401

اب رائے شماری نہیں خود مختاری

یہ ہماری کمزوری ہے کہ ہم کو ہر تنکے میں سہارا نظر آتا ہے۔ فاروق حیدر کی تقریر کوئی انوکھی اور نئی بات نہیں ہے پاکستان اس حقیقت کو اچھے طریقے سے جانتا ہے کہ ریاست جموں کشمیر نے پکے پھل کی طرح بالآخر آ کر اس کی جھولی میں نہیں گرنا ہے اس کی کئی وجوہات ہیں لیکن سب سے اہم وجہ بہتر سال سے اسٹیبلشمنٹ کی وہ چالاکیاں ہیں جو کمونیکیشن کی محدود ہونے کی وجہ سے وہ عام شہریوں کو ورغلانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں میں پاکستان کی مجرمانہ حیثیت ان کی کسی بھی امید کے تابوت میں آخری کیل کی مانند ہیں۔

آج سے کئی دہائیاں قبل لبریشن لیگ کے بانی اور سابق صدر پاکستانی مقبوضہ ریاست خورشید حسن خورشید نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی آیک آزاد اور نمائندہ حکومت کے قیام کی تجویز پیش کی تھی، جو ان کی جان پر منتج ہوئی۔ فاروق حیدر اور اس قبیل کے لوگ چڑھتے سورج کے ساتھ اپنے زاویے بدلتے رہتے ہیں اور بعید نہیں کہ کل فاروق حیدر کسی دباؤ کے تحت یہ بھی کہہ دیں کہ ریاست کا معاملہ ختم ہو چکا ہے بچا کچھا پاکستانی مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان ملا کر ایک صوبہ بنا لیا جائے۔

اب صورتحال واضح ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں دونوں ممالک نے اپنے اپنے حساب سے فراموش کر دی ہیں، شملہ معائدے کی رو سے اب مسئلہ ریاست جمون کشمیر ہندوستان اور پاکستان کا مسئلہ ہے۔ ریاست جمون کشمیر کے کسی بھی خطے سے تعلق رکھنے والا کوئی شہری اس کا فریق نہیں ہے۔

پاکستان کی جانب سے رائے شماری کا چورن اسی لیے فروخت کیا جا رہا ہے کہ کسی نہ کسی شکل میں موجودہ جغرافیے کو برقرار رکھا جائے اور مستقبل قریب یا بعید میں اس کا کام بھی تمام کر دیا جائے گا۔ ویسے بھی ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے قیام کے بغیر رائے شماری نامی ڈرامہ رچایا بھی نہیں جا سکتا ہے۔

ریاست اپنی موجودہ شکل میں کسی طور پر بھی نہیں رہ سکتی ہے۔ پہلا مطالبہ ریاست جمون کشمیر کی خود مختاری ہے اور جب حالات اس قابل ہو جائیں اور ریااست کے اندر سے کسی ایک ملک کے ساتھ الحاق کی کوئی تحریک جنم لے تو ایک چھوٹا سا ریفرنڈم حیثیت واضع کر دے گا۔

ریاست جموں کشمیر کی قومی خود مختاری سے قبل ریاست کے اندر کسی قسم کی رائے شماری اول تو ناممکن ہے اور اگر ممکن بنا بھی لی جاتی ہے تو دو غاصب قوتوں کے ہوتے ہوئے صحیح نتائج حاصل کرنا ناممکن ہے