Hari Singh of Kashmir 192

کیا ہری سنگھ بزدل تھا؟

ویسے تو اس سوال کا جواب یوں بھی دیا جا سکتا ہے کہ سن پینٹھ اور اکہتر کی جنگ میں چین، ایران اور سعودیہ عرب جبکہ بھارت نے روس وغیرہ سے جو تعاون یا مدد لی تھی وہ دراصل بزدلی کا شاخصانہ تھا نہ کہ جنگی ذرائع کو بڑھانے کے لیے کمک کا ہونا لازمی ہوتا ہے۔ دلیل کے بعد کچھ اعتراض کی طرف آتے ہیں

ایک صاحب نے اپنی دلیل میں لکھا کہ چونکہ مہاراجہ بزدل تھا اس لیے اس نے بھارت سے الحاق کیا ۔۔۔۔۔۔ صاحب الفاظ قابل احترام سہی لیکن وہ اس بزدلی سے کیا مراد لینا چاہتے ہیں میری چھوٹی سے عقل میں نہیں پڑ سکا۔ ویسے تو بغور دیکھا جائے تو سنتالیس میں مہاراجہ کے خلاف اس کی طاقت چھننے کی تحریک صرف پونچھ تک محدود تھی اور پونچھ جموں کا حصہ تھا صوبہ کشمیر سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں تھا یہ غداری اہلیان پونچھ نے کی۔۔۔ اور وہیں سے چند بڑے غدار بھی پیدا ہوئے تاہم اگر الحاق یا ہندوستان سے کسی ایگری منٹ کی بات کی جائے اور مدد مانگنے کو بزدلی سے منسوب کیا جائے تو چہ معنی دارد۔

قبائلیوں کی حملے کے وقت ہری سنگھ کی کل دس ہزار کی فوج تھی جس کے پاس وسائل کی کمی تھی جبکہ قبائلیوں کی پست پناہی پاکستان کی فوج، سابق آرمی سروسز، کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ہندوستان اور انگریز بھی شامل تھے ان کی یہ دلیل سرحدی گاندھی کے حوالے سے رد بھی نہیں کی جا سکتی ہے کیونکہ باچا خان گاندھی کے قریبی دوست تھے ہو سکتا ہے ریاست جموں کشمیر ہتھیانے کے چکر میں انہوں نے کوئی چال چلی ہو ۔

پندرہ اگست کو پاکستان ہری سنگھ کے ساتھ معاہدہ کر چکا تھا اور ہری سنگھ بالکل اسی قسم کا ایک معاہدہ بھارت کے ساتھ بھی چاہتا تھا جس کے جواب کے لیے وہ منتظر تھا۔ پھر اکتوبر میں قبائلیوں کے حملے کی وقت کل دس ہزار کی فوج کے ساتھ قبائلیوں کی سامنا کرنا ایک مشکل کام تھا جبکہ دوسری جانب فوج میں موجود مسلم غداروں نے دشمنوں کو اندر تک رسائی میں آسانی کی۔ ہری سنگھ مسلسل پانچ دن تک مسلسل سرینگر میں رہا اور اپنی افواج کے حوصلے بلند کرتا رہا پانچ دن بعد اس نے اگر بھارت سے کسی قسم کا الحاق یا معاہدہ کیا تو اس کی وقعت کیا ہو سکتی ہے؟ معاہدے میں یہ صاف لکھا گیا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کی تقدیر کا فیصلہ کشمیری عوام خود کریں گے۔ بھارت سے فی الوقت فوجی مدد اور بعد میں خارجہ اور خزانہ کے امور دیے گئے جبکہ ریاست اندرونہ طور پر 1954 تک خود مختار رہی ۔

مسلآ مہاراجہ ہندوستان سے دفاع کی درخواست نہ کرتا تو قبائلی کیا حشر کرتے یہ اندازہ مظفرآباد سے اوڑی تک کی تاریخ پڑھ کر ہو جاتا ہے یقینا اسے اپنی جان پیاری تھی مگر اس کے پاس کوئی دوسرا حل موجود نہیں تھا کیا وہ پاکستان سے کہتا چلو جی آپ رکھ لو کشمیر کو، کیا وہ چین سے کہتا جو اس وقت خود افیون کے نشے میں تھا اس کے پاس ہندوستان ہی بچا تھا جو اس وقت پاکستان اور قبائلیوں سے ٹکر لے سکتا تھا سو اسے ہری سنگھ کی مجبوری سمجھا جائے یا پھر اس کی دور اندیشی کی ریاست کسی نہ کسی شکل میں آج بھی موجود ہے۔

گزشتہ برس ہری سنگھ کے بیٹے کرن سنگھ نے بھارت کی قومی اسمبلی میں کہا کہ ریاست جموں کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے۔ کیا کوئی مائی کا لعل یہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں کھڑا ہو کر کہہ سکتا ہے۔ جبکہ دونوں ملکون کے قوانین ریاست جموں کشمیر کو خصوصی حیثیت دیے ہوئے ہیں۔

اگر میرے گھر پر میرا ہمسایہ حملہ کر دے اور میں دفاع کی طاقت نہ رکھتا ہوں تو میں مجبورا اپنے کسی دوسرے ہمسائے سے مدد کے لیے کہوں گا۔ یہ اتنی سادہ سی بات ہے جسے پچھلے ستر سالوں سے مسلسل پروپیگنڈا کر کے ریاست کے شہریوں کے شعور کو اپاہج کر دیا ہے۔

مہاراجہ ہری سنگھ کا فیصلہ درست، اور دور اندیشی پر مبنی تھا۔ اگر اس نے یہ فیصلہ نہ کیا ہوتا تو آج ریاست میں تیس فیصد ہندو ہندوستان ہجرت کر چکے ہوتے ، ریاست کی شناخت نہیں ہوتی۔ اور کتنی ریاستیں پاکستان اور ہندوستان میں شامل ہو گئیں کسی کی کوئی شناخت باقی ہے ؟ اگر باقی ہے تو بتائیں۔ ریاست کی حیثیت ایک صوبے کی سی ہوتی جس کے وسائل پاکستان کا سرمایہ دار طبقہ لوٹ رہا ہوتا۔ ریاست کی بنیاد سے لے کر اس کے شدید مشکل حالات میں بچاؤ تک اس ہندو خاندان کی مرہون ہنت ہے جو حقیقت میں اس کا وارث تھا۔ ورنہ کشمیری اور جموال مسلمانون نے تو اسے بیچ کھانےمیں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھا اس وقت بھی ادھر بھارت کے ہاتھوں اور ادھر پاکستان کے ہاتھون مسلمان ہی بیچ رہے ہیں۔