242

بے ہنگم نظم

آج کی صبح بہت حساس ہے
جیسے کسی احساس میں کوہ گراں کے نیچے دبی ہوئی
چڑیوں کی چہچہاہٹ، اور مانوس لمحوں میں عجب بیزاری ہے
جیسے کسی شاہ کا تخت رات کے پچھلے پہر ہی اس سے چھیننے کی کوشش کی گئی ہو
اور اس کی محبوب ترین ملکہ کو اس شکستگی کا احساس بھی نہ ہو
چھت پر لٹکا پھنکا اور کھڑکی سے آتی ہوا
دونوں کے آوازیں عجب بے ہنگم اور سسکتی ہوئی لگ رہی ہیں
قبرستان کے دامن میں بسنے والی آخری قبر
اور ایک محیب سناٹا
سورج کی کرنوں میں مسرت کا کوئی بھی نشان نہیں ہے
شبنم ٹھنڈے یخ پانی کی مانند جسم کو چیر رہی ہے
دشت کے اک مسافر کا سراب بے کراں
ایک ناہنجار بنجارن کے عشق میں بھٹکتا ہوا کوئی مجنوں
جس کی آنکھوں کے سامنے موت ناچ رہی ہے
مگر اس کی بانسری سے اسی بنجارن کے لیے نکلتے ہوئے گیت
جو پچھلی شب ہی کسی اور کی بانہوں میں دلہن بن کر
شب عروسی کے سارے مزے لوٹ چکی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں