293

وہ روشنی کا شہید اول – مقبول بٹ(پیدائش سے وفات تک کا سفر)

ٹوکسُور ییلِہ گژھِ شِیشوین پنجرن
ادہ ہے نیرن سأنی ارمان
بالن یورء ییلہ شین گلِہ
ادہ ہے نیرن سأنی ارمان

جب پنجرے توڑے جائیں گے، تو ہمارے خواب سچ ہوں گے، جب برف پہاڑوں پر سے پگھل جائے گی، تو ہمارے خواب سچ ہو جائیں گے (مقبول بٹ)

اگر وہ آج زندہ ہوتے تو بیاسی برس کے ہو جاتے۔ مقبول بٹ ؒ 18 فروری 1938 کو ضلع کپواڑہ کی تحصیل ہندواڑہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں تریہگام میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام غلام قادر بٹ تھا اور آپ کی والدہ 1949 میں اس وقت وفات پا گئیں جب آپ صرف گیارہ برس کے تھے اور گاؤں سے ملحقہ اسکول جاتے تھے۔ آپ کے والدہ نے ان کی وفات کے بعد دوسری شادی شاہ مالی بیگم سی کی جن سے ان کے مزید دو بیٹے منظور احمد بٹ ظہور احمد بٹ جبکہ تین بیٹیاں ہیں۔ آپ کی دوسری والدہ شاہ مالی بیگم حیات ہیں۔

مقبول بٹ کا بچپن ڈوگرہ عہد کی آخری دہائی میں گزرا اس وقت ریاست جموں کشمیر میں جاگیردارانہ نظام تھا گرچہ ریاست میں عوامی رائے کو ترجیح دینے کا آغاز ہو چکا تھا مگر اس کو پایہ تکمیل تک پہنچنے کے لیے ابھی وقت درکار تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ کم عمری سے ہی مقبول بٹ نے ظلم، جبر اور قبضہ کے خلاف برابری، آزادی اور سماجی انصاف کے لیے جدوجہد شروع کر دی تھی تو بے جا نہ ہو گا۔ 12 اپریل 1972 کو لاہور سے اپنی قید کے دوران معروف آزادی پسند اور مقبول بٹ کے رفیق فی ایم میر کی بیٹی عذرا میرکو لکھے گئے ایک خظ میں مقبول بٹ نے اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ یہ شاید 1945/46 کا زمانہ تھا جب خراب موسم کی وجہ سے فصل اچھی نہ ہو سکی۔ تو کسان لگان دینے کی حیثیت میں نہیں تھے جتنا کہ جاگیر دار مطالبہ کر رہے تھے جس کی نتیجے میں ایک روز جاگیردار خود گاؤں میں آ گیا۔ اس نے غریب کسانوں کے گھروں اور غلہ خانوں پر چھاپہ مارا اور سارا غلہ اٹھا لیا۔ کسانوں نے جاگیردار کی منت سماجت کی لیکن اس نے کسانوں کی ایک نہ مانی نتیجتا کسانوں نے اپنے بچوں کو جاگیردار کی گاڑی کے آگے لیٹنے کا کہا مقبول بٹ انہی بچوں میں سے ایک تھے۔

ایسا ہی ایک اور واقعہ جو ان کے چھوٹے بیٹے شوکت مقبول بٹ نے بیان کیا ہے کہ اس زمانے میں سماجی کلاس کا نظام بہت طاقتور تھا لوگ کو سماجی تقسیم کی بنیاد پر ہی پرکھا جاتا ہے۔ ایک دفعہ اسکول میں کسی فنکشن میں امیروں اور غریبوں کے لیے الگ الگ بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا مقبول بٹ کی انعام لینے کی باری آئی تو انہوں نے انعام لینے سے منع کر دیا کہ جب تک تمام والدیں اور ان کے تمام دوست ایک ساتھ نہیں بیٹھیں گے وہ انعام نہیں لیں گے نتیجتا وہاں موجود انتظامیہ کو مقبول بٹ کی یہ بات ماننی پڑی اور اس کے بعد اسی بات پر عمل کیا جاتا لگا۔ ان دو واقعات سے یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں ہے کہ بٹ شہید کم شعوری میں ہی سماجی نا انصافیوں، تقسیم، سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام کے کس قدر خلاف تھے۔ شاید یہ وہ چند چھوٹے چھوٹے واقعات تھے جن کے اثر سے مقبول بٹ جیسا جری، نڈر بے باک اور جہد مسلسل کرنے والا عظیم رہبر خطہ کشمیر کو نصیب ہوا۔

مقبول بٹ نے بعد میں سینٹ جوزف کالج سرینگر میں داخلہ لیا اور تاریخ اور سیاسیات میں بی اے کیا۔ اپنی کالج کی تعلیم کے دوران وہ بھر پور طریقے سے سماجی معاملات اور سیاست میں حصہ لیتے رہے۔ ان کو فن تقریر پر ملکہ حاصل تھا ایسی ہی ایک تقریر سننے کے بعد کالج کے پرنسپل جارج شنکز نے کہا ”یہ نوجوان اگر زندگی کی مشکلات سے عہدہ برا ہونے میں کامیاب ہو گیا تو ایک دن بہت بڑا آدمی بنے گا لیکن اس قسم کے لوگ اکثر سماج میں شدید ترین مشکلات کا سامنا کرتے ہیں جس قسم کی آزادی یہ نوجوان چاہتے ہیں اس کا حصول بہت مشکل ہے، نتیجتا یہ آزادی کی راہ میں قربان ہو جاتے ہیں۔ ” عیسائی پرنسپل کے یہ الفاظ حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئے اور مقبول بٹ نے وہ کر دکھایا جس کے بارے میں اقبال نے ہزاروں بعد نرگس کی بے نوری پر دیدہ ور ہونے کا ذکر کیا تھا۔

دسمبر 1957 میں جب شیخ عبداللہ کو رہا کیا گیا تو بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں شورش کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا مقبول بٹ اس وقت محاز رائے شماری کا حصہ بن چکے تھے اور انہوں نے ان ہنگاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ شیخ عبدللہ کو دوبارہ 27 اپریل 1958 کو گرفتار کر لیا گیا اور رائے شماری کے نوجوانوں بکو بھی گرفتار کیا جانے لگا۔ اسی سال مقبول بٹ شہید نے اپنی بے اے مکمل کی اور گرفتاری سے بچنے کے لیے 1958 میں آزاد کشمیر کی طرف اپنے چچا کے ساتھ ہجرت کی۔

پاکستان آنے کے بعد مقبول بٹ نے پہلے پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹرز کرنے کا ارادہ نہیں لیکن بوجوہ وہاں داخلہ نہیں لے سکے جس کے بعد وہ 1958 میں پشاور چلے گئے اور پشاور یونیورسٹی سے وکالت اور صحافت کی اسناد حاصل کی اس دوران وہ روزنامہ انجام سے بھی منسلک رہے۔ پشاور میں ہی انہوں نے راجہ بیگم سے شادی کی جن کے بطن سے جاوید مقبول بٹ اور شوکت مقبول بٹ نے جنم لیا۔ (بٹ صاحب کے بچوں میں شوکت مقبول بٹ اپنے باپ کے ورثے سےجڑے ہوئے ہیں اور ان کے مقصد کو لے کر مسلسل جدوجہد میں مصروف ہیں۔ وہ آج کل برطانیہ میں مقیم ہیں جب کہ بڑے بیٹے جاوید مقبول پشاور میں ہی مقیم ہیں۔ ) مقبول بٹ نے 1966 میں اسکول ٹیچر ذکریہ بیگم سے شادی کی جن کے بطن سے ان کی ایک بیٹی لبنی بٹ ہیں۔ (لبنیٰ بٹ کراچی یونیورسٹی میں شعبہ انگریزی سے وابسطہ ہیں اور کراچی میں ہی مقیم ہیں)۔

مقبول بٹ نے ایوب خان کے بی ڈی سسٹم کے تحت ہونے والے انتخابات میں 1961 میں مہاجرین کشمیر کی نشست سے پشاور سے الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئے۔ اپریل 1965 میں آزاد کشمیر کے مختلف سیاسی ہمرکابوں اور خود مختار کشمیر کمیٹی نے باہم مل کر جموں میں سوچیت گڑھ کے مقام پر بھارتی مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو کر مٹی ہاتھوں میں لے کر یہ وعدہ کیا کہ وہ ریاست جموں کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کے لیے اپنا سب کچھ پیش کر دیں گے۔ اور یہیں پر انہوں نے جموں کشمیر محاذ رائے شماری کی بنیاد رکھی۔ بعد میں محاذ رائے شماری ریاست جموں کشمیر کی پہلی سیاستی تنظیم بنی جس نے ریاست جموں کشمیر کی مکمل خود مختار ی کی بات کی۔ عبدالخالق انصاری محاذ رائے شماری کے صدر جبکہ امان اللہ خان جنرل سیکرٹری نامزد ہوئے مقبول بٹ رائے شماری میں پبلسٹی سیکرٹری کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے لگے۔

یہ وہ وقت تھا جب پوری دنیا میں آزادی کی تحریکیں اپنے عروج پر تھیں اور مقبول بٹ شہید اور ان کے رفقائے کار کا ان تحریکوں سے متاثر ہونا بھی ناگزیر تھا ان ممالک میں الجیریا، فلسطین اور ویت نام وغیرہ شامل تھے۔ امان اللہ خان کے بقول 12 جولائی 1965 کو میر پور میں محاذ رائے شماری کے ایک پروگرام میں عسکری ونگ کی تجویز اور قرارداد پیش کی گئی جسے زیادہ تر ممبران نے مسترد کر دیا، تاہم 13 اگست 1965 کو مقبول بٹ نے امان اللہ خان، میر عبدالقیوم، میجر امان اللہ (ر) نے خفیہ طور پر نیشنل لبریشن آرمی کی بنیاد میجر امان اللہ کے گھر پشاور میں رکھی۔ این ایل ایف کے قیام کا مقصد تمام قسم کے مروجہ طریقوں کو بروئے کار لا کر تحریک آزادی کشمیر کو زیادہ مستحکم کرنا تھا تاکہ جلد سے جلد ریاست جموں کشمیر کو سامراج کے چنگل سے آزادی دلائی جا سکے اور بین الاقوامی دنیا بشمول ہندوستان اور پاکستان کو یہ باور کروایا جا سکے کہ ریاست جموں کشمیر کے اصل وارث اسی کے باشندے ہیںَ۔

این ایل ایف کے قیام کے بعد یہ چار افراد لبریشن آرمی میں رضاکاروں کی بھرتی کے لیے نکل کھڑے ہوئے اور آذاد کشمیر کے تمام اضلاع کے خفیہ دورے کیے۔ 7 جون 1966 کو مظفرآباد میں غلام الدین آشی کے گھر میں مقبول بٹ کی زیر صدارت ایک خفیہ میٹنگ ہوئی جس میں مقبول بٹ شہید سمیت میر ہدایت اللہ، راجہ لال حسین، قاضی عبدلخئی، کالا خان، حبیب اللہ بٹ، میجر امان اللہ اور غلام مصطفی علوی نے شرکت کی۔ میٹنگ میں ماخذ یہ نکالا گیا کہ چونکہ پاکستان ریاست جموں کشمیر کو ہندوستان کے پنجہ ستم سے چھڑانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اس لیے این ایل ایف کی تمام گوریلا کارویاں ریاست جموں کشمیر کی مکمل خود مختاری کے لیے ہوں گی۔ واضح رہے کہ پینسٹھ کی جنگ میں چونکہ آپریشن جبرالٹر میں پاکستان مکمل طور پر ریاست جموں کشمیر پر قبضہ کرنے میں ناکا م ہو چکا تھا اس لیے بٹ شہید اور ان کے رفقائے کار کا یہ فیصلہ بالکل صحیح اور درست تھا۔

10 جون 1966 کو مقبول بٹ گلگت کے ایک طالب علم اورنگزیب، عامر احمد اور کالا خان کے ساتھ گوریلا جنگ کی تیاری اور رضاکاروں کی بھرتی کے لیے کیل سیکٹر سے جنگ بندی لائن کے س پار بھارتی مقبوضہ کشمیر چلے گئے جبکہ میجر امان اللہ اور صوبیدار حبیب اللہ جنگ بندی لائن کے قریب قریب رہے۔ سرینگر میں اپنے قیام کے دوران مقبول بٹ وجی احمد اندرابی کے گھر پر قیام پذیر رہے اور اسی دوران وہ وزیراعظم غلام محمد بخشی سے بھی ملے جنہوں نے مکمل مدد کی یقین دہانی کروائی۔ غلام محمد بخشی سے خون کی سیاہی سے کاغذ پر عہد لیا گیا۔

بھارتی سیکورٹی فورسز کو قائدِکشمر کی سرگرمیوں کا علم ہو گیا اور انہوں نے آپ کے خفیہ ٹھکانے کو تلاش کر لیا۔ 14 ستمبر 1966 کو سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس میں آپ کا ساتھی اورنگزیب شہید ہو گیا جبکہ کرائم برانچ سی آئی ڈی کا انسپکٹر امر چند بھی اس جھڑپ میں مارا گیا۔ بابائے قوم کو دو ساتھیوں کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا اور آپ کو سری نگر سنٹرل جیل میں قید کر کے آپ پر بغاوت اور امر چند کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا۔ یہ مقدمہ انڈین پینل کوڈ کے دشمنی ایکٹ 1943 کے تحت قائم کیا گیا۔ اگست 1968 میں کشمیر ہائیکورٹ نے آپ کو اس مقدمے میں سزائے موت سنائی۔ آپ نے عدالت کے فیصلے کے بعد جج کو مخاطب کر کے کہا ”جج صاحب! وہ رسی ابھی تیار نہیں ہوئی جو مقبول بٹ کے لئے پھانسی کا پھندہ بن سکے“۔

9 دسمبر 1968 کو آپ جیل کی دیواروں میں شگاف ڈال کر جیل سے فرار ہوئے اور برف پوش پہاڑوں کو عبور کر کے 23 دسمبر 1968 کو چھمب کے مقام سے آزادکشمیر میں داخل ہوئے۔ مگر 25 دسمبر 1968 کو آپ کو گرفتار کر کے مظفرآباد کے بلیک فورٹ میں قید کر دیا گیا جہاں آپ پر بے پناہ تشدد کیا گیا۔ تاہم محاذ رائے شماری، این ایل ایف اور این ایس ایف کے زبردست مظاہروں کے بعد آپ کو 8 مارچ 1969 کو رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد آپ نے سیاسی سرگرمیوں پر تمام تر توجہ مرکوز کی اور نومبر 1969 میں آپ کو محاذ رائے شماری کا مرکزی صدر بنا دیا گیا۔

30 جنوری 1971 کو آپ سے تربیت حاصل کر کے دو نوجوانوں ہاشم قریشی اور اشرف قریشی نے بھارت کا طیارہ اغواء کیا اور اسے لاہور لے آئے۔ ہائی جیکروں نے بھارتی جیلوں میں قید این ایل ایف کے دو درجن کارکنان کی رہائی کا مطالبہ کیا مگر بھارت نے اس مطالبے کو تسلیم نہ کیا چنانچہ مسافروں کو رہا کرنے کے بعد یکم فروری 1971 کو طیارے کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔ پاکستانی قوم نے آپ اور آپ کے ساتھیوں کے اس اقدام کو بہت سراہا اور کھل کر آپ کی حمایت کی۔ آپ کے اس اقدام نے مسئلہ کشمیر کو نہ صرف نئی زندگی عطا کی بلکہ دنیا کے سامنے نہایت طاقتور انداز میں پیش بھی کیا۔

آزادکشمیر میں ان دنوں سردار قیوم خان کی حکومت تھی۔ سردار قیوم نے اپنے بھائی غفار خان کو بابائے قوم کے پاس یہ تجویز دے کے بھیجا کہ آپ اعلان کریں کہ یہ طیارہ المجاہد فورس کے گوریلوں نے اغواء کیا ہے۔ اس کے بدلے میں آپ کو منہ مانگی دولت اور آزادکشمیر کے اقتدار میں حصہ دینے کی پیشکش کی گئی مگر آپ نے اس سودا بازی کو ٹھکرا دیا۔ حکومتِ پاکستان نے کوہاٹ میں آپ کے ساتھ مذاکرات کیئے اور آپ کو پاکستان کی شرائط کے مطابق کام کرنے پر رضامند کرنے کی کوشش کی گئی مگر آپ نے اس پیشکش کو بھی ٹھکرا دیا۔ چنانچہ حکومتِ پاکستان نے آپ کو سینکڑوں ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا۔ اور عجب کمال دیکھیے کہ جس ایکٹ کے تحت آپ پر بھارت نے 1966 میں مقدمہ قائم کیا تھا اسی ایکٹ کے تحت پاکستان نے 1971 میں آپ پر اور این ایل ایف کے دیگر سینکڑوں کارکنان پر مقدمہ قائم کیا۔ آپ پر پاکستان کی جیلوں میں جو تشدد اور مظالم ڈہائے گئے ان کی تفصیل لکھنے کے کیئے ایک الگ کتاب کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے ساتھیوں کے خلاف دسمبر 1971 میں مقدمے کی عدالتی کارروائی شروع کی گئی۔ استغاثہ کی طرف سے 1984 گواہان پیش کیئے گئے جب کہ آپ کے دفاع میں 1942 گواہان پیش ہوئے۔ مئی 1973 میں عدالت نے ہاشم قریشی کے علاوہ آپ سمیت تمام گرفتار شدگان کو بری کر دیا۔ ہاشم قریشی کو چودہ سال قید کی سزا دی گئی۔ اس مقدمے کے دوران جاری رکھے جانے والے تشدد، جبر اور پاکستان کی سازشوں کے باعث این ایل ایف ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا اور محاذ رائے شماری کو بھی بہت بڑا دھچکہ لگا۔ مئی 1973 میں رہا ہونے کے بعد مقبول بٹ نے محاذ رائے شماری اور این ایل ایف کو دوبارہ منظم کرنا شروع کیا۔ رہائی کے بعد منگلا قلعہ میں وزیرِاعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے آپ کے ساتھ مذاکرات کیئے اور آپ کو پیشکش کی کہ آپ پیپلز پارٹی میں شامل ہو جائیں۔ بھٹو نے آپ کو آزادکشمیر کی وزارتِ عظمیٰ دینے کا وعدہ کیا۔ مگر جواب میں بابائے قوم نے فرمایا ”ہماری منزل آزادکشمیر کی وزارتِ عظمیٰ نہیں بلکہ کشمیر کی مکمل آزادی اور خودمختاری ہے“۔

آپ نے بھٹو کی پیشکش کو ٹھکرا دیا اور اعلان کیا کہ آپ عوام سے فیصلہ لیں گے۔ چنانچہ محاذ رائے شماری نے 1975 کے انتخابات میں حصہ لیا۔ مگر بھٹو نے فرشتے مقرر کر کے اپنے من پسند نتائج حاصل کیئے۔ بابائے قوم نے آزادکشمیر اسمبلی کے 1975 کے انتخابات میں دو نشستوں سے انتخابات میں حصہ لیا مگر بھٹو نے نہ صرف آپ کو بلکہ محاذ کے تمام امیدواروں کو ہرا دیا اور اپنی مرضی کے نتائج مرتب کیئے۔ آزادکشمیر کی سیاست سے مایوس ہو کر مئی 1976 میں بابائے قوم کچھ ساتھیوں کو کے کر پھر جنگ بندی لائن عبور کر کے بھارتی مقبوضہ کشمیر چلے گئے۔ مگر چند دن بعد ہی آپ کو گرفتار کر لیا گیا۔ اور سابقہ مقدمے کی فائل دوبارہ کھول دی گئی۔ عدالت نے آپ کی سزائے موت کو برقرار رکھا یوں آپ کو سرینگر سے تہاڑ جیل دہلی منتقل کر دیا گیا۔

فروری 1984 کے پہلے ہفتے میں چند کشمیری نوجوانوں نے باطانیہ کے شہر برمنگھم میں بھارتی قونصل خانے کے ایک کلرک رویندرا مہاترے کو اغوء کر کے مقبول بٹ کی رہائی کا مطالبہ کیا مگر تین دن بعد ہی مہاترے کی لاش ایک کھیت سے ملی۔ بھارتی حکومت نے فی الفور مقبول بٹ شہید کو پھانسی دینے کا اعلان کر دیا۔ میاں سرور، مظفربیگ، ظفر معراج اور کپل سیبل نے مقبول بٹ کو بچانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ یوں گیارہ فروری 1984کی صبح مقبول بٹ شہید کو تختہ دار پر جھلا دیا گیا۔

آپ کے آخری الفاظ تھے ”مجھے کل پھانسی دے دی جائے گی اور مجھے کوئی پچھتاوا نہیں۔ میں اپنے لوگوں سے محبت کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے لوگ اس سچائی اور حق کو جان جائیں گے جن کے لیے میں ان تمام سالوں میں لڑتا رہا اور جس کے لیے میں آج خود کو قربان کر رہا ہوں۔ “

ان کی پہلی اور اخری محبت کشمیر تھی۔