199

دفعہ 370: سٹیٹ ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ

دفعہ 370 کے بارے میں جموں و کشمیر سٹیٹ ہائیکورٹ نے ہفتہ گذشتہ کے دوران ایک تاریخی فیصلے میں آئین میں اِس دفعہ کی نا قابل تغیر مستقل حثیت کے حق میں فیصلہ صادر کر دیا ہے۔یہ دفعہ سنگھ پریوار کی تمام اکائیوں، جس میں بھاجپا بھی شامل ہے، کیلئے ایک بار گراں ہے جس کو وہ کسی بھی طریقے سے ہٹانے کے در پے ہیں، البتہ سیاسی مصلحتوں و آئینی رکاوٹوںکی وجہ سے وہ ایسا کر نہیں پا رہے ہیں لہذا دفعہ 370 کے بجائے اب آئینی دفعہ 35 A سنگھ پریوار کے نشانے پر ہے۔

آئین کی اِس دفعہ میں ریاست جموں و کشمیر میں غیر منقولہ جائداد رکھنے کا حق اور کام کاج کا حق ریاست کے مستقل باشندوں کیلئے محفوظ ہے ۔اِس سلسلے میں سپریم کورٹ میں ایک اپیل بھی سنگھ پریوار کی ایک اکائی نے دائر کی ہے، جس پر بحث و مباحثہ نومبر کے مہینے میں ہونا قرار پایا ہے ۔ بہر صورت آج کا مو ضوع دفعہ370 کی آئینی حیثیت ہے ، جس کے بارے میں سٹیٹ ہائیکورٹ کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔عدالتی فیصلے کے تجزئے کے ساتھ ساتھ دفعہ 370 کی تاریخی نوعیت و سیاسی اہمیت کی جانچ ضروری ہے۔

عدالتی فیصلے میں یہ آیا ہے کہ دفعہ370 اگر چہ ایک عارضی،عبوری و خصوصی دفعہ کے طور پر وجود میں آئی البتہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اِس نے ایک مستقل حیثیت حاصل کی ہے۔ جموں و کشمیر سٹیٹ ہائیکورٹ کے دو ججوں کے بنچ، جس میں جسٹس حسنین مسعودی و جسٹس جنک راج کوتوال شامل تھے،نے یہ فیصلہ صادر کیا کہ دفعہ370 نہ توقابل ترمیم ہے اور نہ ہی اِس کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔فیصلے میں یہ ذکر بھی ہوا ہے، گوکہ صدر جمہوریہ ہند دفعہ370 کی شق (1) کے تحت مجاز ہے کہ وہ آئین (ہند) کی کسی دفعہ کو بھی ریاست میں لاگو کر سکتے ہیں گر چہ یہ عمل ریاست جموں و کشمیر کی سرکار کے مشورے کا طالب ہے۔

اِن اختیارات کو عملانے میں بھارتی آئین کی جو بھی دفعہ لاگو کی جائے اُس میں ترمیمات کے علاوہ کسی بھی شق کو حذف کرنے کی گنجائش بھی شامل ہے ۔عدالتی فیصلے میں یہ بھی آیا ہے کہ ایسے حالات میں جہاں جو دفعات لاگو ہوئی ہوں اُن کے علاوہ کسی اور دفعہ کو لاگو کرنے کی ضرورت پیش آئے تووہ آئین ہند کی دفعہ 368شق (2)دفعہ 370 شق (1) کے دائرے کے تابع ہو گی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے دفعہ 368پارلیمانی اختیارت کے بارے میں ہے۔ آئین ہند کی دفعہ 368شق (2)میں یہ آیا ہے کہ اگرآئین میں ترمیم کی ضرورت پیش آئے تو ایک بل پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں پیش کرنا ہو گی اور اگر مجوزہ بل کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی موافقت حاصل ہو جائے تو اُسے صدر جمہوریہ کو اُن کی رضایت کے لئے پیش کیا جائے گا۔

عدالتی فیصلہ کے تجزیے میں یہ بات عیاں ہے کہ آئین ہند کی دفعہ 368شق (2)جہاں دفعہ 370 شق (1) کے تابع قرار دیا گیا ہے وہاں یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ دفعہ 370 شق (1) کے تحت صدر جمہوریہ کو ریاست جموں و کشمیر میں آئین ہند کی کسی بھی دفعہ کو ایک حکمنامے کے وسیلے ریاستی حکومت کے مشورے کے بعدلاگو کرنے کے جو اختیارات حاصل ہیں اُن میں پارلیمان کیلئے کسی بھی رول کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ ریاست جموں و کشمیر میں آئین ہند کی دفعہ 368شق (2)کو دفعہ 370 شق (1) کے تابع قرار دیا گیا ہے۔یہ عدالتی فیصلے کا انتہائی اہم جز ہے۔

چونکہ گذشتہ چند مہینوں سے سنگھ پریوار کی کئی اکائیاں دفعہ 370 کو کالعدم قرار دلوانے کی مہم میں نا کامی کا شکار ہوئی ہیں اور اِن اکائیوں نے اب دفعہ35Aکو حذف کروانے کو اپنا ہدف بنایا ہے لہذاسنگھ پریوار کی یہ اکائیاں پارلیمانی موافقت کے بغیر دفعہ35A کو لاگو کروانے کی مخالفت پہ اتر آئی ہیں اور اِس معاملے اُنہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل بھی دائر کی ہوئی ہے۔حالانکہ دیکھا جائے تو ریاستی ہائیکورٹ کے فیصلے کا اطلاق35A پہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ فیصلے میںیہ کہا گیا ہے کہ آئین ہند کی دفعہ 368شق (2) دفعہ 370 شق (1)کے تابع ہے جہاں پارلیمان کا کوئی رول نہیں بنتا۔

عدالت عالیہ میں فاضل جج صاحباں نے جو فیصلہ صادر کیا ہے وہ جموں و کشمیر کے تنازعے کے بین الاقوامی پہلو سے کترا کے ہے ظاہر ہے ۔یہ فیصلہ ریاست جموں و کشمیر کے بھارت سے الحاق کے تناظر میں لیا گیا ہے اور دہلی اور سرینگر کے رشتوں پہ مبنی ہے البتہ فاضل جج صاحباں کا جو بھی فیصلہ رہا ہو مسئلہ کشمیر کے بین الاقوامی پہلو پہ اثر انداز نہیں ہو سکتا ہے ۔جموں و کشمیر میں جو سیاسی بے چینی پائی جاتی ہے وہ مقاومتی جماعتوں کی اِس سمجھ سے ہے کہ جموں و کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق عارضی ہے اور عوام کی مقاومتی تحریک کوحاصل بھاری اکثریت کی حمایت بھارت کے لئے جموں و کشمیر کے ضمن میں اصلی مشکل ہے اور سچ تو یہ ہے کہ مقاومت عوام کی اکثریتی حمایت کے بغیر ٹک نہیں سکتی۔

یہ حقیقت عیاں ہے کہ یہ اکثریت مقاومتی قوتوں کو حاصل ہے ۔یہ حمایت کسی شخصیت سے بندھی ہوئی نہیں ہے بلکہ ایک تصور سے بندھی ہوئی ہے اور وہ تصور یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کا تصفیہ ابھی ہونا باقی ہے ۔یہ تصور اِس بات کے باوجود ہے کہ یہاں ایک انتخابی عمل بھی ہوتا ہے جس کی حیثیت اگر چہ مشکوک ہے البتہ بھارت اُ سکی بنا پہ یہ پروپگنڈا جاری رکھے ہوئے ہے کہ انتخابی عمل کشمیر میں بھارت کے حق میں حمایت کی علامت ہے البتہ جب ہم ماضی پہ نظر ڈالتے ہیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ بھارتی رہبروں نے کشمیر کے ضمن میں جو رویہ صحنہ سیاست میں عیاں رکھا تھا وہ آج کی رفتار و گفتار سے قدرے مختلف تھا۔

1949ءمیں دفعہ 370 کے بارے میں بحث مباحثے کے دوران مولانا حسرت موہانی کے ایک سوال کے جواب میں گوپالا سوامی آئینگر نے بھارتی آئین ساز اسمبلی میں یہ کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حتمی تصفیے تک بھارت و ریاست جموں کے مابین آئینی رشتہ بنانے کیلئے اِس دفعہ کو بروئے کار لایا گیا ہے۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت اس بین الاقوامی قول و قرار کا پابند ہے جو قول و قرار اقوام متحدہ کی سیکور ٹی کونسل میں طے پا یاہے۔آئین ساز اسمبلی میں قول و قرار وہیں تک محدود نہیں تھا بلکہ عوامی مجلسوں میں ،مطبوعات میں ،بین القوامی محفلوں میں بھارتی رہبروں کا لہجہ اِس بات کا نشاندہ تھا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل میں مخلص ہے اور دفعہ 370 کا اجرا و اوروجود بھی اِسی حقیقت کا گواہ تھا البتہ وقت گزرنے کے ساتھ بھارت کا رویہ بدلنے لگا اور یہ بدلا ہوا رویہ دفعہ 370 میں آئینی رخنہ اندازی کیلئے ایک سرنگ بنانے پہ منتج ہوا۔ کئی دانشوروں،آئینی ماہرین و سیاسی مبصرین کا یہ ماننا ہے کہ دفعہ 370 ریاست کے حتمی فیصلے تک ایک آئینی پل کا کام دیتی ہے البتہ اِس آئینی پل کا نا جائز استعمال بھی کیا گیا ۔

ریاست جموں و کشمیر میں ایک مشکوک انتخابی عمل سے حکومتیں تشکیل دیں گئیں، جنہوں نے بھارتی آئین کی کئی دفعات و شقوں کو ریاست میں لاگو کرنے کیلئے دہلی کے حکام کا بھر پور ساتھ دیا ۔ دفعہ 370 شق (1) میں بھارتی صدر ریاستی حکومت سے صلاح و مشورے کے بعد آئین ہند کی کسی بھی دفعہ کو ریاست میں لاگو کرنے کا مجاز ہے البتہ ریاستی حکومت قانون سازیہ سے مشورے کے بعد ہی صدر جمہوریہ ہند سے رجوع کر سکتی ہے ۔ کہا جا سکتا ہے کہ جہاں قانون سازیہ ہی ایک مشکوک انتخابی عمل سے وجود میں آئی ہو وہاں کچھ بھی کبھی بھی حکام کے اشاروں پہ ممکن ہو سکتا ہے چناچہ ایسا ہی ہوا اور اِس آئینی در اندازی سے دفعہ 370 جو کی ریاست کی انفرادی حثیت کی ضامن تھی کو کھلی ہوتی گئی۔

جموں و کشمیر میں ناقص جمہوری عمل اور مشکوک انتخابات کی روش نے یہ تاثر پیدا کیا کہ یہاں کی حکومت سیاسی طاقت کی آئینہ دار نہیں ایجنسیوں کی قلا بازی کی مرہون منت ہے۔ چناچہ یہاں کے سیاستدان سیاسی کشکول تھامے دہلی سے اقتدار کی بھیک مانگنے لگے اور اقتدار اُسی کے حصے میں آتا رہا جو دفعہ 370کی سرنگ (ٹنل) سے بھارتی آئینی ٹریفک کو گذرنے دے۔ٹنل کی اصلاح 4 دسمبر 1964 ءکے روز لوک سبھا اجلاس کے دوران بھارتی وزیر داخلہ گلزاری لال نندہ نے کی یہ کہتے ہوئے استعمال کہ اِس ٹنل سے بہت سا را ٹریفک گذر چکا ہے اور بھی گذرے گااور نندہ نے یہ بھی کہاکہ دفعہ 370 ایک خالی گولہ ہے جس کا بارود نکالا جا چکا ہے چناچہ یہ رہے یا نہ رہے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔

اُن کا یہ بھی کہنا رہا کہ جموں و کشمیر کیلئے آئینی ترمیم کوئی مشکل کام نہیںکیونکہ اُس کیلئے صرف صدارتی حکم کافی ہے ۔اِس سے پہلے 27نومبر 1963ءکے روز پنڈت جوہر لال نہرو کا یہ بیاں آیا کہ دفعہ 370 میں رخنہ اندازی ہو چکی ہے اور یہ ایک جاری سلسلہ ہے اِسے چلتے رہنا چاہیے ۔ہم اُسے ختم کرنے میں پیش قدمی نہیںکرنا چاہتے۔پنڈت نہرو و گلزاری لال نندہ کے یہ بیانات عبدالغفورنورانی کی تصنیف (جموں و کشمیر کی آئینی تاریخ ۔A constitutional history of Jammu & Kashmir۔۔صفحہ:2) پہ منعکس ہے۔دیکھا جائے تو جموں و کشمیر میں آئینی ترمیمات کے ضمن میں یہ سہولیت دفعہ 370 کی کمزوری کی آئینہ دار ہے۔

آئینی ٹریفک ٹنل 370 سے گذرنے کا احوال جو بھارتی وزیر داخلہ گلزاری لال نندہ کے بیاں میں آیا ہے ظاہر ہے اور رخنہ اندازیوں کے علاوہ 1952 ءکے (دہلی ایگریمنٹ) کی جانب اشارہ تھا جہاں بھارت نے اقتصادی امور کا کنٹرول حاصل کیا اور یہ بھی مواقفت ہوئی کہ بھارتی عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ) کا اطلاق بھی بعد میںریاست پہ ہو جائے گا ۔اُس کے بعد 1965ءمیں جموں و کشمیر کے آئین میں چٹھی ترمیم کروا کے آئین ہند کی دفعات 356-357 کا اطلاق ہوا اور بھارتی سربراہ مملکت کے اختیارات کو وسعت بخشی گئی جہاں اُنہیں جموں و کشمیر کے آئینی سربراہ کو نامزد کرنے کا براہ راست اختیار حاصل ہوا جبکہ وہ پہلے ریاستی قانون سازیہ کی سفارش کا متحمل تھا۔غیر معمولی حالات میں قانون سازیہ کی معطلی اور نظم و نسق کو اپنے ہاتھ میں لینے کے اختیارات حاصل ہوئے۔

یہ کام صادق سرکار سے کروایا گیا چونکہ اُنہیں حکومت بخشی غلام محمد کو بر طرف کر کے بخشی گئی تھی۔ چنانچہ صادق صاحب وزیر اعظم جموں و کشمیر سے وزیر اعلی بن گئے اور اقتدار سے چمٹے رہنے کیلئے اُنہوں نے یہ وار سہہ لیا یہی نہیں صدر ریاست گورنر بن کے رہ گئے بھارتی آئینی اداروں کے تابع اور ٹنل سے ٹریفک چلتا رہاسرنگ سے آئینی گذر ہوتا رہا۔موجودہ حالات میں کہا جا سکتا ہے کہ دفعہ 370 کے بارے میں ریاستی ہائیکورٹ کا فیصلہ ایک سنگ میل کی حثیت رکھتا ہے اسلءباوجود کہ اِسی دفعہ کو ڈال بنا کر آئینی در اندازی بھی ہوئی ہے۔اللہ نگہباں!

مصنف: ڈاکٹر جاوید اقبال

(نوٹ)
یہ مضموں ایک سال پرانہ ہے۔ کشمیریت کا ایسے مضامین کو شائع کرنے کا مقصد ریاست جموں کشمیر کے اندر ہونے والے روز بروز تبدیلیوں کے حوالے سے مختلف فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا صارفین کی تحریروں کو محفوظ رکھنا ہے۔