saran javed 307

برصغیر میں انتہا پسندی کا رجحان اور تاریخ

کیا ایسا ممکن ہو کہ سارے پاکستانیوں اور ہندوستانیوں کو ایک ایسا علاقہ دیا جائے جہاں پر وہ ایک دوسرے سے لڑیں اور کشمیر کو خالی کر دیں ، اگریہ ممکن نہیں ہے تو پھر کم از کم موہن بھگوت اور حافظ سعید کو ایک میدان میں ننگا کر کے چھوڑ دیا جائے جہاں پر یہ وہ دونوں فیصلہ کر سکیں کہ ان دونوں سے زیادہ ننگا کون ہے اکیسویں صدی نے انکے دہشت گرد دماغوں کو بہت حد تک ننگا کیا جا چکا ہے لیکں پھر بھی مجال کہ انکو ایک پاکستانی اور ہندوستانی کی نظر میں ننگا کیا جا سکے، ۔

بات کو اس وقت تک سمجھنا مشکل ہے جب ماضی کو ساتھ نہ جوڑا جائے ہندوستان ہمیشہ سے یہ رونا روتا رہا ہے کہ جو بھی دہشت گردی ہند وستان میں ہوتی ہے اس میں پاکستان ملوث ہے وہ دو جگہ سچا بھی ہے ممبئی حملے اور کشمیر کا جہاد کشمیر کا جہاد کے لیے سب سے پہلے قبائیلی استعمال ہوئے اور 1947 ہی کشمیر پر حملہ کر دیا جس کے درعمل انڈیا سے آیا اور فوج لے کر کشمیر پر حکومت کرنے لگی اوراس کے بعد آگے جو ہوا سب کے سامنے ابھی تک دونوں ملکوں کا کاروبار چل رہا ۔

اس طرح کشمیر کی تحریک مزمت جو 1988 میں شروع ہوئ جس کا نام حاجی گروپ پڑ گیا جس کی وجہ چار نوجوان تھے جن کو کافی شہرت ملی اور یہ حاجی ان نوجوانوں کے نام کا پہلا لفظ تھا حمید شیخ،اشفاق مجید وانی ، جاوید احمد میر اور یاسین ملک کا نام شامل ہے ، یہ وہ تھے جو سامنے تھے اسکو بنانے والے کوئی اورنہیں وہی تھے جنہیں سب جانتے ہیں۔ اس منصوبہ بندی میں امان اللہ خان،ڈاکٹر فاروق حیدر ، سردار رشید حسرت اور راجہ مظفرخان بھی برابر کے شریک تھے اور اس کی اعلی سطحی مٹینگز میں سی آئے اے کے ایجنٹوں کے شریک ہونے کے بارے میں بھی تاریخی کتب میں لکھا ہوا ہے ،اس کے بعد 26/11 کا واقعہ ہوا جس کا الزام پاکستان پر لگایا گیا ۔

اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر اطہر عباس کا بھی بیان آ گیا کہ اس حملے میں آئی ایس آئی کے سابق آفیسر ملوث ہو سکتے ہیں ، نواز شریف بھی چپ نہیں رہے اور وہ بھی تسلیم کر گئےکہ 26/11 کے واقعے میں پاکستان ملوث ہےاس طرح کچھ مہنیے پہلے پلوامہ واقع میں 42 انڈین آرمی کے جوانوں ہلاک ہوئے اور ذمہ داری قبول کرنے والی پاکستانی بیس مسعوداظہر کی جہادی تنظیم ہے جو 2000 میں بنائی گئی پھر اس پر پابندی لگی پھر اس کے دو اور گروپ بنے اور اب تین گروپ کام کر رہے ۔ پرویز مشرف نے خود بولا کہ آئی ایس آئی نے جیش محمد کی تربیت کی ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے یہ حملہ کشمیر نے نہیں کیا بلکہ پاکستان کی طرف سےہوا

پاکستان بھی بھارت کی خارجہ پالیسی سے سیکھ کر یہی کرتا ہے اور یہ بھی وہی موقف اپناتا ہے کہ ہندوستان دہشت گردی کروا رہا ہے اور یہ بھی کسی حد تک سچا دکھائی دیتا ہے جس میں کلبوشن یادیو ایک حقیقی روپ میں سامنے آتا ہے کلبوش کو مسلمان کا روپ دیا گیا اور اس طرح اے پی ایس پشاور کا واقعہ بھی اس الزام تراشی کی کڑی ہے جس میں 130 بچے شہید ہوتے ہیں اور پاکستان اس کا الزام ہندوستان پر لگا دیتا ہے ، اس کے علاوہ پاکستان کے موجودہ وزیر خارجہ بھی بہت دفعہ یہ بول چکے کہ ہندوستان بلوچستان میں دہشت گردی کرتا ہے۔آر ایس ایس بھی کسی کی نظر سے دور نہیں جو بنی تو 1925 میں لیکں ابھی بھی اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے اور بھارتی جنتا پارٹی اسی کا ہی سیاسی وینگ ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی آر ایس ایس کا دوسرا رخ ہے۔ اس کے بعد پاکستانی قوم طالبان کے ساتھ 18 سال سے لڑتی آرہی اس کے علاوہ وزیرستان آپریشن ، لال مسجد آپریشن اور سوات آپریش بھی اس دہشت گردی سے جنگ ہی کا نتجہ تھا

ہندوستانی بھی اپنے فوجیوں کو شہید کہتے ہیں اس کے باوجود ہندو ستانی کشمیر میں ہونے والے ظلم وستم کے ساتھ کھڑے میں وہ یہ نہیں بتاتے کہ انکی آرمی کشمیر میں ظلم کر رہی ہےجس کے نتیجے میں انکو بھی اپنے دفاعی بجٹ کا بڑا لگانا پڑتا ہے بھارت میں بھی غربت بھی عام ہے وہاں آر ایس ایس والوں کو قومی سطح پر ہیرو ہی تسلیم کیا جاتا ہے ،یہی حال اس قوم کا بھی جو دہشت گردوں کے ساتھ لڑ رہی اس کا بہت نقصان ہوتا ہے جانی بھی اور مالی طور پر اس کے علاوہ دفاعی بجٹ 1100 ارب سے کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے لیکں یہ قوم کشمیر کے دہشت گردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔

اس قوم کو لگتا ہے جو کشمیر میں دہشتگردی ہوتی ہے وہ جہاد ہے اور اس سے کشمیر آزاد ہو جائے گا ۔ یہان پر طالبان دہشت گرد ہوتے ہیں کشمیر میں جہادی اور اسلام کی سر بلندی کے لیے قربانی اور شہادت کا نام دیا جاتا ہے۔ ابھی کل سے شروع ہونے والی گولہ باری مجال کہ کوئی ٹی وی پر بات کرے نیلم میں کل سے ہونے والی گولہ باری میں تین کشمیری شہید ہوئے درجنوں زخمی ہوئے اس کے علاہ بہت سارے مکان بھی جل گئے۔

ان سب باتوں کے باوجود ہندوستانی بھی اپنے فوجیوں کو شہید کہتا ہے لیکں وہ ہندوستان پھر بھی اپنے فوجی جاسوسی کے لیے بھیج دیتا ہے جب پکڑے جاتے ہیں تو کیس لڑتا ہے انکے لیے ، پاکستان بھی حافظ سعید اور مسعود اظہر کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، آخر انسانیت کس کونے میں بھنگ پی کر سو رہی ہے؟ ان سب کے باوجو یہ لوگ ااپنے بارڈز پر پرچم لہرانے کی تقریب منعقد کرتے ہیں ، یہ روس میں مشترکہ جنگی مشقیں کرتے ہیں اوران جنگی مشقوں کے اختتام پر خوش کا اظہار بالی وڈ کے گانوں پر کرتے ہیں ، کرتارپور راہداری انکا لیے خوشی کا ایک نیا ذریعہ ہے جس میں دونوں پنجاب کے لوگ خوش ہیں

ان ساری باتوں پر ایک ہی بات آجاتی ہے کہ پاکستانی ہو یا ہندوستانی اسکو اپنے کان اور آنکھ نہیں دماغ کھولنے کی ضرورت ہے ۔ مسلئہ کہاں ہے ؟ مسلئہ ہماری کتابوں میں ہے جس ادب سے ہم کچھ سیکھ سکھتے ہیں وہ تو ہم نے کافر بنا دیا ہوا اور جو ہم نے پڑھا وہ چونکہ عربی میں اور عربی ہمیں آتی نہیں ہے اور اس کو جب ہمارے سامنے آتا ہے تو اس کی شکل بہت ہی بگاڑ کر ہمیں مہیا کیا جاتا ہے جس سے ہم نفرت سکھیتے ہیں اسی طرح ہندوستان کا بھی حال ہے انکا سارا ادب سنکرت میں ہے اور اب سنسکرت ہندوستان میں نہ ہونے کے برابر ہے اس کے حل کی دو ہی شکلیں ہیں یا تو ہمیں کافروں کی کتابیں پڑھنی پڑھیں گی یا پھر ہمیں عربی اور سنسکرت سکھینے پڑھے گی ۔ یہ فیصلہ ہم پر ہم دہشت گردی سکھتے یا محبت !

نوٹ: مضمون میں پیش کی گئی اراء مصنف کی ذاتی ہیں۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے