مظفرآباد: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) کی احتجاجی تحریک کے دوران گزشتہ 38 روز میں ہونے والے دھرنوں، احتجاجی مظاہروں، جھڑپوں اور سکیورٹی کارروائیوں کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد مقامی ذرائع کے مطابق 41 سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار احتجاجی تنظیم کے نمائندوں، مقامی رہائشیوں اور پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے مختلف متاثرہ اضلاع سے موصول ہونے والی اطلاعات کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران سینکڑوں افراد کو بھی حراست میں لیا گیا، جبکہ حکام نے احتجاجی تحریک کے بعد سکیورٹی اقدامات سخت کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں ناکہ بندیاں، گرفتاریاں اور دیگر پابندیاں نافذ کیں۔
تازہ ہلاکتیں پیر کی رات سے منگل کی صبح کے درمیان پونچھ ڈویژن کے مختلف علاقوں، خصوصاً بلوچ، راولاکوٹ اور گرد و نواح میں پیش آنے والے الگ الگ واقعات میں رپورٹ ہوئیں، جہاں کم از کم پانچ افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ واقعات اس وقت پیش آئے جب سکیورٹی فورسز نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 15 جولائی کو مظفرآباد کی جانب اعلان کردہ لانگ مارچ سے قبل احتجاجی دھرنوں کی طرف پیش قدمی کی۔
تازہ اطلاعات کے بعد اس احتجاجی تحریک میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ گئی ہے، جسے حالیہ برسوں میں پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کی سب سے خونریز احتجاجی تحریکوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
البتہ سڑکوں کی بندش، مواصلاتی رکاوٹوں، محدود رسائی اور سرکاری سطح پر مسلسل معلومات کی عدم دستیابی کے باعث ہر ہلاکت کی آزادانہ تصدیق کرنا ممکن نہیں۔ تاہم بین الاقوامی ذرائع ابلاغ پہلے ہی ابتدائی مرحلے میں ہونے والی بھاری جانی نقصان کی رپورٹنگ کر چکے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے 19 جون کو اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ دو ہفتوں کے احتجاج کے دوران کم از کم 24 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 20 شہری اور چار پولیس اہلکار شامل تھے، جبکہ 500 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔
یہ احتجاج اس وقت شروع ہوا جب جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں مختلف اضلاع میں دھرنے اور مظاہرے پھیل گئے۔ تحریک کا آغاز بجلی کے نرخوں میں کمی، سبسڈی والے آٹے کی فراہمی اور مہنگائی کے خلاف مطالبات سے ہوا، تاہم بعد ازاں اس میں طرزِ حکمرانی میں اصلاحات، سیاسی نمائندگی، سرکاری مراعات میں کمی، آئینی معاملات اور پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 قانون ساز اسمبلی کی نشستوں کی مخالفت جیسے مطالبات بھی شامل ہو گئے۔
جون کے آغاز میں بھی پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 11 افراد جاں بحق اور 70 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس وقت رائٹرز اور الجزیرہ نے ان واقعات کی رپورٹنگ کی تھی، جبکہ ڈان کے مطابق راولاکوٹ میں پولیس اور بعد ازاں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم سات شہری اور چار قانون نافذ کرنے والے اہلکار جان سے گئے تھے۔
بعد ازاں حکومت نے انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے تحت جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کر دی۔ کمیٹی نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ عوام کے معاشی اور سیاسی حقوق کے لیے پرامن جدوجہد کرنے والی تنظیم ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پابندی کے بعد حکومت نے اضافی سکیورٹی فورسز تعینات کیں، انٹرنیٹ سروس معطل کی اور متعدد کارکنوں کو گرفتار کیا، جبکہ حکومتی حکام نے کہا کہ بعض مطالبات پر مذاکرات ممکن ہیں، تاہم آئینی تحفظ حاصل معاملات، جیسے مہاجرین کے لیے مخصوص نشستیں، قابلِ مذاکرات نہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی احتجاج سے نمٹنے کے حکومتی طریقۂ کار پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق احتجاج کے دوران انٹرنیٹ بندش، بڑے پیمانے پر من مانی گرفتاریاں، مہلک طاقت کے استعمال اور احتجاجی تحریک کو دہشت گردی کے قوانین کے تحت لانے جیسے اقدامات تشویشناک اور صورتحال کو مزید سنگین بنانے والے ہیں۔
حالیہ مرحلے میں مقامی ذرائع کے مطابق راولاکوٹ، بلوچ، کوٹلی، جندالہ، شجاع آباد، تراڑکھل اور پونچھ ڈویژن کے دیگر علاقوں سے بھی ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ متعدد شدید زخمی افراد کو راولاکوٹ، باغ، پلندری اور راولپنڈی کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
مقامی سماجی کارکنوں اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ شخصیات کا کہنا ہے کہ مجموعی ہلاکتوں کی تعداد اب 41 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران سینکڑوں افراد کو پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے مختلف علاقوں سے گرفتار یا حراست میں لیا گیا ہے۔ تاہم ان اعداد و شمار کی حکومت کی جانب سے مکمل تصدیق نہیں کی گئی اور نہ ہی اب تک ہلاکتوں یا گرفتار افراد کی کوئی جامع سرکاری فہرست جاری کی گئی ہے۔
ہلاکتوں میں اضافے کے بعد انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلا، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور مقامی شہریوں نے احتجاج کے دوران براہِ راست گولیاں چلانے، مظاہرین کی گرفتاریوں، مواصلاتی پابندیوں اور احتجاجی دھرنوں سے نمٹنے کے حکومتی اقدامات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ تازہ واقعات جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 15 جولائی کو مظفرآباد کی جانب اعلان کردہ لانگ مارچ سے عین قبل پیش آئے ہیں، جس کا اعلان کمیٹی نے حکومت کو مذاکرات کے لیے دی گئی 8 جولائی کی مہلت ختم ہونے کے بعد کیا تھا۔
منگل کی صبح تک پونچھ ڈویژن اور پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے دیگر کئی علاقوں میں صورتحال بدستور کشیدہ رہی۔ اطلاعات کے مطابق متعدد شاہراہیں بند تھیں، سکیورٹی فورسز مسلسل گشت کر رہی تھیں اور مختلف شہروں کے درمیان آمدورفت شدید متاثر رہی۔
خبر کی اشاعت تک مجموعی ہلاکتوں، گرفتار افراد کی تعداد یا تازہ واقعات سے متعلق حکومت کی جانب سے کوئی جامع سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔