80

ضلع نیلم سے عہد ماضی کی معدوم ہوتی صنعتیں(حصہ دوم)۔

حصہ اول پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

مٹی سے بنی اشیاء کی صنعت
مظفرآباد سے نیلم کی طرف سفر کرتے ہوئے اٹھمقام سے چند کلو میٹر پہلے ایک لنک روڈ ایک چھوٹی سی ذیلی وادی میں جاتی ہے جس کی خوبصورتی تو ایک حقیقت ہے مگر موجودہ صدی کی پہلی نصف دہائی تک اس علاقے کی اہمیت سے پوری وادی نیلم ، مظفرآباد ، مانسہرہ اور ناران کاغان تک کے لوگ واقف تھے۔ یہاں ایک چھوٹا سا قصبہ ہے ، تقریبا چالیس سے پچاس گھروں میں مشتمل یہ چھوٹا سا قصبہ گٹلی کہلاتا ہے۔ اس قصبے میں ایک ہی خاندان آباد ہے جو اب پھل پھول چکا ہے مگر اس کی انفرادیت اور اہمیت یہ ہے کہ ماضی میں اس علاقے میں مٹی کے برتن بنائے جاتے تھے اور ان کا شہرہ دور دور تک تھا۔ لوگ دور دور سے یہاں مٹی سے بنی مصنوعات خریدنے آتے تھے جن میں تنور، سے لے کر گلاس تک ساری ضروریات زندگی شامل ہوتی تھیں مگر اب اس صنعت سے جڑا آخری شخص بھی دو سال قبل دم توڑ چکا ہے جس کے بعد یہاں پر ان اشیاء کی طلب تو برقرار ہے مگر اس فن سے واقف اور اشیاء بنانے والا کوئی بھی نہیں ہے۔

اندازے کے مطابق یہاں مٹی سے ضروف سازی کا کام اس وقت ہی شروع ہوا تھا جب اس خاندان کا پہلا شخص یہاں آ کر آباد ہوا تھا اور یوں یہ سلسلہ کئی سو سالوں تک جاری رہا۔ وقت کے ساتھ ساتھ جہاں اس فن میں بہتری آئی وہیں اس کی شہرت جغرافیائی سرحدوں سے باہر بھی گئی۔ اس علاقے کو آباد ہوئے لگ بھگ تین سو سال تو ہو چکے ہوں گے یوں یہاں پر پچھلی اڑھائی صدیوں سے مٹی سے ضروف سازی کا کام کیا جاتا رہا ہے۔

مٹی سے بنی مصنوعات کی تیاری کا کام بڑا محنت طلب ہوتا تھا۔ سب سے پہلے چکنی مٹی حاصل کی جاتی تھی جسے مقامی زبان میں ’’لس ‘‘ کہتے ہیںیہ مٹی عام مٹی سے مختلف سرخ رنگ کی بھربھری مٹی ہوتی تھی ۔ پھر اس مٹی کو چھان کر اس سے موٹے کنکر الگ کیے جاتے تھے اور انہیں ہاتھوں سے گوندھا جاجاتا تھا۔گوندھنے سے قبل اس میں دریائی سفید ریت شامل کی جاتی تھی جسے دریا سے حاصل کیا جاتا تھا ۔ گوندھنے کے بعد اسے تین دن کے لیے کسی سایہ دار جگہ میں چھوڑ دیا جاتا تھا جس سے مٹی میں خمیر پیدا ہوتا تھا یہ مٹی خمیری مٹی کہلاتی تھی۔یوں پہلا مرحلہ ختم ہو جاتھا تھا۔

دوسرے مرحلے میں مٹی کو ہلکے ہلکے پانی کے ساتھ چکی پر گھمایا جاتا تھا اور اسے گول کیا جاتا تھا جس سے اشیاء ضرورت جیسے تنور، مٹی کا گڑھا، مٹی کا لوٹا، مٹی سے بنی پلیٹیں ، گلاس ، جگ ، اور پیالے تیار کیے جاتے تھے ایک مخصوص سطح تک تیار اور گول ہونے کے بعد انہیں چکی سے اتار لیا جاتا تھا یہ چکی ہاتھ سے چلائی جاتی تھی۔ چکی سے اتارنے کے بعد انہیں گول لکڑی یا پتھر سے اندرنی طرف سے کوٹا جاتا تھا اور اپنی مرضی کی ساخت حاصل کی جاتی تھی۔ ساخت کے اعتبار سے مکمل ہونے کے بعد انہیں دو سے تین دن کے لیے دھوپ میں رکھ دیا جاتا تھا دھوپ میں رکھنے کے وقت کا انحصارموسم اور سورج کی روشنی پر تھا سردیوں میں یہ وقت پانچ سے آٹھ دن تک بھی پہنچ جاتا تھا۔ دھوپ میں رکھنے کے بعد مٹی سے بنی اشیاء تھوڑی پختہ ہو جاتی تھیں ۔

تیسرے اور آخری مرحلے میں آگ کی بھٹی تیار کیا جاتی تھی ۔ سب سے پہلے بھٹی کی اندر سے تازہ مٹی سے لپائی کی جاتی تھی اور اس بات کا خیال رکھا جاتا تھا کہ کہیں سے ہوا اندر داخل نہ ہو سکے۔ بھٹی مختلف ساختوں کی ہوتی تھی اس کی نوعیت کا انحصار بھی اشیاء کی تیار پر ہوتا تھا عام طور پر بھٹی بارہ سے پندرہ فٹ اونچی اور چھ سے آٹھ فٹ چوڑی ہوتی تھی ۔ پھر بھٹی کے اندر لکڑیاں جلا کر اسے ایک دن کے لیے ٹھنڈا کیا جاتا تھا اور مٹی سے بنے برتن تہوں میں رکھے جاتے تھے برتنوں کے درمیان دیودار کی چھال رکھی جاتی تھی جو کہ اعلی قسم کی ہوتی تھی ۔ اس چھال کو حاصل کرنے کے لیے جنگل میں دور دراز جگہوں پر جایا جاتا تھا جہاں پر خشک درخت مل جائیں عام طور پر یہ کام خواتین کے ذمے ہوتا تھا ۔

برتنوں کو تہہ لگانے اور ان میں چھال ڈال کر جب دھانے کو بند کر دیا جاتا تھا تو اس کے نیچے ہلکی ہلکی آگ جلائی جاتی تھی آگ جلانے کے لیے دیودار کی لکڑی استعمال کیا جاتی تھی اس سے برتن پکنا شروع ہو جاتے تھے رفتہ رفتہ چھال آگ پکڑ لیتی تھی۔ ہر برتن کے ارد گرد چھال ہونے کی وجہ سے برتن اچھی طرح پک جاتے تھے ۔ یہ کام اکثر دوپہر میں دو بجے شروع کیا جاتا تھا اور رات گئے تک مکمل ہوتا تھا ۔ چھال کے آگ پکڑنے کے بعد بھٹی کا چھوٹا سا منہ بھی بند کر دیا جاتا تھا تاکہ ہوا داخل نہ ہو سکے اس مقصد کے لیے بھٹی کا منہ بھر کر لکڑیاں جلائی جاتی تھیں جس سے ہوا کا داخلہ بند ہو جاتا تھا۔
برتن بنانے کے لیے اسے مکمل کرنے تک کے مرحلے کو پندرہ روز لگ جاتے تھے ۔یہ تمام کام انتہائی باریک بینی اور توجہ سے سرانجام دیا جاتا تھا۔

مٹی سے بنے یہ برتن دودھ دوہنے ، دودھ کو دہی بنانے، کھانا بنانے، لسی بنانے ، اچار ڈالنے کے لیے استعمال ہوتے تھے مقامی زبان میں ان برتنوں کو ’’چاٹی‘‘(جو نسبتا بڑا گھڑا ہوتا تھا) اور ’’کٹبی‘‘ کہا جاتا تھا ۔ ان کی ایک خاصیت یہ تھی کہ ان میں نہایت لذیذ کھانا تیار ہوتا تھا اور پانی دیر تک ٹھنڈا رہتا تھا اب بھی یہ مختلف راستوں پر پانی سے گھڑے بھر کر رکھتے جاتے ہیں جہاں دن کو مسافر پانی پیتے ہیں۔

اس صنعت کی معاشی اہمیت بھی چنداں تھی ۔ ضروف سازی کے بعد لوگ دور دور سے یہ برتن حاصل کرنے آتے تھے جبکہ سال میں دو سے تین مرتبہ ان برتنوں کو گاڑی پر ڈال کر مختلف علاقوں میں بیچنے کے لیے بھی لے جا یا جاتا تھا۔ جس سے کافی آمدن ہو جاتی تھی ۔ اس کے علاوہ اس فن میں طاق (کاریگر) لوگ مختلف جگہوں پر جا کر دیہاڑی پر بھی یہ کام کرتے تھے۔

لیکن اب اس قصبے میں مٹی کے برتن بنانے کے فن سے آشنا کوئی ایک شخص بھی باقی نہیں ہے نسل نو نے یہ کام سیکھنے تک کی زحمت نہیں کی ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کام انتہائی مشکل اور اس کی اجرت نہایت ہی کم تھی جس کی وجہ سے نسل نو نے اس فن کو سیکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں لی دوسرا جدید تعلیم نے بھی اس پر بہت اثر ڈالا ہے پڑھے لکھے نوجوان اور اس سے پچھلی نسل کے لوگ کمائی کے قدرے آسان اور منافع بخش طریقوں کو اپنا رہے ہیں۔

اب یہاں پر ایک بھی ایسا شخص باقی نہیں ہے جو مٹی کے برتن بنانے کا فن جانتا ہوا۔ ہماری معلومات کا ذریعہ وہ لوگ رہے ہیں جن کے والدین یہ کام کیا کرتے تھے یہ موجودہ نسل سے پچھلی نسل کے لوگ ہیں جو اب جوانی کی دہلیز پار کر کے بڑھاپے میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ تمام لوگ ذرائع آمدن کے مختلف طریقوں سے جڑے ہوئے ہیں ان کو اس صنعت سے نہ کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی وہ اس کو اپنانا چاہتے ہیں ان کا مانناہے کہ یہ ایک مشکل کام ہے اور اس سے آمدن نہایت ہی محدود ہے۔ جبکہ پیداوری طریقے فرسودہ ہونے کی وجہ سے سست رو ہیں اگر ان میں کسی قسم کی جدت لائی جائے اور مارکیٹ تک رسائی کو ممکن بنایا جا سکے تو شاید کوئی اس طرف دوبارہ توجہ دے مگر یہ ایک نا ممکن کام ہے جس میں کسی کی دلچسپی نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں