97

ریاست جموں کشمیر کی عدلیہ اور نظام انصاف |مدثر شاہ

ایک متحرک، موثر اور آزاد عدلیہ ملکی انتظام و انصرام میں ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے، ریاست جموں کشمیر کی تشکیل کے بعد گلاب سنگھ کا دور حکومت مطلق العنانیت اور مکمل شاہی اختیار کا دور تھا، سرکاری یا شاہی محصولات کا ایک نظام تو موجود تھا جو لاہور دربار اور ہندوستان کی دیگر بادشاہتوں کی طرز پر قائم مکمل طور پر غیر منصفانہ اور ظالمانہ تھا لیکن کوئی مربوط اور باقاعدہ عدالتی نظام یا قانون سازی موجود نہ تھی، گلاب سنگھ روزانہ کی بنیاد پر “عوامی دربار” کے نام سے شاہی عدالت لگایا کرتا تھا جس میں عوام اپنے مقدمات ایک روپیہ کی فیس ادا کر کے پیش کیا کرتے تھے، باقاعدہ قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے مختلف جرائم کی پاداش میں روایتی قدیم سزائیں دی جاتی تھیں، جن میں سزائے موت، قید بامشقت اور کوڑے مارنے جیسی سزائیں شامل تھیں، قتل کے مجرموں کو دی جانی والی سزا کو “عذھاب یا عذاب” کہا جاتا تھا جس میں مجرم کی ٹانگ یا بازو کاٹ کر اسے تادم مرگ پھانسی پر لٹکا دیا جاتا تھا، 
رنبیر سنگھ کا ابتدائی عہد بھی گلاب سنگھ کے نظام کا تسلسل تھا لیکن بعد میں اس نے باقائدہ ایک نظام انصاف کی بنیاد رکھی اور اہم نوعیت کی اصلاحات کیں، باقاعدہ عدالتوں کا قیام عمل میں آیا اور چھوٹے اور غیر اہم مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لیئے تھانوں میں “چکلہ دار” تعینات کیئے گئے تاکہ فوری انصاف مہیا ہو سکے، ایک سو دفعات پر مشتمل ضابطہ تعزیرات “رنبیر پینل کوڈ” کے نام سے رائج کیا گیا، (رنبیر پینل کوڈ بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں اپنے اصل نام جبکہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں “آزاد پینل کوڈ” کے نام سے آج بھی رائج ہے)، 1873 میں ایک انگریز اور ایک ریاستی سول جج پر مشتمل مخلوط عدالت قائم کی گئی جو ریاستی اور یورپین شہریوں کے درمیان مقدمات کا فیصلہ کرتی تھی، 1877

میں ہائیکورت کا قیام عمل میں آیا جو اپیل اور نظرثانی کی سب سے بڑی اور آخری عدالت تھی، رنبیر سنگھ کے عہد حکومت میں ریاست میں کل پچیس عدالتیں قائم تھیں، ان میں سے 14″ وزارت عدالتیں” جبکہ تین عدالتیں لداخ، سکردو اور گلگت میں قائم تھیں، جموں اور سری نگر میں ہائیکورٹ کی دو عدالتوں کے علاوہ سرینگر میں “عدالت داغِ شال” اور ایک پنچائت عدالت قائم تھی، ان اصلاحات کے باوجود ریاستی نظام عدل میں کچھ خامیاں موجود تھیں جیسے، دیوانی اور فوجداری مقدمات کیلئے قانون سازی ناکافی تھی، عدالتوں کے درمیان فاصلہ بہت ذیادہ تھا جس کی وجہ سے سائلین کو لمبا اور دشوار گزار سفر طے کرنا پڑتا تھا، جو عدالتیں قائم کی گئی تھیں ان کا دائرہ کار متعین نہیں تھا، باقاعدہ ضابطہ فوجداری موجود نہ ہونے کی وجہ سے مختلف جرائم کی سزاؤں کا تعین ججوں کی اپنی صوابدید پر ہوتا تھا، ان حالات میں عوام کو تیزتر، بروقت اور سستے انصاف کی فراہمی مزید اصلاحات کی متقاضی تھی۔ 

پرتاب سنگھ کے عہد میں ریاستی نظام انصاف میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں ہوئیں اور عدلیہ کا ایک بالکل نیا ڈھانچہ کھڑا کیا گیا، سب سے نچلی عدالت کو “منصف کورٹ” کہا جاتا تھا جس میں درجہ اول، دوم اور سوم کی تقسیم تھی، درجہ اول کی منصف کورٹس سرینگر، جموں اور میرپور میں قائم تھیں، درجہ دوم کی عدالتیں کٹھوعہ، شوپیان اور ریاسی جبکہ درجہ سوم کی عدالتیں سانبہ، راجوری، جموں، رام نگر، بھمبھر، میرپور، اننت ناگ، رنبیر سنگھ پورہ، بارہمولہ، کشتواڑ اور سوپور میں قائم تھیں، منصف کورٹس سے بالا سب ججوں کی عدالتیں تھیں اور وہ بھی تین درجوں میں تقسیم تھیں، درجہ اول کی عدالتیں جموں سرینگر اور میرپور میں قائم تھیں، درجہ دوم کی عدالتیں اودھم پور اور مظفرآباد جبکہ دوجہ سوم کی عدالتیں کٹھوعہ اور کوٹلی میں تھیں، سب ججز کے عدالتوں سے اوپر سرینگر اور جموں میں “کورٹ آف سٹی ججز” کے نام سے دو عدالتیں قائم تھیں، سٹی ججز کی عدالتوں سے بالا “عدالتی معاونین کی عدالت” تھی جو جموں اور سرینگر میں قائم تھیں، عدالتی معاونین کی عدالت کے فیصلوں کے خلاف اپیل “ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ” جموں یا پھر سرینگر کی عدالت میں دائر کی جاتی تھی، ان عدالتوں سے بالا ہائیکورٹ کی دو عدالتیں جموں اور سرینگر میں قائم تھیں، ہائیکورٹ سے بالا “سٹیٹ کونسل” کی عدالت تھی جبکہ سب سے اعلی اور آخری عدالت مہاراجہ کی عدالت تھی جس کا فیصلہ حتمی تصور کیا جاتا تھا۔ 

“مہاراجہ کی عدالت”
بحیثیت ریاست کا سربراہ مہاراجہ کو دیگر انتظامی امور کے ساتھ عدلیہ میں بھی ایک اہم اور مرکزی مقام حاصل تھا جبکہ مہاراجہ کی عدالت کو ریاست کی اعلی ترین عدالت کا رتبہ حاصل تھا، 1889 میں ریزیڈنٹ کی تعیناتی اور سٹیٹ کونسل کے قیام کے بعد بارہا یہ کوشش کی گئی کہ مہاراجہ کے مطلق اختیار کو محدود یا کم کیا جائے اور کسی حد تک وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب بھی رہے لیکن 1891 میں جب مہاراجہ سٹیٹ کونسل کا صدر بنا تو اسے تمام تر اختیارات واپس مل گئے، چیف ججوں یا یائیکورٹ کی طرف سے عمر قید اور سزائے موت کی سزاؤں کی توثیق مہاراجہ کی عدالت سے ہوتی تھی اس کے علاوہ مہاراجہ کی عدالت کو یہ اختیار بھی حاصل تھا کہ وہ کسی بھی کیس کو ایک عدالت سے دوسری عدالت منتقل کر سکتا تھی، 
مہاراجہ سٹیٹ کونسل کے جوڈیشل ممبر سے ملاقات کر کے عوامی اور انتظامی امور کے لیئے درکار نئے قوانین کی ضرورت اور پہلے سے موجود قوانین میں ترمیم یا تنسیخ کیلئے کونسل کے جوڈیشل ممبر کی سفارشات ضروری ترمیم یا اضافے بعد منظور کیا کرتا تھا، 1921 کی ہائیکورٹ ریگولیشنز کے تحت عوام کو یہ حق حاصل ہوا کہ وہ کسی بھی علاقائی بینچ یا ہائیکورٹ کے کسی جج کے فیصلے کے خلاف براہ راست مہاراجہ کی عدالت میں اپیل دائر کر سکتے تھے


“سٹیٹ کونسل کی عدالت”
1889 میں سٹیٹ کونسل کی تشکیل کے بعد کونسل ریاست کا اعلی ترین قانون ساز ادارہ بن گیا، قانون اور انصاف کا ریاستی محکمہ کونسل کے جوڈیشل ممبر کے تابع تھا، دیوانی اور فوجداری مقدمات میں سنائے جانے والے ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل اور عمر قید و سزائے موت کے فیصلوں کی توثیق کے لیئے درخواستیں کونسل کے جوڈیشل ممبر کی وساطت سے کونسل کی عدالت میں دائر کی جاتی تھیں، اس کے بعد یہ درخواستیں سٹیٹ کونسل کے سیکرٹری کے ذریعے مہاراجہ کی عدالت کو بھیج دی جاتی تھیں، کونسل کی عدالت میں دائر نظرثانی کی اپیلوں پر جوڈیشل ممبر اور ریوینیو ممبر کا متفقہ فیصلہ کونسل کی عدالت کا فیصلہ سمجھا جاتا تھا۔


“ہائیکورٹ”
ہائیکورٹ میں چیف ججوں کے خلاف اپیلیں سنی جاتی تھیں، سٹیٹ کونسل کا جوڈیشل ممبر ہائیکورٹ کا جج اور سربراہ ہوتا تھا، کونسل کے دیگر امور کے ساتھ عدالتی ذمہ داریوں کا بوجھ جوڈیشل ممبر کے لیئے ایک مسئلہ تھا جو ہائیکورٹ کی استعداد کار پر اثر انداز ہو رہا تھا، اس امر کو سامنے رکھتے ہوئے 1905 میں مہاراجہ نے ہائیکورٹ کے جج کیلئے علیحدہ آسامی تخلیق کرنے کا مشورہ کونسل کے آگے رکھا جو بوجوہ اس وقت نہ ہو سکا بالآخر 1921 میں ہائیکورٹ ریگولیشن پاس ہوئی اور ہائیکورٹ میں ججز کا اضافہ عمل آیا اس دوران محکمہ قانون جوڈیشل سیکرٹری، گورنمنٹ ایڈووکیٹس، پبلک پراسیکیوٹرز اور چیف لاء آفیسرز پر مشتمل ہوتا تھا۔


“ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس”
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس کو چیف کورٹس یا صدر کورٹس بھی کہا جاتا تھا اور ان عدالتوں کے سربراہ کو چیف جج کہا جاتا تھا، سول مقدمات میں چیف جج کے پاس لامحدود اختیارات ہوتے تھے اور وہ ہمہ اقسام کے جرائم جیسے قتل، ڈکیتی اور چوری وغیرہ کے مقدمات سننے کا اختیار رکھتے تھے اس کے علاوہ ماتحت عدالتوں سے صادر فیصلوں کے خلاف اپیل اور نظرثانی کے مقدمات بھی چیف ججوں کے دائرہ اختیار میں تھے، 1916 سے قبل چیف ججوں کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور سیشن ججوں کے اختیارات بھی حاصل تھے، سال میں دو دفعہ دارالحکومت کی سرینگر اور جموں منتقلی کے ساتھ ہائیکورٹ بھی منتقل ہوتی تھی جس کی وجہ سے سائلین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے چیف ججوں کو ہائیکورٹ کے جج کی عدم موجودگی میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کا اختیار دے دیا گیا تھا، وہ ہائیکورٹ کے جج کی پیشگی اجازت سے عبوری حکم جاری کرتے تھے اور حتمی فیصلے کے لیئے کاغذات ہائیکورٹ کو بھیج دیتے تھے۔


“سب ججوں کی عدالتیں”
سب ججوں کی عدالتیں ریاست کے اہم شہروں اور بڑے قصبوں میں قائم تھیں، سول مقدمات میں ان ججوں کو مختلف علاقوں میں مختلف اختیارات حاصل تھے جبکہ فوجداری مقدمات میں ان کے پاس مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات ہوتے تھے، 13 جولائی 1904 کی سٹیٹ کونسل ریزولوشن کے تحت جموں، سرینگر اور میرپور میں درجہ اول کے سب ججوں کی عدالتیں قائم ہوئیں، 1905 میں مظفرآباد کے سب جج کو جانوروں پر ظلم کے انسدادی قانون کے تحت درج مقدمات کا موقع پر حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار تفویض کیا گیا، 1913-14 میں جموں اور سرینگر کے سب ججوں کو سٹی ججز تعینات کر دیا گیا، سب جج اہم اور سنگین نوعیت کے مقدمات خود سنتے جبکہ دیگر مقدمات درجہ دوم اور سوم کی عدالتوں کو منتقل کر دیئے جاتے تھے۔


“منصف کی عدالت”
1889 اور 1904 کے ادوار میں ریاستی شہریوں کو سستے اور آسان انصاف کی فراہمی کے لیئے ہر تحصیل میں منصف کی عدالت جبکہ ضلعوں میں سب ججوں کی عدالتیں قائم کی گئیں اور مخصوص ججوں کو متعین اختیارات کے ساتھ اعزازی مجسٹریٹ کے اختیارات بھی دیئے گئے، مختلف منصف عدالتوں کو مختلف اختیارات حاصل تھے، بعض منصفوں کو سول مقدمات میں تین ہزار روپے مالیت تک کے مقدمات سننے کا اختیار تھا جبکہ بعض صرف پانچ سو اور ہزار روپے مالیت تک کے مقدمات سن سکتے تھے، بعض منصفوں کو فوجداری مقدمات میں مجسٹریٹ درجہ اول جبکہ دیگر کو مجسٹریٹ درجہ دوم کے اختیارات حاصل تھے، منصف عدالتیں وزیرِ وزارت کی طرف سے بھیجے گئے مقدمات سنتیں اور ان پر فیصلے صادر کرتی تھیں، سٹی جج اور جوڈیشل اسسٹنٹ تین ہزار روپے مالیت تک کے سول مقدمات سن سکتے تھے جبکہ فوجداری مقدمات میں انہیں مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات حاصل ہوتے تھے، 1914-15 میں سٹی ججوں کو سول مقدمات میں مزید اختیارات دے دیئے گئے تھے ۔


1947 میں ریاست جموں کشمیر کی تقسیم کے وقت تک تھوڑی بہت کمی بیشی کے ساتھ یہی نظامِ انصاف موجود رہا البتہ وقتاً فوقتاً عوامی مفاد اور حکومتی ضروریات کی مطابق نئی قانون سازی ہوتی رہی۔

ریاست جموں کشمیر کی عدلیہ اور نظام انصاف |مدثر شاہ” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں