162

آخری شب

اوائل شب کے تھکے مانندے
میرے بستی کے یہ نیم خواب لوگ
کچھ شرمندہ سے کھنڈرات میں بھٹکے لوگ
کسی آسیب زدہ عمارت میں تھک ہار کردبکے ہوئے
لمحہ در لمحہ مجھے آوازیں دے رہے ہیں
جاگتے رہو جاگتے رہو، خیا ل رکھنا خیال رکھنا
آج کی شب کئی بھیڑیے
خول انساں میں گھوم رہے ہیں
آج مت سونا
شب سیاہ و طویل کی، یہ ’’آخری شب ‘‘ ہے
یہ بے ہنگم اور مایوس آوازیں
ازل سے بستی کے مکینوں کو
ٹک کر سونے نہیں دیتی
یہ بے خواب ، غمگین، تھکے مانندے،پرہمت لوگ
خود کس مسافرِ سحر کہتے ہیں
اور مری بستی کے ڈرے، سہمے باشندے
ایک مدت سے، اسی ’’آخری شب ‘‘ کے منتظر ہیں
مگر یہ ’’آخری شب‘‘ بہت طویل ہو چکی
کئی صدیوں پر محیط یہ ’’آخری شب‘‘
کب ’’آخری شب‘‘ ہو گی؟؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں