Shafqat Raja Jammu Kashmir 127

4 اکتوبر ۔۔۔ نظریاتی ابہام- شفقت راجہ

متنازعہ و منقسم ریاست جموں کشمیر صدیوں سے موجود ،کسی طویل ارتقائی عمل کا نتیجہ یا کوئی قدیم موروثی ریاست نہیں بلکہ انگریز خالصہ جنگ کے بعد ہوئے معاہدہ لاہور اور معاہدہ امرتسر 1846سے جنم لینے والی ایک ایسی حادثاتی ریاست ہے کہ جس میں صدیوں کی تاریخ رکھنے والے خطے کشمیر، جموں، لداخ، بلتستان، دردستان وغیرہ پر مشتمل ماضی کی مملکتیں، ریاستیں، راجواڑے، امارات اور جاگیریں شامل ہیں۔ 3 جون 1947کے ماونٹ بیٹن پلان کے مطابق جولائی 1947میں برطانوی ایوان سے انڈین اینڈیپنڈنس ایکٹ کی منظوری کے بعد15اگست 1947تک دوقومی نظریہ کی بنیاد پرتقسیم ہند منصوبہ (1947)کی تکمیل میں جہاں ایک طرف برطانوی ہند پاکستان و بھارت میں تقسیم تووہیں برصغیر کی تقریباٌ پانچ سو باسٹھ شاہی ریاستوں کے حکمران اپنا مستقبل بھارت و پاکستان سے جوڑنے کیلئے منصوبہ بندی کر رہے تھے ۔ آخری مراحل کے دوران جودھپور، جوناگڑھ ، بھوپال، سکم،حیدرآباد اور جموں کشمیر ایسی ریاستیں تھیں جن کے حکمران اس ضمن میں ہچکچاہت کا شکار تھے۔ وی پی مینن، سردار پٹیل اور لارڈمانٹ بیٹن کی کوششوں سے اکثر ریاستوں کیساتھ جودھپور اور بھوپال نے بھی بالآخر بھارت سے رشتہ جوڑ لیا۔

ریاست سکم نے بھارت کیساتھ معاہدہ جاریہ (Standstill Agreement) کرلیا جو مئی 1975تک شخصی نظام کیساتھ اندرونی خودمختار حیثیت سے قائم بھی رہی۔ہندوستان کی امیرترین ریاست حیدرآباد جس کی اکثریتی آبادی ہندو تھی جبکہ مسلمان حکمران نظام عثمان علی خان نے ریاستی خودمختاری بحال رکھنے کا ارادہ کیا تاہم ریاست میں سیاسی انتشار پیدا ہوگیا اور ستمبر 1948میں بھارت نے حیدرآباد پر قبضہ کر لیا تھا۔ہندو اکثریتی ریاست جوناگڑھ کے مسلم نواب مہابت خانجی نے کسی زمینی رابطہ کے بغیر پاکستان سے الحاق کی درخواست کی جسے 13ستمبر1947کو پاکستان نے منظور کرلیا اور یہیں سے بھارت اور پاکستان کا پہلا ٹکراو شروع ہوا۔ جوناگڑھ میں بھی سیاسی افراتفری کو دیکھتے ہوئے ۲۵ ستمبر ۱۹۴۷ کو بمبئی میں کانگریسی رہنماوں نے سملداس گاندھی کی قیادت میں جوناگڑھ کی عبوری انقلابی حکومت کا اعلان کر دیا جس کا ہیڈکوارٹر راجکوٹ بنایا گیا۔ 22اکتوبر بھارت کے ایک فوجی دستے نے جوناگڑھ کی زیرنگین ریاست مناودر اور یکم نومبرتک منگرول اور بابریاواد پر قبضہ کیا۔

قلیل و کمزورریاستی فوج مزاحمت نہ کر سکی، نواب مہابت خانجی کراچی چلے گئے اور8 نومبر 1947کو دیوان سر شاہنواز بھٹو بھارتی انتظامیہ کو انتظام ریاست سنبھالنے کی دعوت دینے کے بعد خود پاکستان روانہ ہو گئے (بعدازاں جوناگڑھ میں ریفرنڈم ہوا جس میں پچانوے فیصد سے زائد لوگوں نے بھارت میں شمولیت کے حق میں رائے دی)۔ جموں کشمیر کی جغرافیائی اور سیاسی و سماجی صورت حال با قی ریاستوں سے مختلف اور قدرے پیچیدہ بھی تھی۔صوبہ کشمیر لگ بھگ نوے فیصدمسلم اکثریت، جموں صوبہ قدرے ہندو اکثریت، لداخ میں لہہ بدھ مت اور کرگل میں مسلم اکثریت، بلتستان و دردستان میں مسلم اکثریتی آبادی تھی۔

برصغیر کی فرقہ وارانہ سیاست کے اثرات سے ریاستوں کا د ور رہنا ناممکن تھا اسی لئے وادی کشمیر کے علاوہ ان علاقوں کی ہمدردیاں دو قومی نظریہ کی بنیاد پر عیاں ہی تھیں۔ جموں میں ایک طرف دائیں بازو کے ہندو مذہبی گروہ مضبوط تھے تو ایک حصہ مہاراجہ کا طرفدار بھی تھا۔ ریاست کی مجموعی مسلم اکثریت کی سیاست میں وادی کشمیر میں مقبول ترین رہنما شیخ عبداللہ کی نیشنل کانفرنس سیکولر نظریات کیساتھ ( انڈین نیشنل کانگریس کی اتحادی ) الحاق بھارت جبکہ جموں کے مسلمانوں کی حمائت کی دعویدار چوہدری غلام عباس کی مسلم کانفرنس(مسلم لیگ کی پیروی میں) الحاق پاکستان کی پرچارک تھی تاہم مسلم کانفرنس ایک وقت میں مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت کی تجویز پرخودمختاری کیلئے مہاراجہ ہری سنگھ کو آئینی حکمران بھی تسلیم کرنے کو تیار تھی جس کیلئے مجلس عاملہ نے18جولائی 1947کو ریاستی خودمختاری کی قرارداد بھی منظور کی جس کے متوازی مسلم کانفرنس ہی کے ایک دھڑے نے سرینگر میں سردار ابراہیم خان کے گھر میں اگلے ہی دن 19 جولائی کو الحاق پاکستان کی قرارداد منظور کر لی ( نظریہ پاکستان کے حوالے سے چوہدری غلام عباس اور سردار ابراہیم خان کا موقف انکی کتابوں میں بالکل واضح ہے) ۔

تیسری سیاسی قوت مہاراجہ ہری سنگھ تھا جو ریاست کی اس پیچیدہ صورت حال کے پیش نظر ریاست کے بھارت و پاکستان میں سے کسی ایک کیساتھ الحاق کی بجائے ریاستی خودمختاری کا خواہشمند تھا لیکن برصغیر کی مجموعی اور ریاست کی اندرونی طوفانی سیاست میں شدید
دباو کا شکار تھا۔ مہاراجہ نے مستقبل کے پاکستان اور بھارت کو معاہدہ قائمہ (Standstill Agreement) کی پیشکش کی جسے15 اگست 1947کو پاکستان نے قبول کیا جبکہ بھارت نے مزید مزاکرات کیلئے التوا میں ڈال دیا۔

ستمبر ۱۹۴۷ میں پاکستان سے الحاق کرنے والی ریاست جوناگڑھ کے حالات قابو سے باہر ہو رہے تھے تو دوسری طرف ریاست جموں کشمیر میں بھی سیاسی عمائدین کے دوطرفہ رابطوں اور متصادم راستوں پر سفر کے باعث سیاسی انتشار جنم لے رہا تھا۔ ستمبر ہی میں پنجاب سے ملحقہ ریاست جموں کشمیرکے مغربی علاقے (پونچھ، میرپور، مظفرآباد) میں پنجاب کی سیاست برائے راست مداخلت کر رہی تھی اور پنجاب ہی سے ریاست میں روزمرہ ضروریات کی رسد میں بھی مشکلات پیدا ہو گئیں تھیں۔

جس طرح ستمبر کے آخر میں بمبئی (تاج محل ہوٹل) سے جوناگڑھ کی عبوری حکومت کا اعلان ہوا تھا بالکل اسی طرح 4 اکتوبر 1947 پیرس ہوٹل راولپنڈی سے مسلم کانفرنس کے ایک دھڑے نے ریاست جموں کشمیر کی عبوری جمہوری حکومت کا اعلان کر دیا جسے 8اکتوبر1947کے سول ملٹری گزٹ نے شائع کیا۔ ہمارے ہاں اکثر بظاہر قوم پرست و ترقی پسند گروہ اسی اعلان کو جانے انجانے میں اپنے نظریہ قومی خودمختاری کی بنیاد سمجھتے ہوئے اپنے متوقع انقلاب کی عمارت بھی اسی پر کھڑی کرتے ہیں۔ آج ہم اسی اعلان کو تھوڑا کھنگالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر اس بنیاد کی اپنی حالت کیا ہے۔

ٌٌٌ 4 اکتوبر اعلان بمطابق سول ملٹری گزٹ، مسلم کانفرنس کے رہنماوں نے کشمیر کیلئے عبوری حکومت کا اعلان کر دیا: (اعلان کے مطابق) ریاست کشمیر کیلئے عارضی جمہوریہ حکومت کا قیام بمقام مظفرآباد پاکستانی سرحد سے بیس میل دور عمل میں لایا گیا ہے۔ اس تار کے مطابق جو ہفتہ کی رات کے وقت (3 اکتوبر) راولپنڈی سے موصول ہوئی ہے، یہ اعلان جو مسٹر انور کے دستخط سے جاری ہواہے، اپنے تئیں صدر عارضی جمہوریہ حکومت کشمیر بیان کرتے ہیں۔ (تار میں درج ہے) برطانیہ کا اقتدار اعلیٰ ختم ہونے کیساتھ ہی کشمیر کے حکمران خاندان کے وہ تمام حقوق زائل ہو گئے ہیں جن کا بیعنامہ امرتسر(1846) کی بنیاد پر وہ دعویٰ کرتا تھا۔ جس کے تحت برطانیہ نے کشمیر کو گلاب سنگھ کے ہاتھوں بعوض معمولی رقم پچاس لاکھ منتقل کر دیا تھا۔ گلاب سنگھ موجودہ مہاراجہ ہری سنگھ کا جدامجد تھا۔

ریاستی عوام نے مظفرآباد کو ہیڈکوارٹر بنا کر عارضی جمہوریہ حکومت کشمیر کا قیام عمل میں لایا ہے۔4 اکتوبر 1947رات ایک بجے کے بعد موجودہ حکمران ہری سنگھ یا کوئی اور شخص جو اسکے احکام یا ہدایات کے تحت ریاست پر حکمرانی کا دعویٰ کرے ، اسے عارضی جمہوریہ حکومت کشمیر کے قوانین کے تحت سزا دی جائیگی۔ اب سے تمام قوانین، احکامات اور ہدایات جو عارضی جمہوریہ حکومت کشمیر کی جانب سے شائع اور جاری ہونگے، عوام کا فرض ہے کہ وہ ان احکام کا احترام و تعمیل کریں۔ مسٹر انور کشمیر مسلم کانفرنس کے ممتاز ممبر ہیں جس مسلم کانفرنس کے پریذیڈنٹ چوہدری عباس اور جنرل سیکرٹری آغا شوکت علی ہیں جو ایک سال سے بحکم کشمیر گورنمنٹ محبوس ہیںٌ ۔

اس خود ساختہ انقلابی اور جمہوری حکومت کی کابینہ میں سوائے وزیراعظم سردار ابراہیم خان کے تمام نام فرضی ہیں اور قبائلی حملہ کے منصوبہ ساز بریگیڈئر اکبر(جنرل اکبر کتاب، کشمیر کے حملہ آور) کے مطابق انکی ستمبر میں بمقام مری سردار ابراہیم خان سے اس قبائلی حملہ کے منصوبہ سے متعلق تفصیلی ملاقات ہوئی تھی اور بعد میں مزید ملاقاتیں بھی ہوئیں۔

اب اس اعلان کا جائزہ لیا جائے تو پہلا سوال تو اٹھتا ہے کہ مسٹر انور کون ہے؟ کچھ قوم پرست اسے خواجہ غلام نبی گلکار کا فرضی نام کہتے ہیں جبکہ خود انہوں نے اس کا اعتراف کبھی نہیں کیا۔ دوسرے دعویدار انور شاہ اور تیسرے سب کو معلوم ہے کہ آنے والے دنوں میں ہونے والے قبائلی حملے کی کمانڈ میجرخورشید انور کے پاس تھی اور اسکے علاوہ کسی انور کا کوئی ذکر کسی مسند کتاب کے حوالے سے کہیں موجود ہی نہیں ۔ پھر درج ہے کہ برطانوی اقتدار اعلیٰ کیساتھ معا ہدہ امرتسر کے تحت گلاب سنگھ کو منتقل ہونے والے کشمیرپرمہاراجہ ہری سنگھ کا حق حکمرانی بھی ختم ہو گیا،

یعنی معاہدہ میں تو 1947 کی متحدہ ریاست کا حصہ کشمیر گلاب سنگھ کو منتقل ہوا جموں تو 1820سے اسکے زیر حکمرانی تھالہذا معاہدہ کے خاتمے کے ساتھ ہی متحدہ ریاست بھی ختم اور کشمیر کی نمائندگی اب یہ عارضی جمہوری حکومت مظفرآباد سے کریگی اور معزول مہاراجہ سمیت اہل کشمیر کو اس حکومت کے احکامات نہ ماننے کی سزا بھی ملے گی۔ حکومتی اعلان میں سب سے اہم اور واضع حصہ یہ ہے کہ مسٹر انور کا تعلق مسلم کانفرنس سے ہے جس کی قیادت چوہدری غلام عباس کرتے ہیں۔ اب مسلم کانفرنس کا نظریہ الحاق پاکستان 1947سے اب تک کس سے ڈھکا چھپا ہے۔

اس عبوری حکومتی اعلان کے بعد انہی علاقوں میں شورش ہوئی جسے آج آزاد جموں و کشمیر کہتے ہیں جو 22 اکتوبر کے قبائلی حملے کے نتیجے میں متحدہ ریاست سے کاٹ کر جہاں24اکتوبر1947کی نئی عبوری حکومت کا اعلان اور اعلامیہ جاری کیا گیا تھا۔ جسکے مطابق یہ حکومت چند ہفتے پہلے والے اعلان (4 اکتوبر) کی تشکیل نو ہے جس کے اب سربراہ سردار ابراہیم خان ہیں جو ریاست کے وسیع آزادشدہ حصے میں قائم ہوئی ہے اور باقی ماندہ حصوں کو بھی جلد ڈوگرہ حکومت سے آزاد کرائیگی۔ اس حکومت کا بھی دعویٰ تھا کہ وہ ریاستی عوام کی مجموعی نمائندہ ہے اور وہ ہر علاقے اور مذہب کے لوگوں کا حق حکمرانی تسلیم کرتی ہے ۔ یہ عبوری حکومت ، پاکستان اور بھارت سے دوستانہ تعلقات کی خواہاں اور حالات کے معمول پر آتے ہی ریاست کے مستقبل کیلئے ریاستی عوام رائے شماری کے ذریعے فیصلہ کرینگے کہ وہ بھارت و پاکستان میں سے کس کیساتھ الحاق کرینگے۔

ان دونوں اعلانات کے بغور جائزہ کے بعد 4 اکتوبر کی یہ منصوبہ بند مہم جوئی اس کے بعد ہونے والی ریاستی تقسیم کی بنیاد بن جاتی ہے کہ جس عبوری حکومت کے اعلان کے بعد قبائلی حملہ اور جس کے ردعمل میں مہاراجہ کا بھارت سے مشروط الحاق ، پھر تنازعہ جموں کشمیر کا جنم اور پھر جنگ بندی لکیر (کنٹرول لائن) کے ذریعے ریاست کی آج تک کی تقسیم ہوئی ہے۔

یہ بات تو طے ہے کہ عبوری حکومت کے یہ دونوں اعلانات مسلم کانفرنس کے زعما نے کئے لیکن ان دونوں اعلانات میں مسلم کانفرنس کی چوہدری حمیداللہ، پروفیسر اسحاق قریشی یا چوہدری غلام عباس جیسی اعلیٰ قیادت کا نشان اور نہ ہی وادی کشمیر کے سب سے مقبول رہنما شیخ عبداللہ کا کہیں کوئی کردار رکھا گیا جو اس وقت اہل کشمیر(وادی) کے بلا شرکت غیرے حقیقی ترجمان تھے۔ دونوں عبوری حکومتوں میں لداخ بشمول، بلتستان اور گلگت کی کہیں نمائندگی نہیں اور نہ ہی کسی غیرمسلم کا کوئی نام ڈھونڈے سے بھی ملتا ہے۔

شواہد کی روشنی میں بادی النظر لگتا یہی ہے کہ 15اگست 1947سے ریاستی کی قانونی خودمختاری اور ایک آئینی مقتدر حکومت کی موجودگی میں باغی عبوری حکومت کے یہ دونوں اعلانات مسلم کانفرنس کی نظریاتی اساس کے مطابق مسلم لیگی قیادت اور حکومتی انتظامیہ(پاکستان) کی مشاورت سے کئے گئے اور مسلم کانفرنس کے نظریہ الحاق پاکستان کے دراصل عملی نمونے ہیں ۔ آزاد عبوری حکومت کے یہ اعلانات مسلم کانفرنس کی تاریخی سیاسی جدوجہد میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ 1947سے اب تک مسلم کانفرنس کیساتھ الحاق نواز سیاسی جماعتوں کی طرف سے 24 اکتوبر یوم تاسیس کے طور پر منایا جاتا ہے اور خطہ آزادکشمیر میں عام تعطیل کا دن بھی ہے۔

نام نہاد آزادکشمیر کی ساری سیاست کی نظریاتی اساس کا منبع مشترک ہے اسی لئے اسکی بنیادیں بھی مشترک ہیں اور ثابت ہے کہ اسکا اثر و رسوخ بھی اسی ساڑھے چار ہزار مربع میل تک ہی محدود ہے ۔ 4اور24 اکتوبر1947کی ان عبوری حکومتوں کے اعلانات( یا اعلامیہ) آپ کے سامنے ہیں، انکا خود تجزیہ کیجئے کہ مسلم کانفرنس کی طرف سے تو 4 او24اکتوبر1947 کی تاریخی اہمیت سمجھ میں آ سکتی ہے لیکن قوم پرست و ترقی پسند حلقوں کی طرف سے ان دو دنوں کی سیاسی مہم جوئی میں تفریق اور 4اکتوبر یوم جمہوریہ کشمیر اور 24 اکتوبر کو اس نومولود جمہوریہ کے خلاف سازش کا الزام ہر ذی شعور کیلئے سمجھ سے بالا تر ہے کیونکہ ان دونوں مراحل میں مسلم کانفرنس کا وہی گروہ شامل ہے جس نے اپنی نظریاتی اساس کے مطابق 19جولائی 1947کو قرارداد الحاق پاکستان منظور کی تھی اور ان عبوری اعلانات میں دراصل اسے عملایا بھی تھا۔

اس مہم جوئی کو اگر بائیں بازو کے چوغے میں اگر پنڈت پریم ناتھ بزاز کی تحریک آزاد کشمیر سے بھی جوڑا جائے تو یاد رہے کہ پنڈت پریم ناتھ بزاز کشمیر اور جموں کی اس ریاستی وحدت کو تسلیم نہیں کرتے اور دو قومی نظریہ کی بنیاد پر الحاق پاکستان کے داعی رہے ہیں، وہ تقسیم کے دوران پاکستان چلے آئے تھے اور ایوب خان کے اقتدار میں آنے تک پاکستان ہی میں رہے۔ آپ خود ہی فیصلہ کیجئے کہ عبوری حکومت کی جس مہم جوئی کے نتیجے میں آج تک ریاست جموں کشمیر و لداخ نہ صرف متنازعہ بلکہ تقسیم بھی ہوئی ہے وہ بھلا متحدہ ریاست کی بحالی کی تحریک کوکیسے بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔

متنازعہ ریاست جموں کشمیر و لداخ کے تمام باشندگان ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ریاستی مستقبل کے حوالے سے اپنا کوئی بھی سیاسی نظریہ اپنائیں لیکن ان نظریات کی کی ظاہری رنگینی کیساتھ انکی اساس کو کم از کم سمجھنے کی کوشش تو کریں اور اپنے اس نظریاتی اساس کیلئے جھوٹی اور کمزوربنیاد یں دوسروں سے مستعار لینے کی بجائے اسے اپنے نظریاتی حریف سے سیکھنے کی جسارت ہی کر لیں