usman afsar 248

پانی سر سے گزر چکا ہے: عثمان افسر

اکتوبر کی روایت برقرار ہے اور یہ اکتوبر بھی جاتے جاتے جموں کشمیر کی وحدت پہ ایک اور کاری ضرب لگا کر جا رہا ہے بے بسی کی انتہا یہ کہ اپنے سامنے اپنی شناخت کو خاموشی سے چھِنتا دیکھ رہے ہیں آج جب منی پور جلاوطن حکومت کے قیام اور ہندوستان سے آزادی کا اعلان کررہا ہے وہاں ہماری ریاست کا ایک حصہ مکمل طور پر ہندوستان کے قبضے میں جارہا ہے۔

آج کے دن ہندوستانی زیرِانتظام جموں کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے اور عملاً جموں کشمیر کو منظر سے غائب کرکے ہندوستان پوری طرح اس ریاستی حصے پر قابض ہو چکا ہے سرینگر ریڈیو ،جموں اور لداخ ریڈیو کو آل انڈیا ریڈیو سرینگر ،آل انڈیا ریڈیو جموں اور آل انڈیا ریڈیو لداخ سے بدل دیا گیا ہے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیونکر ممکن ہوا کیا 370 کا خاتمہ کیا اچانک سے تھا یا یہ پہلے سے طے شدہ تھا اگر چند دہائیاں پیچھے دیکھا جائے تو بہت ساری چیزیں انتہائی شفافیت کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہیں

جموں کشمیر و گلگت بلتستان کی مرحلہ وار تقسیم کی کہانی کا پلاٹ 5 جنوری 1949 کو تیار کیا گیا پھر اس پر اُسی ترتیب سے عمل کیا گیا تاشقند کا معائدہ دیکھ لیجئیے پھر شملہ میں کی گئی بندر بانٹ اِسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جب یہ طے کیا گیا کہ اقوامِ عالم کے سامنے ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہونے سے بہتر ہے کہ آپس میں ہی جموں کشمیر کی قسمت کا فیصلہ کیا جائے جس میں جنگ بندی لائن کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مستقل سرحد قرار دینا بھی شامل ہے ۔

پھر ذرا آگے کو چلتے ہیں سن 1974یہ اس کہانی کا اگلا مرحلہ تھا جب پاکستان کی طرف سے گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کو ختم کردیا گیا (جوانڈیا نے اب ختم کیا ہے ) ریاست کا ایک متنازعہ حصہ جس کے باشندوں کو انسان نا جان کر وعدہ خلافی کرتے ہوئے انکی کی قسمت لکھ دی گئی حالانکہ وعدہ بھی مشروط آزادی دینے کا تھا مگر خود کو جموں کشمیر و گلگت بلتستان کا وکیل کہنے والے پاکستان نے اس وعدے کو ایفاء کرنے کے بجائے اس سے انکار میں پہل کرتے ہوئے اس مرحلے کو سر انجام دیا اور بال ہندوستان کے کورٹ میں پھینک دیا کہ اب وہ اس پر عمل درآمد کرتے ہوئے اپنے زیر انتظام جموں کشمیر کے ساتھ وہی حشر کرے جو بالآخر پانچ اگست کو ہندوستان نے کیا۔

پھر مختلف اوقات میں مختلف مرحلوں پہ تقسیم کے منصوبہ پہ عمل دونوں طرف سے جاری رہا ماضی قریب میں چناب فارمولے کا آنا پھر جموں کشمیر کی سرزمین پہ ہی پاکستان کی طرف سے باڑ لگانا ہندوستان کا خاموش رہنا سب ایک ہی کہانی کے حصے ہیں جنہیں سالوں پہلے ترتیب دیا گیا جموں کشمیر کی عوام بہرحال سمجھنے سے قاصر رہی ۔

اگر وادی میں پبلک سیفٹی ایکٹ آیا تو یہاں گلگت میں اے ٹی اے آیا ،شیڈول فورتھ آیا آرڈیننس 2018 آیا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم پبلک سیفٹی ایکٹ پہ بھاشن تو دیتے رہے لیکن اے ٹی اے اور دیگر قوانین کے بارے ہماری زبانیں گنگ رہیں سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق، آسیہ اندرابی، شبیر شاہ و دیگر کی گرفتاریوں پہ ہم نے انکی رہائی کے نعرے تو لگائے لیکن اپنے پاس ہمیں گلگت جس کو بڑے فخر سے کہا جاتا ہے کہ ہمارا حصہ ہے لیکن وہاں پہ ہمیں باباجان پہ نظر نا آیا ہماری آنکھیں افتخار کربلائی کو دیکھنے سے محروم رہیں ہمیں اپنی محکومی تو نظر نا آئی لیکن کئی میل دور ضرور نظر آئی اور وہ بھی دوسرے کی آنکھ سے اُس محکومی کو بھی ہم اپنی آنکھوں سے کبھی نا دیکھ پائے۔

کچھ بھی ایسا مختلف نہیں ہے جو منقسم ریاست کے دونوں حصوں میں ایک سا نا ہو صرف نام مختلف رہے ہیں ہم نے فاروق عبداللہ ،عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی وغیرہ کو گالیاں تو دی لیکن ہماری نظریں مظفرآباد کا اسمبلی ہال دیکھنے سے قاصر رہی ہیں۔ اب جہاں تک مستقبل کی بات ہے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے بھی اگلے چند ماہ کہ اندر سٹیٹ سبجیکٹ رول کو مکمل طور پر ختم کردیا جائے گا اس طرح ایک سو ایک سال تک برقرار رہنے والی ماضی کی عظیم ریاست جموں کشمیر کی شناخت مکمل طور پر مٹ جائے گی۔

خونی تقسیم کے وقت ہجرتوں کے جو عذاب جموں کشمیر کے باشندگان نے جھیلے وہ آئندہ نسلوں کی وراثت میں رہیں گے۔ اس کے علاوہ بے شمار مسائل جنم لیں گے جن میں روزگار اور وسائل کی تقسیم و منتقلی شامل ہیں ۔اب جب بہار اور اترپردیش کے لوگ وادی اور جموں کہ علاقوں میں آ کر آباد ہوں گے یا روزگار پہ قابض ہوں گے تو وہاں صرف جموں یا کشمیر کی زمین رہے گی وہاں کی اپنی شناخت آہستہ آہستہ ختم کردی جائے گی پھر کیا ہوگا زمین رہے گی لیکن جموں اور کشمیریت ختم ہوجائے گی ایسا ہی کچھ یہاں پہ ہوگا کی مثال ہم گلگت میں شعیہ آبادی کے تناسب میں واضع کمی کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔

ہمارے جاگنے کا وقت بہت پہلے کا تھا لیکن ہم نہیں جاگے حقیقت میں احمقوں کی جنت میں سیر و تفریح کرتے رہے ہیں اپنے مستقبل اور شناخت چِھن جانے کی فکر سے آزاد ایک مردہ ضمیر معاشرے کے مردہ ضمیر باشندے بن کر جس کا اندازہ آئندہ دنوں سب کو بخوبی ہو جائے گا۔

شائد ہی تاریخ میں ایسی قوم گزری ہو جس نے اس قدر بے حِسی کا مظاہرہ کیا ہو یا جس نے آزادی کے بجائے غلامی کو ترجیح دی ہو کم از کم کوئی ایسی قوم تو ہر گز نہیں گزری جس نے آزادی کے بجائے غلامی کی جنگ لڑی ہو جہاں بیرونی آقاؤں کے آگے ضمیر ،زمین، زمان و مکان چند کوڑیوں کے عوض یا کسی حقیر شان و شوکت کی خاطر بیچ دیا گیا ہو۔

اپنی آزادی کی جنگ خود لڑنے کے بجائے یا تو ہم استعمال ہوئے یا کندھے تلاش کرتے رہے یہ تو ایک طے شدہ حقیقت ہے جو اپنی مدد آپ نہیں کرتے خدا بھی انکی مدد نہیں کرتا۔