114

ہندوستان کے خلاف ناگاز (لینڈ) مزاحمت کی تاریخ

ناگاز ہندوستان کے شمال مشرقی ریاستوں کو کہا جاتا ہے جن میں ناگالینڈ، مشرقی اور جنوی مانی پور، آسام اور اروناچل پردیش شامل ہیں۔ یہ سارا خطہ قبائلی علاقہ ہے جو ہندوستان پر قبضۃ کرنے کے بعد انگریزوں نے اپنی دسترس میں لے لیا تھا لیکن ان ریاستوں کو 1947 میں یہ اختیار دیا گیا تھا کہ یہ چاہیں تو آزاد رہیں یا ہند یونین کے ساتھ شامل ہو جائیں۔

ان ریاستون نے ہندوستان کے ساتھ ایک سمجھوتا کیا جس کے مطابق انہوں نے انڈین یونین میں دس سال کا تجرباتی وقت گزارنا تھا اور اس کے بعد رائے شماری کے ذریعے طے کرنا تھا کہ انہوں نے الگ ہونا ہے یا پھر انڈین یونین میں شامل رہنا ہے۔یہاں کی اکثریت بدھ ازم کی پیروکار ہے جبکہ ہندومت اور جین مت کی بھی ایک بڑی تعداد ہے یہ تما علاقے موجودہ ہندوستان کے شمال مشرق میں آتے ہین

1947 میں اس وقت کے ناگا لینڈ کے سب سے بڑے متحرک رہنما ڈاکٹر اے زیڈ فیزو گاندھی سے ملے تو ان دونوں کے درمیان یہ طے ہوا کہ ناگاز اپنی آزادی کا دن ہندوستان سے ایک دن پہلے یعنی 14اگست 1947 کو منائیں گے۔ اس روز سے ناگاز جن میں ناگالینڈ، منی پور، آسام اور اروناچل پردیش شامل ہیں اپنے آزادی کا دن چودہ اگست کو ہی منا رہے ہیں۔

ناگاز اور انڈین یونین

1929 مین سائمن کمیشن کے سامنے ایک میمورینڈم میں ناگاز قبیلوں نے حکومت سے مانگ کی کہ آزادی کے بعد برطانیہ انہیں ہندوستانی یونین میں شامل نہیں کرے گا بلکہ خود مختاری دے دے گا۔ آزادی کے بعد حکومت ہند اور ناگا نیشنل کونسل میں ایک نو نکاتی معائدہ ہوا جس میںیہ طے پایا کہ دس سال کے لیے ناگاز ہند یونین کا تجرباتی حصہ رہیں گے اور اس کے بعد دوبارہ اس پر نظر ثانی کی جائے گی۔ تاہم ناگاز اس اہتمام کو عارضی خیال کر رہے تھے جس کے بعد رائے شماری ہونا تھی۔

ناگاز کے مورخوں کا خیال ہے کہ ہندوستان نے اس عارضی مدت کے معائدے کی خلاف ورزی اس کے ہندوستان سے الحاق کے طور پر کی۔

19جولائی 1947 کو ناگا تحریک کے سب سے جید رہنما ڈاکٹر اے زیڈ فیزو دہلی میں ایم کے گاندھی سے ملے ، اور مورخین کے مطابق گاندھی اس بات پر اضی ہو گئے کہ ناگاز اپنے آزادی کا دن ہندوستان سے ایک دن پہلے یعنی 14 اگست 1947 کو منا سکتے ہیں ۔ اس دن ناگالینڈ، مانی پور، آسان اور اروناچل پردیش میں چودہ اگست کو آزادی کے دن کے طور پر منایا گیا۔

ناگا ز کا پرچم

14 اگست کو یہ ناگالام قومی سوشلسٹ کونسل ہی نہیں تھی جس نے ناگا لینڈ کا ایک الگ پرچم لہرایا جو اب ناگاز کا مستقل پرچم بن چکا ہے بلکہ اسے دیگر باغی گروہوں نے بھی لہرایا اور ان شہریون نے بھی اپنے گھروں پر لہرایا جنہیں اکثر پولیس پرچم گرانے کے جرم میں پکڑ کر لے جاتی تھی۔ اس سال بھارت اور ناگالینڈ کے رہنماؤں کے درمیان تعلقات میں کشمکش آئی تو ناگاز میں قومیت پرستی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی جس میں لاکھوں افراد نے اپنے ساتھ گھروں ، دفتروں اور احتجاجی مظاہروں میں لہرایا، خاص کر ناگالام نیشنل سوشلسٹ کونسل کے چیف موہوی کے گاؤں اکھورول میں جو مانی پور میں واقع ہے۔

ناگاز کا بیانیہ ایک نسل سے دوسری نسل منہ زبانی منتقل ہوتا رہا ہے اور ناگاز کا پرچم ان کے لیے ریاست وحدت کا ایک نشان ہی نہیں بلکہ ایک مقدس بنیاد ہے۔ ناگاز کے مختلف باغی گروہوں کی آئے دن ہندوستانی فوج سے مڈ بھیڑ ہوتی ہے اور ان کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ نیلے آسمان سے ایک دھنک ایک طوفان کے بعد نمودار ہوئی جس نے انہین پرچم کا تحفہ دیا ان کا ماننا ہے کہ ناگاز کا جھنڈا خدا کی جانب سے تحفہ ہے۔
ناگاز کی جدوجہد کے دوران ہزاروں افراد قتل ہوئے اور ہزاروں گھر تباہ ہوئے لیکن ان کے اندر سے ایک آزاد اور خود مختار ناگا لینڈ کی خیال کو ختم نہیں کیا جا سکا۔

جہاں چند لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اب بھارت سے علیحدہ ہونا ان کے لیے ممکن نہیں ہے وہیں کہیں زیادہ افراد مانتے ہیں کہ ناگا لینڈ پر جلد آزادی کا سورج نمودار ہو گا۔ ہندوستانی ریاست ناگالینڈ پر کشمیر ہی کی طرح کے ستم ڈھائے ہوئے ہین  لیکن ناگاز کا جذبہ حریت ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اگر آنے والے چند سالوں میں یہ خطہ ہندوستان سے علیحدہ ہوتا ہے تو یہ برصغیر میں ایک الگ قومی جمہوریت بن سکتا ہے ناگاز کے بارے میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا نظام اج بھی قبائلی اشتراکیت کی بنیادوں پر استوار ہے۔