118

میر پور: چیئر مین پی این اے کی حکومتی وفد سے ملاقات، کشمیر چھوڑ دو تحریک کے حوالے سے مذاکرات

وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر کی ہدایت پر حکومتی وزراء کے وفد نے جموں و کشمیر پیپلز نیشنل الائنس (JK PNA) کے چیرمئین ذوالفقار احمد ایڈووکیٹ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور ریاست جموں و کشمیر چھوڑ دو تحریک کے دوسرے مرحلے پر 21 اکتوبر کو مظفرآباد کی جانب عوامی احتجاجی مارچ کے سلسلہ میں تفصیلا بات چیت ہوئی۔ وزراء میں مشتاق منہاس اور وقار نور کے علاوہ اعجاز رضا (ڈائریکٹر جنرل میرپور ڈویلپمنٹ اتھارٹی) اور ذوالفقار ملک شامل تھے۔ جب کہ پی این اے کے احشام الحق ایڈووکیٹ، غالب بوستان ایڈووکیٹ اور اسلم وطنوف بھی موجود تھے۔

چیئرمین پی این اے نے وفد کو پی این اے کے تمام اہداف سے آگاہ کیا اور کہا کہ ہمارا مارچ پرامن، جمہوری اور جموں و کشمیر کی مکمل قومی آزادی کے سلسلہ میں عوامی شعور و فکر کی بیداری مہم کا حصہ ہے۔ ہم کسی طرع کا ٹکراؤ وغیرہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور قومی آزادی کی جدوجہد کو مثبت، جمہوری اور فکری بنیادوں پر استوار کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ البتہ ہماری مثبت و تعمیری سوچ کو اگر کمزوری تصور کرتے ہوئے ہمارے کارکنوں کو ڈرایا دھمکایا گیا، ہراساں کیا گیا یا پھر 21 اکتوبر کو کسی بھی مقام پر کوئی رکاوٹ ڈالی گئی تو پھر اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔ جس کی ذمہ داری حکومت وقت پر ہو گی۔

چیئرمین PNA نے کہا کہ:

1۔ گلگت بلتستان و ‘آزاد’ جموں و کشمیر کو باہم ملا کر آئین ساز اسمبلی کا قیام۔

2۔ معائدہ کراچی کی فوری منسوخی۔

3۔ ایکٹ 1974 کا خاتمہ۔

4۔ ریاست کی مستقل تقسیم کی گھناؤنی سازش بے نقاب کرنا۔

5۔ قانون باشندہ ریاست جموں و کشمیر (1927ء) کی گلگت بلتستان و بھارتی مقبوزضہ جموں و کشمیر میں مکمل بحالی۔

6۔ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو کے خاتمہ۔

7- بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں قید سیاسی اسیران کی غیر مشروط رہائی۔

8۔ جموں و کشمیر کی قومی آزادی جیسے مقاصد پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائےگا۔

حکومتی وفد نے یقین دلایا کہ پی این اے کے پرامن و جمہوری احتجاجی مارچ کو کہیں بھی نہیں روکا جائے گا کیوں کہ ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ اس لیے آزادی پسند، جمہوریت پسند، پرامن اتحاد میں شامل پارٹیوں کو اپنی سوچ و فکر کے مطابق اس نوعیت کی سرگرمیاں کرنے کا حق حاصل ہے۔ بلکہ حکومتی ادارے آپ کی عوامی مارچ کے دوران کسی بھی تخریبی کارروائی کے خدشہ کے پیش نظر عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے وہاں بھرپور تعاون کریں گے۔

بہرحال اس نازک مرحلہ پر دونوں فریقین کو ٹکراؤ کی پالیسی سے اجتناب برتنا ہو گا۔ کیوں کہ حالات کا تقاضہ یہی ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام میں مزید دوریاں پیدا نہ ہوں۔ تاکہ منفی سوچ کی حامل و مخالف طاقتوں کے عزائم پورے نہ ہونے پائیں۔ بات چیت انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ پی این اے کے راہنماؤں نے حکومتی وفد کا آنے پر شکریہ ادا کیا جب کہ حکومتی وفد کے اراکین نے بھی شکریہ کے ساتھ کہا کہ ملاقات کے بعد کافی غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں۔