189

مظفرآباد: دریا بچاؤ تحریک – وجوہات اور مطالبات

نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ کا کام سال 2008ء میں شروع ہوا۔ اس کی ابتدائی ماحولیاتی تجزیاتی رپورٹ سال 1996ء میں ایک نارویجین کنسلٹنٹ فرم NORPLAN نے تیار کی جسے بعد ازاں جعلسازی سے سال 2010ء میں قابل قبول شکل دے کر ادارہ تحفظ ماحولیات آزاد جموں و کشمیر سے سال 2011ء میں مشروط عدم اعتراض سرٹیفکیٹ حاصل کیا گیا۔ نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ کے لیے تیار کی گئی ابتدائی رپورٹ کے مطابق مظفرآباد شہر کی آبادی سال 2050ء میں 592,000 افراد شمار کی گئی جس باعث شہر میں پانی کی ضرورت اور سیوریج کے اخراج کی مقدار معلوم ہونے پر پورا پراجیکٹ ناقابل عمل قرار پایا تاہم جعلسازی کے ذریعے نئی رپورٹ میں مظفرآباد شہر کی آبادی سال 2050ء میں 337,000 نفوس پر شمار کی گئی جس باعث آبادی سے منسلک تمام ضروریات کو گھٹا کر ایک چوتھائی کر دیا گیا اور یوں ایک Red Category پراجیکٹ کو Green Category ظاہر کر کے قابل عمل دکھایا گیا۔ اس جعلسازی کے ذریعے نوسیری سے مظفرآباد تک دریائے نیلم میں شامل ہونے والے نالہ جھینگ، نالہ منڈل اور نالہ کہوڑی میں پانی کی مقدار کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا جسے بنیاد بنا کر دریائے نیلم کا 95 فیصد پانی نوسیری سے ٹنل میں منتقل کرنے کی سفارش کی گئی۔

اس سب کے باوجود پراجیکٹ سے خطے کے ماحول کو درپیش ناقابل تلافی نقصانات کو گھٹانے کے لیے متذکرہ رپورٹ میں کچھ اقدامات تجویز کیے گئے جن میں بعدازاں ادارہ تحفظ ماحولیات آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے جاری کردہ مشروط عدم اعتراض سرٹیفکیٹ محررہ سال 2011ء تجدید شدہ سال 2014ء میں 43 نکات کا اضافہ کیا گیا۔ ان شرائط میں سے چند ایک کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے؛

مظفرآباد شہر موجودہ وقت میں دریائے نیلم سے روزانہ ایک کروڑ گیلن پانی کشید کرتا ہے جو دریائے نیلم کا رخ تبدیل ہونے کے بعد آرسینک اور کامسر سے پیدا ہوئی آلودگی کے بعد پینے کے قابل نہ ہو گا۔ شہر کی موجودہ اور استقبالی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے نوسیری کے مقام سے gravity پر 3 کروڑ گیلن پانی روزانہ کی گنجائش کے ساتھ گریٹر واٹر سپلائی سکیم شروع کی جائے۔

دریائے نیلم کا رخ تبدیل ہونے سے مظفرآباد شہر کا درجہ حرارت 4 درجہ بڑھنے کا خدشہ ہے جس باعث مظفرآباد کے قریبی علاقوں میں بلندی پر موجود گلیشیئرز بھی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ علاوہ ازیں اس شدید ماحولیاتی تبدیلی سے شہر کے پونے دو لاکھ رہائشی (مابعد 592,000 رہائشی) ناقابل برداشت اذیت اور بیماریوں کا شکار ہوں گے۔ ماحولیاتی گراوٹ کو کم کرنے کے لیے نوسیری سے دومیل تک دریائے نیلم کے دونوں کناروں کو آراستہ کیا جائے اور یہاں بھرپور شجرکاری کی جائے۔

نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ کے لیے مجوزہ سرنگ سے مظفرآباد ضلع کے حلقہ 2 اور حلقہ 4 میں پانی کے سوتے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ایسے متاثرہ علاقوں میں پانی کی سکیموں کا اجراء کیا جائے۔ 

دریائے نیلم کا رخ تبدیل کرنے کے بعد سال کے سات ماہ دریا میں پانی کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہو گی جس باعث مظفرآباد کی فضا میں نمی کی مقدار خطرناک حد تک کم ہو جائے گی۔ اس صورتحال سے شہر میں مختلف امراض پھیلنے کا خدشہ ہے جس میں بچے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ اس گھمبیرتا سے نمٹنے کے لیے نوسیری تا دومیل، واٹر باڈیز/ بیراجز تعمیر کیے جائیں جو شہر کی فضا میں نمی برقرار رکھیں اور دریائے نیلم کا جمالیاتی حسن بھی قائم رہے۔ 

مظفرآباد شہر میں 16 مقامات سے دریائے نیلم میں سیوریج شامل ہوتا ہے جو دریا کا رخ تبدیل کرنے کے بعد ماکڑی سے دومیل تک پورے خطے کو عملاً ایک گٹر لائن میں تبدیل کر دے گا۔ یہ صورتحال پورے شہر کی فضا کو متعفن کرے گی جس باعث شہریوں کی جانب سے شدید ردعمل کی توقع ہے۔ ضروری ہے کہ متذکرہ 16 مقامات پر سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس لگائے جائیں تاکہ سیوریج کا پانی صاف ہو کر دریا کے سپرد ہو۔ یہ پلانٹس فضلے کو قابل استعمال بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ 

مظفرآباد کے مختلف مقامات سے کوڑا کرکٹ دریا برد کیا جاتا ہے جو دریا کا رخ تبدیل ہونے کے بعد اسے گندے نالے میں تبدیل کر دے گا۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سالڈ ویسٹ منیجمنٹ پراجیکٹ شروع کیا جائے جو کوڑا کرکٹ ری سائیکل کر کے اسے قابل استعمال بنائے۔

بدقسمتی سے متذکرہ شرائط سمیت ادارہ تحفظ ماحولیات آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے جاری کردہ مشروط عدم اعتراض سرٹیفکیٹ میں درج کسی بھی شرط پر عمل نہ کیا گیا اور واپڈا نے اگست 2018ء میں نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ مکمل کرنے کے بعد 969 میگاواٹ بجلی پیدا کرنا شروع کر دی۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ ادارہ تحفظ ماحولیات آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے جاری کردہ مشروط عدم اعتراض سرٹیفکیٹ میں یہ بات درج تھی کہ جملہ شرائط میں سے کسی ایک پر بھی عمل نہ ہونے کی صورت میں NOC تین برس بعد منسوخ تصور ہو گا۔ احباب اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھیں کہ نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر سے بغیر معاہدہ کیے شروع اور مکمل کیا گیا جو ریاستی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ 

مظفرآباد: دریا بچاؤ تحریک کا ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پر احتجاج

دریا بچاؤ کمیٹی جو 13 اگست 2018ء سے مسلسل واپڈا کی چیرہ دستیوں اور انسان دشمن حرکات کے خلاف علم جہاد بلند کیے ہوئے ہے مطالبہ کرتی ہے کہ دریائے نیلم میں بین الاقوامی قواعد کے مطابق 60 فیصد پانی برقرار رکھا جائے۔ نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ کا آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے ساتھ معاہدہ کیا جائے اور ادارہ تحفظ ماحولیات آزاد جموں و کشمیر معہ نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ کی ابتدائی ماحولیاتی تجزیاتی رپورٹ میں تحریر کردہ شرائط پر من و عن عملدرآمد کیا جائے۔

اب جبکہ 84 ارب روپے سے شروع ہو کر 506 ارب روپے میں مکمل ہونے والا نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ غیر قانونی اور غیر اخلاقی بنیادوں پر مظفرآباد کے ماحول کو بالخصوص اور ملک پاکستان کے ماحول کو بالعموم متاثر کرتے ہوئے بجلی پیدا کر رہا ہے، دریا بچاؤ کمیٹی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ اس پراجیکٹ پر اٹھنے والے اخراجات کا فرانزک آڈٹ کروایا جائے اور اس پراجیکٹ میں میگا کرپشن کرنے والوں کا کڑا احتساب کیا جائے۔ 

اس پراجیکٹ کے ذریعے مظفرآباد شہر کا درجہ حرارت تبدیل کر کے خطے کے برفانی ذخائر کو ختم کرنے اور دریائے جہلم کے بڑے معاون دریا، نیلم کو خشک کرنے کی سازش میں ملوث افراد کو عبرت ناک سزا دی جائے۔ دریائے نیلم کی تباہی، مستقبل میں دریائے جہلم کو پانی کی کمیابی کا شکار بنائے گی جس باعث نہ صرف آزاد جموں و کشمیر بلکہ پنجاب اور سندھ بھی آبی دہشت گردی کا شکار ہوں گے۔

مظفرآباد شہر کے پونے دو لاکھ لوگوں کے لیے دریائے نیلم کو معدوم کرنے اور ضلع مظفرآباد کے ساڑھے چھ لاکھ لوگوں کو بذریعہ سرنگ پانی کے ذخائر سے محروم کرنے کے بعد ملک کے ظالم صاحبان اختیار نے چائینیز کمپنی تھری گارجز کارپوریشن کے ذریعے دریائے جہلم کا رخ تبدیل کرنے کا عندیہ دیا ہے جس پر 1124 میگاواٹ کا کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ تعمیر کیا جائے گا۔ اس پراجیکٹ کو Hagler Bailly اپنی ماحولیاتی تجزیاتی رپورٹ میں Environmental Disaster قرار دے چکی ہے جس کی بنیادی وجہ دریائے جہلم کو بذریعہ سرنگ سراں کے مقام سے کوہالہ منتقل کرنا ہے۔ اس مجرمانہ فعل کے بعد سراں سے مظفرآباد تک کا علاقہ واٹر ٹیبل گرنے کے باعث بنجر ہو جائے گا جبکہ سراں سے کوہالہ تک دھماکوں کے ذریعے سرنگ بنانے سے حلقہ 4 مکمل متاثر ہو گا جہاں سے لوگ بعدازاں ہجرت پر مجبور ہو جائیں گے۔ اس علاقے سے پہلے ہی ایک سرنگ نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ کے لیے مجہوئی سے کوہالہ تک نکالی گئی ہے جس نے نہ صرف اس علاقے کے آبی ذخائر/ چشموں کو متاثر کیا بلکہ ڈنہ سہوتر کا علاقہ زمین میں دھنس گیا جس سے درجنوں خاندان بے گھر ہوئے۔ 

جون 25 کو دنیا بھر میں دریا بچاؤ تحریک کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا

دریا بچاؤ کمیٹی آزاد جموں و کشمیر کے کسی بھی خطے میں دریاؤں کا رخ تبدیل کرنے کی مخالفت کرتی ہے اور اسے غیر فطری اور غیر انسانی فعل تصور کرتی ہے۔ دریا بچاؤ کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ بہتے پانیوں پر چھوٹے ہائیڈل پراجیکٹس لگائے جائیں جن سے ماحول اور جاندار متاثر نہ ہوں۔ دریا بچاؤ کمیٹی Sustainable Development کی بات کرتی ہے جس سے نسلوں کی بھلائی وابستہ ہے۔ چند لوگوں کو نوازنے اور مالی کرپشن کی خاطر اس ملک دل آویز اور جنت بے مثال کو تباہ نہ کریں۔ ہمارے پاس یہی جائے امان ہے۔