298

پی ٹی ایم اور غداری کے فتوے

بھائی بات بہت سادہ سی ہے۔ ہم سب انسان ہیں۔ ہم چاہے شہروں میں رہیں یا پھر دیہات میں، پہاڑوں پر رہیں یا پھر میدانوں میں، ساحلوں پر رہیں یا پھر جزیروں پر، جنگلوں میں رہیں یا بیابانوں میں ، کسی براعظم کے ہوں ، کسی ملک کے ہوں، کسی قوم، رنگ، نسل کے ہوں، کسی بھی خدا کے ماننے والے ہوں جو چیز ہم میں مشترک ہے وہ ہے انسانیت۔ وہ مسئلہ جو ہم تمام انسانوں کو درپیش ہے وہ ہے بقا کا مسئلہ یعنی ہم سب کو بھوک لگتی ہے جس کو ختم کرنے کے لیے کھانا چاہیے ، ہمیں رہنے کے لیے گھر ، پہننے کے لیے لباس چاہیے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ مخض فرد کی بقا سے انسانیت کی بقا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے ہم نسل انسانی کی بقا کے لیے سماج کا سب سے بنیادی ادارہ خاندان بناتے ہیں جس میں کم سے کم یعنی دو انسان ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے حقوق اور فرائض طے کرتے ہیں۔ اور پھر اس کے پابند ہو کر اپنی اولاد کی پرورش کرتے ہیں۔ ایک خاندان کی بقا سے بھی بقاء انسانی کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تو ہم قبیلے، اور قوم کی اکائیوں کی تخلیق کرتے ہیں۔ قوم کا نظم برقرار رکھنے کے لیے ریاست کا ادارہ تخلیق کیا جاتا ہے اور یہ ریاست جس ضابطے کی پابند ہوتی ہے اس کو آئین کہا جاتے ہے۔ آئین اقوام میاں بیوی کے درمیاں طے پانے والے حقوق و فرائض کی ہی ترقی یافتہ شکل ہوتی ہے فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ تعداد میں لاکھوں ، کروڑوں اور بعض دفعہ اربوں لوگوں کے درمیاں طے کیا گیا سمجھوتا ہوتا ہے اور اس کے نفاذ کی ذمہ دار ریاست ہوتی ہے۔ بعض ریاستیں بہت سی اقوام کے وفاق کی صورت میں بھی وجود رکھتیں ہیں جن میں ایک سے زیادہ اقوام رہتیں ہیں۔ یہ ریاستیں بھی اپنا نظم چلانے کے لیے ایک وفاقی آئین بنا لیتی ہیں جس کا حق یہ ہوتا ہے کہ وہ تمام اقوام پر برابر لاگو ہو۔

اب ہوتا کچھ یوں ہے کہ یہ سب کچھ جو اوپر بیان کیا گیا انسان اپنے انفرادی اور اجتماعی فائدے کے لیے کرتا ہے اور اگر انسان کی بنائی ہوئی کسی چیز سے اس کو فائدے کے برعکس نقصان پہنچنے لگے تو وہ اس کو توڑنے یا ختم کرنے میں بھی دیر نہیں کرتا۔ گھر اگر بوسیدہ ہوجائے تو گرا دیا جاتا ہے اور نیا بنا دیا جاتا ہے۔ مرد اور عورت مل کر خاندان یا کنبہ ضرور بناتے ہیں لیکن اگر دونوں کو یا دونوں میں سے کسی ایک کو یہ محسوس ہونے لگے کہ اب الگ ہوجانے میں بہتری ہے تو وہ الگ بھی ہوجاتے ہیں۔ دنیا کے کسی مذہب، قانون یا ثقافت میں اس عمل کو ناجائز یا معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ بالکل اسی طرح قبیلے اور قومیں بھی جڑتی اور تقسیم ہوتی رہتی ہیں۔ قومیں وفاق اس لیے بناتی ہیں کہ وہ ایک دوسرے وسائل پر قبضہ نہیں کریں گی۔ ایک دوسرے کا دفاع کریں گی۔ اور ضرورت پڑنے پر الگ ہونے کا حق بھی مخفوظ رکھیں گی۔ ہمارے پاس امریکہ، یورپی یونین اور ماضی میں سوویت یونین کی مثالیں موجود ہیں۔ سوویت یونین کی مثال موضوع سے مطابقت اس لیے بھی رکھتی ہے کہ انقلاب روس کے بعد بے شمار اقوام اشتراکی روس کا حصہ بنی لیکن جب ان کو لگا کہ ہمارا الگ الگ رہنا ہی مناسب ہے تو بغیر کوئی نفرت پالے ایک معائدے کے تحت الگ ہو گئے۔

اب موضوع کی طرف آتے ہیں۔ آپ پاکستان کو اپنا گھر سمجھیں یا ملک، خود کو پاکستانی قوم سمجھیں یا ملت اور پاکستان کو اکھنڈستان سمجھیں یا پھر مختلف قوموں کا وفاق۔ لوگ اس میں تب تک ہی رہیں گے جب تک ان کی جان مال عزت آبرو محفوظ رہے گی۔ وزیرستان میں گزشتہ ایام میں ہونے والے واقعات کی تفصیل میں اگر جایا جائے اور ان چیزوں کو زیر بحث لایا جائے کہ کس نے جھنڈا جلایا اور کس نے چوکی پر حملہ کیا اور کس نے فائر کھولا تو ایک ناختم ہونے والی بخث کی جاسکتی ہے لیکن ان حالات میں اگر مقصد مسائل کا حل ہو تو بحث کا یہ طور نہیں اختیار کیا جاتا بلکہ معاملات کو اصولی طور پر جائزہ لیا جاتا ہے۔ اور اصولی بات یہ ہے کہ جس طرح آپ ایک گھر بناتے ہیں اور گھر کی حفاظت پر چوکیدار معین کرتے ہیں اور اس چوکیدار پر اعتماد بھی کرتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ چوکیدار پر ہمیشہ اعتماد کرنا درست ہو۔ ہمارے پاس ایسی کہی مثالیں موجود ہیں کہ جب بینک کی دیکیتیوں میں بینک کا چوکیدار بھی ملوث پایا گیا ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح فوج کسی بھی ریاست کی چوکیدار ہوتی ہے اور اس چوکیدار کو معین کرنے والی عوام ہوتی ہے اور اگر عوام چوکیدار سے تنگ ہو جائے تو اس کو چوکیداری کا حق نہیں رہتا۔

اب رہی بات سچائی تک پہنچنے کی تو آپ میں اور وزیرستان کے لوگوں میں مشترک یہ ہے کہ آپ بھی عوام ہیں اور وہ بھی عوام۔ یہ لوگ اور پی ٹی ایم والے آپ کو کہیں بھی آسانی سے مل جائیں گے ان کے پاس حوصلے سے بیٹھیں اور ان سے وہ سنیں جو ان پر بیتی ہے اور بیت رہی ہے اور اگر آپ زیادہ محب وطن ہیں تو ایک بار ان کے علاقے کا چکر لگا لیں تاکہ حقائق آپ پر واضح ہو جائیں۔ یقین مانیے فتوے بازی اور غداری کے سرٹیفیکیٹ سے اس معاملے میں کوئی سلجھاؤ نہیں آنے والا بلکہ اگر یہ روش جاری رہی تو شاید آپ کو ایک اور سقوط ڈھاکہ دیکھنا پڑھ جائے جو آپ کو ہر گز گوارہ نہیں گزرے گا۔

آخر میں  ایک بات پھر دھراؤں گا، یہ ملک قوم ریاست سب انسانوں کے لیے ہے انسان ان کے لیے نہیں۔ خدا راہ انسانوں کو ان کے لیے قتل مت کریں۔