Abdul Hakeem Kashmiri 164

لطیفوں کی دنیا : عبد الحکیم کشمیری

یہ چھوٹا سا خطہ13291مربع کلو میٹر پر محیط۔۔۔ 40سے 42لاکھ لوگ۔۔۔۔۔ چند بڑے قبائل۔۔۔۔ کچھ قبائلی لارڈز۔۔۔۔انہونیوں پر مبنی مائنڈ سیٹ اور لا یعنی باتیں ۔۔۔۔ آدمی موڈ ٹھیک کرنے کے لیے کبھی کبھی تھیٹر میں جاتا ہے ، چلو ٹیوننگ ہو جائے گی بوجھل طبیعت سنبھل جائے گی۔۔۔اللہ خوش رکھے اس خطہ کے ’’رہنمائوں‘‘کو ۔۔۔۔۔۔تھیٹرز اور سینماؤں کی کمی پوری کر دیتے ہیں۔لا ریب اس خطے کے سیاستدانوں کی باتیں کسی اچھے رائیٹر کے مزاحیہ ڈرامے کے جملوں کی طرح اس قدر دلچسپ ہوتی ہیں کہ سنجیدہ سے سنجیدہ آدمی قہقہہ لگانے پر مجبور ہو جاتا ہے اور تھیٹر اور سینما کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ۔۔۔۔۔۔۔کچھ عرصہ قبل پیپلزپارٹی کے رہنما انور الحق آزادکشمیر سے کرپشن کے خاتمے کا جھنڈا پی ٹی آئی کے لیڈروں کے ساتھ لے کر نکلے۔

بنیادی کارکن پی پی پی کے۔۔۔۔۔ جھرمٹ پی ٹی آئی کا۔۔۔۔۔۔ اور دعویٰ سماجی تبدیلی کے ایجنڈے کا ۔۔۔۔ طویل لیکچر میں موصوف نے اپنی تعریف پر 80فیصد وقت لگایا ۔

ماضی میں جب انہیں چوہدری عبدالمجید کے دور میں مانیٹر بنایا گیا ۔۔۔۔ کارکردگی غیر تسلی بخش قرار پائی۔۔۔۔۔۔ انوار الحق کے بیانیے کو اب سلطان محمود لے کر آگے بڑھ رہے ہیں ، دلچسپ لطیفہ یہ انوار الحق کی کرپشن کے خلاف اخباری بیانات کی حد تک محدود پریکٹس کا ٹارگٹ سلطان محمود تھے ۔ ۔۔۔۔۔اور اب سلطان محمود کا گزشتہ دنوں ایک بیان اخبار کی زینت بنا ۔ زبردست لطیفہ کہ کرپشن کے خلاف میدان عمل میں نکلوں گا۔۔۔۔۔ انوار الحق کرپشن کے خلاف میدان میں اترے ،ٹارگٹ سلطان محمود اور سلطان محمود کرپشن کیخلاف میدان میں نکلے ٹارگٹ انوار الحق اوردونوں کی منزل وزارت عظمیٰ ۔۔۔۔ کچھ عرصہ قبل کرپشن کے خلاف میدان میں فاروق حیدر نکلے تھے ، چوہدری مجید حکومت کے خلاف ان کی تندو تیز بیان آج تک ذہن کے کونوں کھدروں میں محفوظ ہیں ، منظور وٹو کو وہ چینی چور کہتے ہیں، چوہدری پرویز اشرف کو مسٹر سکس پرسنٹ کا نام دے رکھا تھا ، کرپٹ آفیسران کی ٹانگیں توڑنے کی دھمکی دیتے تھے ، ایک مرتبہ جلال میں آ کر انہوں نے محکمہ تعلیم کے آفیسر کی بنفس نفیس خدمت کی ، ایک اور آفیسر کی انہوں نے ریکارڈنگ اسمبلی میں سنائی ۔

چھ لوگوں کو جیل میں بھیجنے کے عزم کا اظہار بھی اسی عرصے کی تاریخ ہے اور پھر آج سے تین سال قبل جولائی 2016میں فاروق حیدر خود وزیراعظم بنتے ہیں ۔۔۔ ابتدا کشمیر کونسل کے بھاری فنڈز سے ہوتی ہے ، یہ فنڈز ن لیگ کی کامیابی میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں ۔

پھر کوتوال اور اس کے نامزد چوروں کے درمیان دوستی ہو گئی ، کرپٹ آفیسران کی ترقیابی ہو گئی ، احتساب نے جو بھی کیس وزیراعظم آفس بھیجا وہ وہی کا ہو کر رہ گیا ۔۔۔ 2200کرپشن کے مقدمات کی فائلیں دفتر داخل ہو گئیں ۔ کوئی ایک نامزد سیاستدان گرفتار نہیں ہوا ، جس پر سب سے زیادہ الزام عائد کیے گئے تھے اسے اپوزیشن لیڈر بنا دیا ۔۔۔ یہ جنوری 2019کی بات ہے جب اڑھائی سال بعد اعلان کیا کہ میں احتساب نہیں کروں گا۔۔۔ہے نا زبردست لطیفہ ۔

جب بے اختیار تھے تو کرپشن کے خلاف نعرہ بلند کیا اور جب اختیار ملا تو کرپشن کو تحفظ دیا ۔۔۔۔ اب تو خیر وزیر اپنے رشتہ داروں کو بھرتی کے لیے خود لنگوٹ کس کر میدان میں اترتے ہیں ، لوکل گورنمنٹ بورڈ میںجو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے ، وزیراعظم کو ایکشن لینا چاہیے تھا ، لیکن ری ایکشن کے خوف سے سارے جذبے ٹھنڈے پڑ گئے ۔۔۔۔۔۔ سو پڑھنے والو ۔۔۔۔۔قبائلی نظام میں قبائلی لارڈز کی ترجیحات حکومت میں کرپشن اور اس کا تحفظ اور اپوزیشن میں کرپشن پر تنقید ہوتی ہے ، کھڑکی توڑ رش کے حامل اس سٹیج ڈرامے کے تماشائی ہم ہیں جو اپنے خون پسینے کو ان کی بالادستی اور مفادات پر بہانے میں کبھی بھی شرمندہ نہیں ہوتے ۔