569

عالمی قوتیں تقسیم کا فیصلہ کر چکی ہیں

ہماری خواہشات اپنی جگہ مگر ہمارے خطے میں عالمی قوتیں اپنے مفادات کو پیش نظر رکھ کے ہو دور میں اپنا کھیل کھیلتی رہی ہیں اور آج بھی شطرنج کی نئی بسا بیچھا چکی ہیں۔ ہمارے خطے کی جغرافیاں اہمیت ساری دنیا میں منفرد رہی ہے کیونکہ ہمارا وطن سینٹرل اور ساوتھ ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔ 1935 میں اُس وقت کی ایک عالمی قوت نے دوسری اُبھرتی ہوئی عالمی قوت کو روکنے کے لئے ہمارے سابق ملک کے حکمران ہری سنگھ سے ملک کے اہم ترین حصے کو لیز پر لیکے گلگت ایجنسی کا قیام عمل میں لایا اور وہاں سے سینٹرل ایشیا میں آنے والی تبدیلیوں پر نظر جمائے رکھا۔

دوسری عالمی جنگ میں معاشی شکست کے بعد اپنا بوریا بسترا گول کرنے سے پہلے مزہب کے نام پر متحدہ ہندوستان کے دو ٹکڑے کرکے ایک کو آزاد ہندوستان کے نام پر آزادی دی گئی اور دوسرے ٹکڑے پر پاکستان کے نام سے ایک الگ ملک تخلیق کیا گیا۔ ۔مزہبی جزبات سے دنیا کی سب سے بڑی انسانی ہجرت ہوئی اور دوران ہجرت دونوں اطراف لاکھوں انسانوں کا قتل عام ہوا اور یہ خطہ آج تک حالت جنگ میں ہے ۔ اس تقسیم کے فارمولہ طے ہونے کے بعد بظاہر گلگت ایجنسی ہمارے سابق حکمران کے حوالے کیا گیا ۔ جب ہمارے حکمران نے دونوں ملکوں سے الحاق سے انکار کیا تو لندن کے ایوانوں میں زلزلہ آیا کیونکہ ہری سنگھ نے ہندوستان اور پاکستان دونوں کے ساتھ برابری کے تعلق رکھنے اور راہداری دینے کا اعلان کر رکھا تھا۔

روس کا سوشلیزم افغانستان کے دروازے پر دستک دینے کو تیار تھا۔ دلی کے اندر روس نواز کانگریس حکومت حاصل کرچکی تھی، بیجنگ میں ماو کا انقلاب آخری مرحلے میں داخل ہوچکا تھا۔ جموں کشمیر کی راہداری سے بیجنگ ماسکو اور دلی آپس میں لنک ہوجاتے تو بہت بڑا سوشلسٹ بلاک بن جاتا جو کہ دنیا کی کل آبادی کی چالیس فیصد بن جاتا ۔

ستمبر 1947 میں انگریز نے ایک نئی سازش تیار کی جس کو 15 اگست کے بعد خطے میں موجود جنرل گریسی ، ماونٹ بیٹن ، کنینگم ، بیکن اور میجر براون نے خوش اسلوبی سے پورا کیا ۔ یکم اکتوبر سے سولہ نومبر 1947 تک ہمارے خطے میں ایک کھیل کھیلا گیا جس میں ہمارے لوگ دو قومی نظریے کے بدولت استمال ہوئے اور وطن کے تین ٹکڑے کئے گئے۔ پھر جنگ ، جنگ کے بعد یو این اور کراچی ایگریمنٹ کے تھرو خونی لکیر کھینچی گئی۔ سامراج جیت گیا ہم ہار گئے۔ اور ہماری قوم خود مختار کشمیر ، ریاست جموں کشمیر کی بحالی ، بالاورستان ، بلور ، قراقرم اور آزاد گلگت بلتستان جیسے خواہشات کے نظر ہوئئی۔ 

جیوئے کاشر میری جان
جموں گلگت بلتستان

نہ کشمیر نہ پاکستان
دیس ہمارا بالاورستان

جیسے خوبعصورت نعرے لگنے مگر مشترکہ قومی بیانیہ اپنانے اور حقائق کے قریب آنے کے بجائے ہم سیراب کے نظر ہوئے۔ کبھی سری نگر میں تحریک کے نام پر ہزاروں لوگوں کی قربانی دی گئی اور سلسلہ آج بھی جاری ہے اعداد شمار لاکھ سے بڑھ چکا ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے کئی نوجوانوں نے ان نعروں کے خاطر ازیتیں برداشت کی ، جلاوطن ہوئے، جیلیں کاٹی ۔ دو نسلیں چل بسی۔ گلگت بلتستان کے اندر سینکڑوں نوجوانوں نے مقدمات کا سامنا کیا جو آج بھی جاری ہے۔

پھر سی پیک پر دستخط کے بعد عالمی منظر نامہ تبدیل ہونا شروع ہوا ، گلگت بلتستان میں لوگوں کو سزائیں شروع ہوئی ، پی او جے کے کے اندر بھی سختی بڑھی ، جی بی میں سٹیٹ سبجیکٹ پہلے سے دفن ہوچکا تھا اب انڈین زیر انتظام حصہ میں 35 a اور 370 کے خاتمے پر بات شروع ہونے لگی۔ وادی اور گلگت میں جبر بڑھ رہا ہے گرفتاریاں ہورہی ہیں۔

پوری ریاست کی بحالی اور خودمختاری تو دور کی بات گلگت اور بلتستان کو الگ کرنے پر کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ کھیل سارا سابقہ گلگت ایجنسی میں آکے پھنس چکا ہے۔ اندرون خانہ کوشش ہے کہ گلگت ایجنسی جہاں سے سی پیک نے گزرنا ہے اور پاکستان چائنہ کا برائے راست ملاپ ہوتا ہے اس کو اٹانومسٹ ریجن بناکے پاکستان کی مکمل عملداری میں لانے کا فیصلہ پاکستان اور چائنہ کرچکے ہیں۔ ہندوستانی زیر انتظام جموں کشمیر پر پاکستان کا کلیم اور پاکستانی زیر کنٹرول جموں کشمیر اور بلتستان استور پر ہندوستانی کلیم صرف بارگینگ ٹولز ہیں۔ 

اصل کہانی گلگت میں پھنسی ہیں۔ دو پارٹیاں فیصلہ کر چکی ہے ۔ اب صرف بھارت کو گلگت سے راہداری کی عالمی گارنٹی درکار ہے جبکہ آمریکہ کو اس کے اس پورے. کھیل میں مفادات کی گارنٹی درکار ہے۔ یہ طے ہوتے ہی پاکستان نہ صرف ہندوستانی زیر کنٹرول جموں کشمیر سے دستبردار ہوگا بلکہ بلتستان اور استور کو بھی ہندوستانی زیر کنٹرول لداخ کے کنٹرول میں دینے کو تیار بیٹھا ہے جبکہ ہندوستان کو راہداری ملنے کی صورت میں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کا پنڈی یا ہزارہ ڈویژن میں شمولیت پر بھی کوئی اعتراض نہیں۔

جموں کشمیر کا مسلئہ ہمارے لئے آزادی کا مسلئہ ضرور ہے مگر دُنیا کو ہماری آزادی سے اپنے مفادات زیادہ عزیز ہیں اور ان کے لئے راہداری کے لئے ایک سڑک کے سوا اس خطے کی کوئی حثیت نہیں۔ ہماری تیاری صفر ہے اگر ہم 2022 سے پہلے سائنسی تجزیہ کرکے قومی بیانیہ دینے میں کامیاب ہوسکے تو شائد اس کھیل سے ہم بھی کچھ فائدہ اُٹھا پائنگے۔ یہی صورت حال رہی تو ہماری حثیت سنتالیس کی طرح تماشیوں والی ہوگی۔ چار عالمی ٹیمیں ہریکٹس میچیز میں مصروف ہے اور ہماری ٹیم کہی نظر نہیں آرہی ہے۔

ہماری خواہشات اور نعرے اس کھیل کو روکنے کی ہرگز پوزیشن میں نہیں۔ ہوش کے ناخن لو ریاست کی بحالی کے نعرے لگانے والوں دنیا گلگت بلتستان تک کو تقسیم کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔

یاد رکھیں حقائق خواہشات کے برعکس تلخ ہوتے ہیں۔