Leave Jammu Kashmir Movement 84

چیئرمین پی این اے ذولفقار راجہ کی 22 اکتوبر پولیس تشدد پر پریس کانفرنس

میر پور (کشمیریت) آزادی پسند جماعتوں کے اتحاد پیپلز نیشنل الائنس کے چیئرمین ذوالفقار احمد ایڈووکیٹ نے مظفرآباد 22 اکتوبر کو ہونے والے پرامن مظاہرین پر پولیس کے وحشیانہ تشدد, اندھا دھند آنسو گیس کا ذمہ دار حکومت آزاد کشمیر, چیف سیکریٹری, آئی جی پولیس اور ڈی ایس پی ریاض مغل کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن شرکاء احتجاجی مارچ کے غیر جمہوری, غیر قانونی طریقے سے روکنے کا عمل کیا حالانکہ میری قبل ازیں حکومتی وفد سے ملاقات کے دوران ضابطہ اخلاق پر بات ہو چکی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ھمارے پرامن مارچ کو سبوتاژ کرنے کی چار وجوہات ہیں۔

1 -دہلی و اسلام آباد جموں کشمیر کی مستقل تقسیم کا فیصلہ کر چکے ہیں اور اسکے بعد دہلی سرکار نے 5 اگست کا آرڈیننس جاری کیا ہے۔

2 – اسلام آباد سرکار کو اندازہ ہی نہیں ھیکہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں عوام کی بڑی تعدادمکمل قومی آزادی کیلئے جدوجہد کر رہی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ جب پی این اے کی کال پر نکلے تو ریاست بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی اور تشدد کا راستہ اپنایا۔

3 – بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں کرفیو کے جبر کی وجہ سے جیل میں بند ھمارے بہن بھائیوں تک ھمارا یکجہتی کا پیغام نہ پہنچنے پائے کہ جموں کشمیر کے دو کروڑ کشمیری عوام قومی آزادی کیلئے مصروف جدوجہد ہیں۔

4 – اس روز UNO نے کچھ ممالک کے ڈپلومیٹس سیز فائر لائن پر دو طرفہ آئے روز گولہ باری و فائرنگ اور معصوم و نہتے کشمیریوں کے قتل عام کا جائزہ لینے بھیجا تھا اسلیئے لینٹ آفیسر ان کو فوری حکم ملا کہ یہ مارچ کسی صورت نہیں ہونا چایئے تاکہ کشمیری عوام کا درست بیانیہ دنیا تک نہ پہنچ سکے۔

چیئرمین نے کہا کہ پی این اے کے بنیادی اہداف پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ ھم مرحلہ وار اپنی منزل تک پہنچنے کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انہوں مظفرآباد حکومت سے مطالبہ کیا کہ مظفرآباد واقعہ میں ملوث چیف سیکریٹری, آئی جی کی خدمات اسلام آباد حکومت کو واپس کی جائیں اور ریاض مغل کو ملازمت سے برطرف کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے معزز جج سے جوڈیشل انکوائری کروائی جائے تاکہ واقعہ کے ذمہ داران کا تعین ہو سکے۔ علاوہ ازیں اسلم شہید کے ورثا کو پچاس لاکھ معاوضہ دیا جائے. تمام زخمیوں کو پانچ پانچ لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے۔ مظفرآباد کے دوکانداروں کا جتنا مالی نقصان ہوا ہے اسکا معقول معاوضہ دیا جائے۔ سنٹرل پریس کلب کا بھاری نقصان ہوا اسکا بھی معقول معاوضہ دیا جائے۔ مظفرآباد کلب کے تمام صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں ڈھال بنکر پی این اے کی لیڈر شپ اور کارکنان کی زندگیاں بچائیں۔

انہوں نے پی این اے کی طرف سے 6 نومبر شہدائے جموں منانے کا اعلان کیا اور کہا کہ 6 نومبر 1947 کو بھارتی ریاستی بربریت اور مذھبی جنونیوں کی وجہ سے تقریباً دو لاکھ معصوم جموں کے انسانوں کا قتل عام کیا گیا تھا۔ اسلئے ان شہدا کی یاد میں پی این اے تمام ضلعی ہیڈکواٹرز پر اور بیرون ممالک دہلی سرکار کیخلاف بھرپور مظاہرے کرے گا۔