361

نوے فیصد کشمیری خود مختاری کے خواہاں ہیں: سروے رپورٹ

سرینگر: خبر رساں ادارے ریوٹر کے ایک سروے کے مطابق بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر سے ویلی کے نوے فیصد لوگ دونوں ممالک سے خودمختاری کے خواہاں ہیں۔ ریوٹر نے یہ سروے رپورٹ حال ہی میں جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تین فیصد پاکستان جب سات فیصد بھارت کے یا اسٹیٹس کو کے حامی ہیں۔

ریوٹر لکھتا ہے “مسلم اکثریت والے شہر سے صرف تین فیصد کا خیال ہے کہ انہیں پاکستان میں شامل ہونا چاہیے جبکہ سات فیصد ہندوستانی حاکمیت کو ترجیح دیتے ہیں”

ریوٹر کے مطابق دہلی سینٹر فار ڈویلپنگ اسٹڈی نے ویلی سے 266 جبکہ جموں سے 255 لوگوں کے انٹرویوز کیے۔ ویلی کی نسبت جموں سے پچانوے فیصد لوگوں نے بھارت میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ یہ سروے پیر کے روز انڈین ایکسپریس میں شائع ہوا ہے۔

سروے میں دس پاکستانی اور دس ہندوستانی شہریوں کے بھی انٹرویوز کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانیوں کی نسبت بھارتی شہری ریاست پر مکمل قبضہ کے حوالے سے زیادہ پرجوش ہیں۔ 67 فیصد ہندوستانی چاہتے ہیں کہ رایست کو نئی دہلی سے کنٹرول کیا جائے جبکہ 48 فیصد پاکستانی چاہتے ہیں کہ ریاست کو پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے۔

البتہ 47 فیصد پاکستانیوں کا خیال ہے کہ ریاست کو پاکستان یا بھارت میں شامل ہونے کے بجائے خود مختار ہونا چاہیے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ 84 فیصد کشمیری 90 کی دہائی میں ہجرت کیے ہوئے پنڈتوں کی واپسی کے خواہاں ہیں۔