوپ تیز ہے بیٹھے ہیں اس کی چھائوں میں

’’ شہ رگ پاکستان ‘‘کے لوگوں کو اس وقت جس صورت حال کا سامنا ہے وہ درج بالا شعر کے عین مطابق ہے۔ 

بحیثیت باشندگان ریاست جموں کشمیر ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں سے ایک بڑی تعداد کشمیری نہیں۔۔۔ ۔ہم دوکروڑ لوگ اٹوٹ انگ اور شہ رگ کے دعوئوں کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔ 

مظفرآباد اور اسلام آباد کے عشق کی داستان 70سال سے زائد عرصہ پر محیط ہے، اسلام آباد کے حکمرانوں نے کشمیر کے عشق میں قابل داد غزلیں لکھیں مگر عمل ہمیشہ اس کے برعکس رہا۔۔۔ البتہ پاکستان اور کشمیر کے باشندے محبت کے جس رشتے سے جڑے ہوئے ہیں وہ تادم تحریر لازوال ہے، اس لیے کہ ۔۔۔۔دونوں کے دکھ ایک جیسے ہیں ۔ باشندگان پاکستان کو جغرافیائی آزادی توحاصل ہے اور انہیں اب صرف بالادست طبقہ سے آزادی حاصل کرنا ہے، ہمارا مسئلہ باالکل مختلف ہے، ہم منقسم ہیں، ہمارے درمیان ریجنل گیپ ہے، شناخت اور ریاست کی وحدت کی بحالی کے بعد آزادنہ طور پر اپنے مستقبل کا فیصلہ ہمارا حق خود ارادیت ہے ۔ 

لیکن اس سے قبل ہمارے وسائل سے ان دیکھے جبر کے ذریعے ہمیں محروم رکھنا اور خوبصورت لفظوں سے محبت کے سراب کا شکار کرنا معمول ہے۔۔۔۔ 147میگاواٹ کا پترینڈ ،میرپورڈیم(منگلا ڈیم) 1000میگاواٹ ،نیلم 969میگاواٹ اور کوہالہ جس پر جلد کام شروع ہو گا 1124میگاواٹ۔۔۔۔ 2000میگاواٹ سے زائد بجلی شہ رگ سے پیدا کی جا رہی ہے ۔۔۔ جس کی آمدن ہمارے مجموعی بجٹ سے زائد ہے۔۔۔۔ لیکن ہمارا اس پر کوئی حق نہیں ۔۔۔۔ یہ محبت کی داستا ن ہے، یہ شہ رگ کی کہانی ہے۔

16جون 2019کو تفویض شدہ اقتدار کی حامل حکومت کی ضلعی انتظامیہ نے دریا بچائو دھرنے کے خلاف جو آپریشن کیا اس کی آئینی اور اخلاقی جوازیت کے حق میں کوئی دلیل نہیں دی جاسکتی۔۔۔۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکو مت آزادکشمیر اور اس کا مرکز آزادکشمیر کے لوگوں کو مطمئن کرنے میں ناکامی کے بعد طاقت کا استعمال کرنے پر مجبور ہوئے اب اس خطہ کے لوگوں کے پاس یہ حق ہے کہ وہ موجودہ نظام پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اپنے اصل کسٹوڈین اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے رابطہ کریں۔۔۔ مسئلہ اتنا بڑا نہیں جتنا اسے بڑھایا جا رہا ہے ، مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔۔ تعصب ،جبر ، تسلط کا مائنڈ سیٹ شہ رگ کے دعوے کے متضاد ہے، کچھ عرصہ تک جبر کے ذریعے ایسا ماحول اپنے حق میں رکھا جا سکتا ہے ، فتح پر شادیانے بھی بجائے جا سکتے ہیں،غداری کا لیبل پیوست کر کے من پسند نتائج بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔۔۔۔ لیکن یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ کبھی کبھی اچانک زمینی حالات تبدیل ہو جاتے ہیںاور تماشائی خود تماشہ بن جاتے ہیں۔دور جانے کی ضرورت نہیں 70سال میں ایسی بہت سی مثالیں ہیں.

آزادکشمیر کی حکومت کا ریموٹ اگر اپنے پاس ہی رکھنا ہے تو پھر اس ڈرامے کی کیا ضرورت ہے ؟کیا اس خطہ کی حکومت کوطویل المدت مقاصد کے لیے چند خاندانوں کی اکاموڈیشن کی حدتک محدود رکھنے کی حکمت عملی کے مضر اثرات پر غور کرنے کی ضرورت نہیں؟ دکھاوے کے مینڈیٹ کا کچھ تو بھرم رکھا جائے ۔۔۔۔۔ نیلم جہلم معاہدہ اور دریائے جہلم کے رخ کی تبدیلی کے حوالے سے جو بے بسی آزادحکومت کی دیکھنے میں آئی۔۔۔ اتنی بے بس تو کٹھ پتلیاں بھی نہیں ہوتیں۔۔۔۔ جو کچھ ہو رہا ہے اس کی امید تو تھی ہی لیکن اس سارے عمل میں جس بزدلانہ کردار کا مظاہرہ ہمارے’’ رہبران ملت و قوم‘‘ نے کیا وہ قابل افسوس ہے ۔۔۔ بڑے بڑے بول فارغ ، بڑے بڑے قد اقتدار کے لیے بونے بن گئے ، رہبری کے دعویدار رہزنوں کے ساتھ مل گئے۔۔۔۔۔ مہذب اور مثالی معاشرے کی باتیں کرنے والے 84دن کے دھرنے کو طاقت کا استعمال کر کے کچل دیتے ہیں ، سیاسی لیڈروں کی ایک بڑی تعداد سیاسی مستقبل بچانے میں مصروف نظر آئی ۔۔۔ کچھ اسے پاکستان دشمنی قرار دیتے ہوئے نظر آئے۔۔۔۔ افسوس وہ کردار پاکستان کے آئین کی دفعہ 161کا مطالعہ کر لیں جس کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اورہم سے معاہدے تک نہیں کیے جا رہے

اسلام آباد کے بندروں اور سوروں کے لیے مارگلہ ٹنل نہیں بنایا جاتا ، یہاں دریائے جہلم کا رخ طاقت کے بل بوتے پر تبدیل کیا جا رہا ہے ، وہ بول کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو؟۔۔۔۔گول ہو گئے ۔۔۔ہائے رے اقتدار ۔۔۔۔۔۔۔۔ آج تھانہ سٹی میں 23غیرت مند بیٹوں کو فرش پر بیٹھا ہوا دیکھا۔۔۔۔ میری آنکھیں محترم فاروق حیدر کو تلاش کر رہی تھیں اس لیے کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ نیلم جہلم کا معاہدہ نہ ہوا ، دریائے جہلم کا رخ تبدیل ہوا تو میں آپ کے ساتھ ہوں گا۔۔۔ لیکن۔۔۔شاید میری نظر کمزور ہے ، فاروق حیدر پر میرا یقین تھا کہ وہ اپنے لوگوں کے حقوق کا سودا نہیں کر سکتے اور باالخصوص مظفرآباد کے پانچ ستارہ ہوٹل میں ان کے آنسوںنے تو میرے یقین پر مہر ثبت کر دی تھی ۔۔۔۔مگر 

حق اچھا پر اس کے لیے کوئی اور مرے تو اور اچھا 
تم بھی کوئی منصور ہو جو سولی پہ چڑھو؟خاموش رہو