10

آخری شب

اوائل شب کے تھکے مانندے
میرے بستی کے یہ نیم خواب لوگ
کچھ شرمندہ سے کھنڈرات میں بھٹکے لوگ
کسی آسیب زدہ عمارت میں تھک ہار کردبکے ہوئے
لمحہ در لمحہ مجھے آوازیں دے رہے ہیں
جاگتے رہو جاگتے رہو، خیا ل رکھنا خیال رکھنا
آج کی شب کئی بھیڑیے
خول انساں میں گھوم رہے ہیں
آج مت سونا
شب سیاہ و طویل کی، یہ ’’آخری شب ‘‘ ہے
یہ بے ہنگم اور مایوس آوازیں
ازل سے بستی کے مکینوں کو
ٹک کر سونے نہیں دیتی
یہ بے خواب ، غمگین، تھکے مانندے،پرہمت لوگ
خود کس مسافرِ سحر کہتے ہیں
اور مری بستی کے ڈرے، سہمے باشندے
ایک مدت سے، اسی ’’آخری شب ‘‘ کے منتظر ہیں
مگر یہ ’’آخری شب‘‘ بہت طویل ہو چکی
کئی صدیوں پر محیط یہ ’’آخری شب‘‘
کب ’’آخری شب‘‘ ہو گی؟؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں