181

کیا جموں کشمیر پر قبائلی حملہ درست تھا؟

گذشتہ کچھ دنوں سے ایک فیس بک پیج پر 22 اکتوبر 1947ء کو ریاست جموں و کشمیر پر ہونے والے پاکستانی قبائلی حملے کے بارے میں سوال پوچھا جا رہا ہے کہ کیا قبائلی حملہ درست تھا یا غلط؟ آئیے اس پر تاریخی حقائق کو مدنظر رکھ کر بات کرتے ہیں:

متحدہ ریاست جموں و کشمیر کے آخری حکمران مہاراجا ہری سنگھ کے طرز حکمرانی سے اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ لیکن اس بکھری ریاست کے شہریوں اور اس پر حملہ آور ہونے والوں کو اس بات کا ضرور علم ہونا چاہیے کہ ہمارے جنت ارضی وطن کی شہریت کا قانون یعنی “قانون باشندہ ریاست جموں و کشمیر” بھی اسی مہاراجا نے 1927ء میں بنایا تھا۔۔۔ جب دنیا کے نقشے پر پاکستان نامی کسی ملک کا وجود ہی نہیں تھا اور نہ ہی ہندوستان اس وقت ایک آزاد ملک تھا۔ بلکہ موجودہ پاکستان اور بھارت دونوں اس وقت “برٹش انڈیا” کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ریاستی شہریت کے اس قانون کے تحت کوئی بھی غیر ریاستی شخص یا ادارہ ریاست جموں و کشمیر میں ایک انچ بھی زمین یا پراپرٹی نہیں خرید سکتا۔

اکتوبر 1947ء میں ریاست جموں و کشمیر کے اندر مہاراجہ ہری سنگھ کی شخصی حکومت کے خلاف کئی ریاستی گروہوں کے احتجاج جاری و ساری تھے۔ جن کا مطالبہ تھا کہ ملک میں شخصی حکمرانی کی بجائے جمہوری نظام حکومت ہونا چاہیے۔۔۔ ریاست جموں و کشمیر میں مہاراجا حکومت کے خلاف چلنے والی تحریک اس ریاست کا ایک اندرونی مسئلہ تھا۔ پاکستان نے مسلح قبائلی گروہ بھیج کر ہمارے جنت نظیر وطن ریاست جموں و کشمیر کی وحدت کو ٹکڑے ٹکڑے کرایا۔۔۔ ان درندے قبائلیوں نے یہاں نہ صرف لوٹ مار، اغواء کاریاں اور جنسی زیادتیاں کیں بلکہ اس پرامن ملک میں مسلم و غیر مسلم فسادات شروع کر کے ریاست جموں و کشمیر کے اندر صدیوں سے قائم مذہبی بھائی چارے کا بھی قتل عام کیا۔

مہاراجا کی شخصی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک ریاست جموں و کشمیر کا خالصتا اندرونی معاملہ تھا۔ کیوں کہ مہاراجہ ہری سنگھ اسی ریاست کا شہری اور حکمران تھا، وہ کسی پڑوسی ملک سے آ کر مذہب کو سیڑھی بناتے ہوئے یہاں کے اقتدار پر قابض نہیں ہوا تھا۔ اور مہاراجا حکومت کے خلاف تحریک چلانے والے بھی اسی ریاست کے اپنے شہری تھے۔۔۔ لہذا ریاست کے اس مکمل طور پر اندرونی معاملے میں کسی بھی ملک کی کسی بھی جواز کے ساتھ بیرونی مسلح مداخلت نہ صرف آئینی، قانونی اور اخلاقی لحاظ سے غلط تھی بلکہ بائیس اکتوبر 1947ء کی یہی پاکستانی یلغار ہمارے وطن کی جبری تقسیم، غلامی اور آج تک ہونے والے ہر ظلم کا باعث بنی۔ کسی ملک پر حملہ کرنا اس ملک کی آزادی و خودمختاری کا سیدھا سیدھا قتل ہے۔

مثال کے طور پر ماضی قریب میں پاکستان میں فوجی آمر مشرف کے خلاف اور جمہوریت کی بحالی کے لیے زبردست عوامی تحریک چلی۔۔۔ اسی طرح نواز شریف حکومت کے خلاف پاکستان تحریک انصاف نے 120 سے زائد دن پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں دھرنا دیے رکھا۔ جس میں تحریک منہاج القرآن بھی شامل رہی۔۔۔ سرکاری نشریاتی و پارلیمانی اداروں پر حملے ، احتجاجی مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کی وجہ سے پاکستان میں اندرونی افراتفری اور انتشار کا ماحول رہا۔۔۔

اسی طرح آج کل پاکستان کی ایک مذہبی جماعت جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمان گروپ) پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت گرانے کے لیے اسلام آباد کے اندر ایک بڑے حکومت مخالف دھرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔۔۔ آمدہ دنوں میں پاکستان ایک مرتبہ پھر اندرونی افراتفری کا شکار ہونے جا رہا ہے۔۔۔۔ لیکن جو بھی ہو یہ ایک آزاد و خود مختار ملک کا سو فیصد اندرونی معاملہ ہے۔۔۔ تو ایسے میں پاکستان کے ہمسائے ملک افغانستان یا ایران سے کوئی مسلح گروہ پاکستان پر یہ جواز بنا کر یلغار کر دے کہ ہم پاکستان کی حکومت کے خلاف ان مظلوم احتجاجی مظاہرین کی مدد کرنے کے لیے آئے ہیں۔۔۔؟ نہیں بالکل نہیں۔۔۔ اگر کوئی بھی مسلم یا غیر مسلم ملک یہ حرکت کرتا ہے تو یہ پاکستان کی خود مختاری پر حملہ ہو گا۔۔۔ لیکن خود پاکستان نے ریاست جموں و کشمیر کے ساتھ 22 اکتوبر 1947ء کو قبائلیوں کے مسلح جتھے بھیج کر ایسے ہی کیا۔۔۔ ہماری آزادی پر شب خون مارا گیا۔۔۔ وہ دن اور آج کا دن ۔۔ ریاست جموں و کشمیر کی غلامی کی رات بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔۔۔ لیکن اس تاریکی کو جلدی یا دیر سے بہرحال ختم ہونا ہی ہے۔۔۔
ریاست جموں و کشمیر زندہ باد