153

ریاست جموں کشمیر پر قبائلی حملہ اور پاکستانی لشکر کشی

اکتوبر کا مہینہ تاریخ کشمیر میں اےک اہم حثیت رکھتا ہے ۔ اس کے اہم ہونے کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ اس مہینے میں کشمیر کے ٹکڑے کئے گئے اور اس مہینے میں کشمیر کے سینے پر سے ایک خونی لکیر کھینچ دی گئی۔ایک قوم کو شخصی غلامی سے تو آزاد کیا گیا مگر غیر ملکی تحویل میں دے دیا گیا۔ دنیا کی تاریخ غداران ملت سے بھری ہوئی ہے اور سیاسی غلطیوں سے بھی مگر یہ شاید تاریخ عالم کی سب سے بڑی تاریخی غلطی تھی ۔

پاکستان کے وجود میں آتے ہی پندرہ اگست کو مہاراجہ جموں کشمیر مہاراجہ ہری سنگھ اور بانی پاکستان جناب قائداعظم محمد علی جناح کے درمیان ”Stand still agrement”یا ”معائدہ جوں کا توں “ ہو ا جس میں مہاراجہ کشمیر نے تین اہم امور یا ادارے پاکستان کے حوالے کئے دوسرے لفظوں میں پہلا معاشی معائدہ ہوا۔ جس کی رو سے خوراک ،پٹرول و ڈیزہ اور ڈاک کے ترسیل پاکستان کے حوالے کی گئی ۔ یہ معائدہ دو آزاد اور خود مختار حکمرانوں کے درمیان ہی ہو سکتا ہے۔

قیام پاکستان اور کشمیر کے حوالے سے کچھ باتیں اس سے پہلے بھی زیر عمل رہیں ہیں جن میں سے اہم 10جولائی کو چوہدری حمیداللہ اور اسحاق قریشی کی قائد اعظم سے ملاقات ہوئی یہ دونوں حضرات اس وقت مسلم کانفرنس کی ورکنگ کمیٹی کے ممبران تھے اور غلام عباس جیل میں تھے ۔ ان حضرات کی قائد اعظم سے ملاقات سے واپسی پر 17جولائی 1947ءکو ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں خود مختار کشمیر کی قرادار منظور کی گئی جبکہ 19جولائی کو غلام عباس نے جیل سے رہا ہوتے ہی اس قرارداد کو کلعدم قرار دے دیا اور الحاق پاکستان کی قرارداد منظور کر لی گئی ۔

واضع رہے کہ اس وقت کے کشمیر کے وزیراعظم پنڈت رام چند کاک نے 10جولائی کو قائداعظم سے ملاقات کی اور قائداعظم نے انہیں بھی کشمیر کی خودمختاری کامشورہ ہی دیا تھا ۔ پاکستان کے وجود میں آتے ہی برصغیر میں قتل عام کا ایک بازار گرم ہو گیا پنجاب میں ہندﺅں نے مسلمانوں کو قتل اور مسلمانوں نے ہندﺅں کو ۔ لیکن اس دوران کشمیر کے تقریباََ تمام ہی علاقوں میں امن رہا کشمیر اس وقت برصغیر کی سب سے بڑی ریاست تھی ۔ستمبر کے مہینے میں کشمیر کے بعض علاقوں میں کشیدگی شروع ہو گئی جن میں سے پونچھ سر فہرست تھا جس کے بارے میں آزاد کشمیر کے پہلے صدر سردار محمد ابراہیم خان نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے یہ کشیدگی ان کی ایک تقریر کے بعد مہاراجہ کے خلاف کھلی بغاوت میں تبدیل ہو گئی موصوف اس وقت سرےنگر میں تھے اور ان کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے گئے اور انہوں نے بھاگ کر پاکستان میں پناہ لی ۔

اکتوبر کے مہینے میں حالات کافی بگڑ گئے تھے اور مہاراجہ کی صرف دس ہزار فوج اس کے لئے ناکافی ہو رہی تھی دوسری طرف پاکستان نے بھی ”مہائدہ جوں کا توں “ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈیزل و خوراک کی ترسیل بند کر دی ۔ 4اکتوبر 1947کو اےکو باغی حکومت کا اعلان کیا گیا اور صدر غلام نبی گلگار انور کو منتخب کیا گیا مگر یہ صرف اعلان ہی کی حد تک تھا کیونکہ سری نگر میں مہاراجہ کشمیر کی حکومت تھی اس کے علاوہ پونچھ میں مسلح بغاوت شروع ہو چکی تھی ۔ خوراک و پٹرول کی ترسیل بند ہو گئی تھی نتیجتاََ کشمیر کی فوج کی نقل و حرکت محدود ہو گئی تھی اور وہ باغیوں کو قابو میں کرنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے ۔

16 یا 17اکتوبر کو پاکستان فوج کا ایک کرنل شاہ سرےنگر میں الحاق پاکستان کی دستاویز اٹھائے مہاراجہ سے ملنا چاہتا تھا مہاراجہ کے وزیر اعظم نے اسے یہ کہا کہ پاکستان حکومت خوراک کی ترسیل شروع کرے تو وہ اس بارے میں سوچ سکتے ہیں ۔ کرنل شاہ کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اس بات پر ڈٹا رہا کہ کشمیر جلد سے جلد پاکستان سے الحاق کرے 19اکتوبر کو وہ واپس آگیا اور آتے آتے خطرناک نتائج کی دھمکیاں بھی دے آیا ۔ مسلم کانفرنس مظفرآبادکا اس وقت صدر شیخ اقبال تھا جبکہ غلام دین وانی، حاجی لسہ جو میر ، غلام رسول پنڈت اس کے چیدہ چیدہ لوگوں میں شامل تھے یہ لوگ خان عبدالقیوم خان جوکہ اس وقت صوبہ سرحد(موجودہ خیبر پختون خواہ) کا گورنر تھا ۔اور وہ اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان سے مسلسل رابطے میں تھے ۔

اکتوبر کے آخری ہفتے میں چیدہ چیدہ لوگوں کا مری میں ایک اجلاس ہو ا جس میں یہ طے پایا کہ کشمیر پر پہلے قبائلی حملہ آور بھیجے جائیں اور ان کے پیچھے پیچھے فوج بھیجی جائے منصوبہ یہ بنا کہ عیداالضحی کے فوراََ بعد قبائل کشمیر پر حملہ کر دیں گے مگر اس دوران کشمیر کا گونر کرتار سنگھ مظفر آباد آیا اور ہندﺅں اور سکھوں مےںقبائلیوں کے ممکنہ حملے کے پیش نظر پندوقیں تقسیم کیں مسلمانوں سے پہلے ہی اسلحہ جمع کر لیا گیا تھا واضع رہے کہ کشمیر پر قبائل حملہ کی خبریں کافی عرصہ سے گردش کر رہی تھیں اور مہاراجہ کشمیر اس سے پوری طرح آگاہ تھا ہندﺅں اور سکھوں میں اسلحہ تقسیم کرنے کے جو بھی مقاصد تھے وہ الگ کہانی ہے تاہم مسلمانون میں یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ عید والے دن نماز عید کے بعد ہندو اور سکھ مسلمانون پر حملہ کردیں گے نتیجتاََوہ قبائل حملہ جو 25اکتوبر کے بعد ہونا تھا اب 21اکتوبر کو ہی کر دیا گیا۔

مظفرآباد کے باسی اس حملے سے پہلے ہی پریشان تھے ۔ نصف شب کو قبائل حملہ ہوا اور برار کوٹ چوکی پر اس وقت تمام مسلمان سپاہی موجود تھے جو کہ قبائلیوں سے ملے ہوئے تھے نتیجتاََ وہ بغیر کسی مزاحمت کا سامنا کئے مظفر آبا د پہنچ گئے دریائے کشن کنگا(موجودہ دریائے نیلم) میں پل کے نیچے اس قسم کی متوقع صورتحال کے پیش نظر بارود لگا رکھا تھا تاکہ حملے کی صورت میں پل کو اڑا دیا جائے ۔ اس وقت مظفرآباد میں چیدہ چیدہ آفیسران یہ تھے ۔

وزیر وزارت(ڈپٹی کمیشنر) شری دونی چند مہتا اور فوجی آفسران میں میجر سروپ سنگھ شامل تھا جوکہ راجپوت رجمنٹ میں تھا ۔ نلم پل پر اس وقت ایک مسلمان کیپٹن خواجہ محمد علی کی ڈیوٹی تھی جو کہ قبائلیوں سے ملا ہو اتھا۔ صبح تک قبائلی مظفرآباد میں داخل ہو چکے تھے اور اپنی وحشت اور بربرےت کے وہ باب لکھ رہے تھے جس سے چنگیز خان اور ہلاکو خان کی وحشت اور بربرےت مانند پڑ رہی تھی ۔ شہر میں گھسنے کے بعد ان ظالموں نے چن چن کر قتل کرنا شروع کردیا ہزاروں مردوں کو تہہ تیغ کر دیا ہزاروں عورتوں کی عزتوں کو لوٹا ہزارون بچوں کو نیزوں پر اچھالا گیا ۔ انہوں نے سب سے پہلے جیل پر حملہ کیا جو کہ اس وقت نےلم پل کے ساتھ ہی تھی اور تمام ملازمیں کو تہہ تیغ کر دیا اور مسلمان قیدیوں کو رہا کر دیا ، ہندﺅں اور سکھوں کو قتل کر دیا

۔ شہر میں قبائلیوں کی حملے کی خبر ملتے ہی لوگوں اپنی عورتوں اور بچوں کو چھپارہے تھے اور جنگلوں کو رخ کر رہے تھے ۔ ہندو عورتیں اور سکھ عورتیں ایک ہی جگہ سمٹ کر بیٹھ گئیں تین دن تک بھوک وپیاس کی حالت میں انہوں نے گزارے مجبوی کی حالت میں اپنا ہی پیشاب پیا اورمعصوم بچوں کے گلے صرف اس وجہ سے دبا دیے گئے کہ ان کے رونے کی آواز کوئی سن لے گا ۔ یہ حال صرف ہندﺅں کا ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کا بھی تھا ان کے ساتھ بھی یہی ہو رہا تھا قبائل جس عورت کے ہاتھ کان ناک میں کوئی چیز دیکھتے تھے تو وہ چھین لیتے تھے رات کو پناہ گزین کیمپوں پر حملہ کرتے اور عورتوں کو اٹھا کر اپنے ساتھ لے جاتے تقریباََ 400عورتوں کو اگٹھا کر کے سرحد لے کر جا رہے تھے کہ انہوں نے دریا کشن گنگا میں چھلانگ لگا دی ان میں سے کچھ کو تو انہوں نے بچا لیا مگر زیادہ تر نے اپنی جان دے دی ۔

مظفرآبا د میں ایک مسلمان راہنما ماسٹر عبدالعزیز تھے پیشے کے اعتبار سے درزی تھے شروع دن سے ہی نیشنل کانفرنس میں تھے اور اس کے صدر تھے انہوں نے کئی غیر مسلم عورتوں اور بچوں کو اپنے گھر پناہ دی ہوئی تھی اور قبائلےوں کے سامنے سینہ سپر ہوئے تھے قبائلیوں نے انہیں دھوکے سے نیلم پل پر بلا کر گولیاں مار کر شہید کر دیا اور ان کی لاش کو دریا نیلم میں بہادیا دومیل کے مقام پر ہزاروں عورتوں بچوں اور مردوں کی لاشیں تھیں قبائلی جنہیں گھسیٹ گھسیٹ کر دریا میں پھینکتے تھے مظفرآباد میں عید الضحی پر ان لوگوں نے انسانیت کی اتنی قربانیاں دیں جو کہ تاریخ عالم میں شاید ہی کبھی دی گئیں ہوں(قبائلی کشمیر میں پختٹروں کے نام سے آج بھی مشہور ہیں،جس کا مطلب ہے وحشی درندہ)قبائلیوں کے کرتوتوں کے بارے میں سردار ابراہیم نے بھی ذکر کیا ہے انہوں نے ایک جگہ مختصر سا ذکر کیا ہے مگر ا ن کے بربریت اس سے لاکھوں گنا زیادہ تھی۔

میجر خورشید انور فاتح کشمیر بننا چاہتا تھا ۔ جب مہاراجہ کشمیر حالات کو قابو نہ کر سکا تو مجبوراََ اس نے بھارت کو مدد کے لئے بلایا یوں 26اکتوبر کو بھارت نے کشمیر پر حملہ کر دیا خورشید انور کا خواب خواب ہی رہ گیا اور کشمیر دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا ۔ یہاں تاریخ کا طالب علم ہمیشہ یہ سوال پوچھتار ہے گا کہ اگر قبائلیوں کا حملہ فقط جذبہ جہاد کی وجہ سے تھا تو اس کے فقط ایک روز بعد یعنی 23اکتوبر کو پاکستان کی فوج کشمیر میں کیا کر رہی تھی ۔ ؟

بارہمولا کی راہباﺅں کی عزت کے ساتھ کیوں کھیلا گیا۔۔ کیا کسی اسلام میں اس کی اجازت تھی؟ بھارت کے حملہ کے بعد قبائلی سر پر پاﺅ ں رکھ کر بھاگ رہے تھے ۔ ان کے ہاتھ جو لگا وہ ٹرک بھر بھر کر لے گئے کشمیر کو لوٹ لیا گیا تھا ہزاروں عورتیں قبائلی جاتے جاتے اپنے ساتھ لے گئے جو بعد میں سرحد کے بازارو ں میں بکتی رہیں ۔جب کشمیر کی لٹے پٹے لوگ جموں پہنچے تو وہاں اسی طرز پر مسلمانوں کا قتل عام ہو،قبائلیوں کا کشمیر پر حملہ تاریخ کی وہ گھناﺅنی سازش تھی جس کاخمیازہ آج تک کشمیری قوم بھگت رہی ہے ۔