203

آزادی مارچ میں گئے ایک غیر سیاسی نوجوان کے تاثرات

میں نے ایم-اے اردو کر رکھا ہے اور ذاتی بزنس کرتا ہوں۔ میں اپنا ذیادہ تعارف نہیں کروانا چاہتا کیونکہ میں کوئی بڑا آدمی نہیں ہوں۔ میں آجتک کسی سیاسی پارٹی کا حصہ نہیں بنا لیکن ووٹ کی حد تک میں نے کبھی نون لیگ اور مسلم کانفرنس کو ووٹ دیا تھا۔

5 اگست کو مودی نے جو ایکٹ 370 اور 35A کا خاتمہ کر کہ کشمیر میں ظلم و ستم شروع کیا تو اس کیخلاف ہر سیاسی اور غیر سیاسی آدمی غم و غصے کا شکار ہوا۔ اسی عم و غصے کی ترجمانی کشمیر کے تمام ترقی پسند اور آزادی چاہنے والے محب وطن سیاسی کارکنوں اور انکے قائدین نے متحد ہوکر PNA کا پلیٹ فارم بناکر کی۔

یوں میں پہلی بار کسی تنظیم کے پروگرام یا احتجاج میں شرکت کرنے کیلئے دلجوئی کیساتھ تیار تھا۔ PNA کے 26 اگست کے پروگرام میں,میں اپنے ساتھیوں سمیت شرکت کی جس میں ہزاروں کشمیریوں نے شرکت کی تھی۔ اس احتجاجی پروگرام نے مجھے پہلی بار سیاست اور سیاسی پروگرام کو جاننے اور سمجھنے کیلئے مجبور کیا۔ میرے شعور کو جھنجوڑ کہ رکھ دیا اور اس پروگرام نے میرے اندر ایک طاقت بھر دی۔ وہی طاقت لیکر میں JKLF کی کال پر اپنے ساتھیوں سمیت آزادی مارچ میں شامل ہوگیا۔ میں جان چکا تھا کہ کشمیری نہتے اور اکیلے ہیں۔ انکے پاس نہ ایٹم بم ہے اور نہ ہی کوئی جدید اسلحہ لیکن پھر بھی وہ اپنے اوپر قابض قوتوں کیخلاف برسرپیکار ہیں اور کبھی شکست تسلیم نہیں کی.

آزادی مارچ کے دوران تمام ساتھی جو ایکدوسرے کو جانتے تک نہیں تھے لیکن ایکدوسرے کا اتنا خیال رکھ رہے تھے کہ جیسے یہ ایک ہی گھر کے لوگ ہوں۔ انکا ڈسپلن اور انکی انسانیت مجھے پسند آئی۔ کچھ شرپسندوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا تو انہوں نے سب کو کہا کہ یہ ہمارے ہی اپنے لوگ ہیں, یہ آرڈر کے غلام ہیں, ان پر پتھر مت برساؤ۔ اگر پتھر مارنے ہیں تو IG کو مارو جس نے اسلام آباد میں بیٹھ کر انکو حکم صادر کیا ہے۔

آزادی مارچ بڑھتا گیا, پولیس گردی بھی بڑھتی گئی مگر آزادی کے متوالے نہ رکے اور نہ جھکے, وہ آگے بڑھتے گئے اور بڑھتے چلے گئے۔ میں نے دیکھا کہ ہندوستانی کشمیر کے لوگ ہندوستانی مورچوں کے سامنے اور قریب رہتے ہیں لیکن انکو ہندو فوج کچھ نہیں کہتی اور اگر ہندو فوج انہیں مارنا چاہے تو کوئی ایک بھی کشمیری زندہ نہ بچ پائے۔

اس طرف پاکستانی فوج کے مورچے کشمیریوں کے گھروں کے نزدیک ہیں۔ جب یہ فائر کرتے ہیں تو انڈین فوجی کی جوابی فائرنگ میں کشمیریوں کے گھر ٹارگٹ ہوتے ہیں اور انہیں شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ پاک آرمی فائر کھول کر انکے گھروں کے پیچھے چھپ جاتی ہے ان کے گھر بھی مورچہ نما ہوتے ہیں۔ دوسری طرف ہندوستانی فوج نے اپنے مورچے گھروں سے خاصے دور بنا رکھے ہیں۔

جب آزادی مارچ کنٹرول لائن کے پاس پہنچا تو عوام کی بڑی تعداد جن میں بچے, بوڑھے, جوان اور عورتیں اپنے اپنے گھروں پر چڑھ گئے اور مظاہرین پر پھول کی پتیاں نچھاور کر کہ انکا شاندار استقبال کیا جو کہ مجھ سمی سب کیلئے بہت جذباتی مناظر پیش کر رہے تھے۔ کنٹرول لائن کے اس پار ہندوستانی فوجیوں کے باوجود کشمیریوں نے اپنی چھتوں پر چڑھ کر ہاتھ ہلا ہلا کر اپنی محبتوں اور چاہتوں کا دلجمعی سے اظہار کیا۔ یہ سب منظر دیکھنے کے بعد مجھ سمیت مظاہرین میں اکثریت لوگوں کی آنکھیں اشکبار تھیں. مجھے نہیں معلوم کہ یہ خوشی کے آنسو تھے یا بے بسی کے!

یہ تمام مناظر دیکھ کر مجھ جیسے ادنی’ سے آدمی کو (جس نے کبھی سیاست نہیں کی اور نہ کسی سیاسی پارٹی کا نعرہ لگایا) کنٹرول لائن کی طرف مارچ اور دھرنا دینے کا مقصد واضح سمجھ آرہا تھا اور یہی اصل یکجہتی کا طریقہ تھاجس کے اظہار کنٹرول لائن کے آرپار کشمیریوں کی محبتوں اور ان کے چہروں پر عیاں تاثرات سے نظر آرہا تھا جبکہ دوسری جانب ہندوستانی اور پاکستانی فوج کراس فائرنگ کر کہ محبتوں کی یکجہتی کو توڑنا چاہ رہے تھے جو کہ وہ نہ توڑ سکے۔

پاکستانی فوج سے بے پناہ محبت اپنی جگہ, پاکستان سے اسلامی بھائی چارے کی بنیاد پر محبت اپنی اپنی جگہ لیکن میں اپنی زندگی میں پہلی بار اپنے آپکو فریب سے نکال کر حقیقت کی دنیا میں لے آیا اور مجھے سمجھ آگئی کہ ہمیں الگ وطن کیوں چاہیے؟ ستر سال سے آرپار کشمیریوں پر ظلم کیوں نہیں ختم ہو رہا؟

جس کنٹرول لائن سے پاکستان اور ہندوستان اپنی تجارت کرتے ہیں اس کنٹرول لائن سے آرپار کشمیری صرف گولی کھا سکتے ہیں مگر اپنے رشتے داروں سے مل نہیں سکتے۔ کیا یہ سب درد بھرے مناظر اور درد کی داستاں سے پاکستان ناواقف ہے؟ ستر سال سے تعینات ہمارے فوجی کیا ان جذباتی مناظر سے کبھی آگاہ نہیں ہوے؟ میں پہلی بار کنٹرول لائن پر گیا تو میرے جذبات میرے کنٹرول میں نہیں ہیں تو ہمارے امتی بھائی فوجی بھائیوں کو ستر سال سے کیوں نہیں جھنجوڑ سکے؟

میں اس تقسیم کیخلاف آج سے شعوری طور پر اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا۔ جو بات میں ایک دن کے آزادی مارچ میں سمجھ گیا وہ میں پوری لائف میں نہیں سمجھ سکا۔ میری زندگی کا اس سے بڑا مقصد اور کوئی نہیں ہوسکتا کہ میرے وطن کی آزادی اور آرپار کشمیریوں کو آپس میں ملانے کی جدوجہد کروں۔