157

آوارہ کتے

میری سربریدہ لاش
کچرے کے اس ڈھیر کے دوسری طرف پڑی ہے
کچھ گدھ اور کوے بارے بار اس طرف منڈلا رہے ہیں
غول کے غول
لیکن آوارہ کتوں کو دیکھ کر بیٹھنے سے ڈر رہے ہیں
آہ !یہ آوارہ کتے
بار بار میرے پاس آ کر مجھے سونگھ رہے ہیں
میرے زخموں پر اپنی زبان سے چاٹ رہے ہیں
شاید یہ سوچ کر کہ میں اٹھ بیٹھوں گا
میری ناک سے میری سانسوں کا اندازہ لگانے میں مگن ہیں
اور آپس میں سرگوشیاں کر رہے ہیں
ایک انسان ہے یہ
ہاں ایک انسان ہے
اسے شاید کسی انسان نے مار ڈالا ہے
ایک کوا! رینگتے رینگتے میرے قریب آنے کی کوشش کر رہا ہے
ایک کتا بار بار مرے بے جان جسم کے سامنے ڈھال بن رہا ہے
’’بھوک ، بھوک‘‘ کوا چیخا
’’ہم بھی بھوکے ہیں‘‘ کتا غرایا
لیکن ہم انسان نہیں
ہم بھوک مٹانے انسان کو گوشت نہیں کھا سکتے
ہم بھوک مٹانے ہم جنسوں کا گوشت نہیں کھاتے
یہ کتے یہاں پر کیوں جمع ہیں، آوارہ کتے
کچرے کے اس پار دو لوگ کھڑے ہیں
دو انسان
’’لاش پڑی ہے‘‘ کچرہ پھینکتے ایک نے دیکھ لیا ہے مجھ کو
کچرہ میرے منہ پر پڑا ہے
بھاگو بھاگو
کہیں الزام نہ ہم پر آئے
بھائوں بھائوں ، کتے بھونکے
جیسے ان کو بلا رہے تھے
پھر چند لمحے مری لاش کو گھورا
اور کچرے سے ڈھانپ دیا، دفنا دیا
آوارہ کتے

اپنا تبصرہ بھیجیں