144

ہم بندوق تو نہیں اُٹھا سکتے

صحافی،وکلاء،تاجر،سول سوسائٹی حتیٰ کہ سیاسی جماعتیں مسلح گروہ نہیں ہوتے‘معاشرے کے ان طبقات کے حقوق اور احترام کی ضمانت ریاست دیتی ہے،سینٹرل پریس کلب مظفرآباد پر جس طرح پولیس ایکشن ہوا جس بدمعاشی،ہٹ دھرمی،وحشت کا مظاہرہ 22اکتوبر2019؁ء کی شام دیکھنے کوملا،بے بسی کے ان لمحات کا ردعمل یہ سوچنے پر ضرور مجبور کرتا ہے کہ اب صحافیوں کو اپنے دفاع کیلئے پریس کلب میں اسلحہ رکھنا چاہئیے؟؟اگر پولیس قانون سے بالاتر ہے تو پھر تمام طبقات کا حق ہے کہ وہ قانون ہاتھ میں لیں۔

تفویض شدہ بے اختیار حکومت آزادکشمیر کی چھتری کے نیچے درجنوں حکومتوں کے بارے میں میری ہمیشہ منفی رائے رہی میں حکومتی رٹ کا قائل ہوں،کیونکہ میں سمجھتا ہوں پولیس کے سٹار ریاست کے لوگوں کے سٹار ہیں‘انتظامیہ کے اختیارات ریاست کے لوگوں کے اختیارات ہیں لیکن اس وقت تک جب یہ قانون کے دائرے کے اندرہوں۔اگر پولیس کا ایک افسر نادیدہ حکم پر اوسان کھو بیٹھے،لوگوں کے احترام،عزت اور زندگیوں پر حملہ آور ہو،ریاست کا وزیر اعظم بے خبر ہو‘انتظامیہ بے بس ہوانصاف اور اخلاقیات کا قتل ہو رہا ہو اور جوابدہی سرے سے موجود تک نہ ہو تو نتیجتاً ریاست سے لوگوں کا اعتماد اُٹھ جاتا ہے یہی وہ حالات ہوتے ہیں جو چھوٹی چھوٹی حکومتوں کے قیام کا باعث بنتے ہیں۔

22 اکتوبر 2019؁ء مظفرآباد میں جو کچھ ہوا ایسا محسوس ہورہا تھا کہ پولیس کے کچھ آفیسران میں انڈین آرمی کی روح اُتر آئی ہے۔یہ سب کیوں ہوا؟کیسے ہوا؟اس کے پیچھے کون تھا؟اس پر سنجیدگی سے غور ہی نہیں ایکشن کی بھی ضرورت ہے۔

چند مناظر جو کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کیے۔ایک ویڈیو کلپ میں پولیس لوگوں کو ایک ہوٹل کی دوسری منزل سے اتار کر بے رحمانہ تشدد کرتی ہے،ایک اور ویڈیو کلپ ایک شخص جو پرامن اور خالی ہاتھ کھڑا تھا اس کے سر میں اچانک ایک پولیس والے نے زور دار ڈنڈامارا جس کے بعد مذکورہ شخص ذبح کیے ہوئے مرغ کی طرح چند سیکنڈ کیلئے ہاتھ پاؤں مارتا ہے اور پھر ساکت ہو جاتا ہے۔گھروں،تعلیمی اداروں‘بازاروں میں آنسو گیس کا بے رحمانہ استعمال،مظاہرین کے تعاقب میں شہریوں کے گھروں میں داخل ہونا اور پھر مرکزی ایوان صحافت پر یلغار……لاٹھی چارج،پتھراؤ اور آنسو گیس کا استعمال…………دستیاب اطلاعات کے مطابق ڈپٹی کمشنر کے حکم کے بغیر لاٹھی چارج سے شروعات کر کے مظفرآباد میں سرینگر جیسے حالات پیدا کیے گئے،

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سارے عمل میں حکومت آزادکشمیر دانستہ غائب تھی …………جس کا بعد ازاں وزیر اعظم نے ایک ملاقات میں اعتراف کیا کہ میں بے خبر ہوں …………وزیر اعظم بے خبر،ڈپٹی کمشنر اور انتظامیہ کے دیگر آفیسران بے بس تو یہ سارے معاملات کون چلا رہا تھا وہ کون تھا جنہوں نے پولیس گردی کی کھلی چھٹی دے رکھی تھی،ظاہر ہے اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔اس بارے میں سب جانتے ہیں کہ آزادکشمیر کے وزیر اعظم کی کیا حیثیت ہے اور اصل اختیارات کن کے پاس ہیں۔

لیکن سوال پھر وہی‘سینٹرل پریس کلب پر جو حملہ ہوا لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا کیا اس کے ردعمل میں ہم بندوق اٹھائیں؟مگر کیا کیا جائے بندوق اٹھانا صحافی کا کام ہی نہیں،اس کے پاس قلم اور کیمرہ ہوتا ہے۔جو اس کی خیالی طاقت کا بھرم رکھتے ہیں۔کیونکہ صحافی نے لڑنا تھوڑا ہی ہوتا ہے اور نہ اس نے لڑنے کی تربیت لی ہوتی ہے۔صحافت میں تو کسی بھی تکلیف دہ صورتحال میں احتجاج بھی ہمیشہ آخری آپشن کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔رہی پولیس کی یلغار اگر کبھی وزیر اعظم اور وزراء بھی اس کی زد میں آئیں تو ہم ان سے اسی طرح اظہار افسوس کرینگے جس طرح آج ہم سے کیا جا رہا ہے۔

22اکتوبر کو جو کچھ ہوا وزیر اعظم آزادکشمیر کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے،ہم انہیں ایک مرتبہ پھر مشورہ دیں گے کہ وہ خود کو چیف ایگزیکٹیو ثابت کریں یا گھر چلے جائیں،پہاڑی زبان کا محاورہ ہے 70سال کی عمر کے بعد شادی اُسی صورت میں کرنی چاہئیے جب آپ اس کے اہل ہوں۔

آزادکشمیر کے لوگوں کیلئے آمدہ منظر نامے کی چند جھلکیاں جن کا 22اکتوبر 2019؁ء کے پولیس ایکشن سے تعلق ہے۔

آزادکشمیر کی محدود آزادی کا دائرہ مزید سکڑ کر گلگت بلتستان کے برابرہوجائے گا۔مستقبل میں ایسے قوانین بنائے جائیں گے جس میں دئیے گئے بیانیے سے ہٹ کر کسی بھی تقریر یا تحریر پرکئی دہائیوں تک قید۔جو بھی دائرے سے باہر قدم رکھے گا پھڑکا دیا جائیگا۔مکمل آزادی کی بات کرنے والوں پر مقدمات کی بھرمار …………اور …………اور