209

زینب، فریال اور فرشتہ کا مجرم کون؟

ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا، اس دوران تقریریں، دعوے، مزمتی بیانات اور بس سوشل میڈیا پر چند دن کی بحث کے بعد حاصل کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ معصوم کلیوں کو جنسی درندے نوچ رہے ہیں ان کے ماس سے خون کی آخری بوندیں تک نچوڑ رہے ہیں اور ہمارا اجتماعی ضمیر فقط بحثوں اور مذمتوں سے مطمئن ہوجاتا ہے۔ پھر ہم کار دنیا کے دیگر امور میں الجھ جاتے ہیں اس وقت تک کہ زیست کے سفید باب پر کوئی دوبارہ کالی سیاہی سے اندھیرا نہیں بکھیر جاتا۔ 

ہم باآواز بلند مجرم کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی مانگ کرتے ہیں، اس کی موت یا سزائے موت سے ہماری اجتماعی بے حثی اور ضمیر کی تشنگی ختم ہو جاتی ہے۔ ہماری غیرت جو چند لمحوں کے لیے جاگتی ہے اس کی تشفی ہو جاتی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے برے کو ختم کر کے برائی کو ختم کر دیا ہے۔ اب ہم تمام سماجی اور قانونی و اخلاقی ذمہ داریوں سے مبرا ہیں اور پھر کوئی زینب، کوئی فریال اور کوئی فرشتہ ہماری اجتماعی بے حسی کی بھینت چڑھ  جاتی ہے۔ ہم تو ویسے بھی اسے قسمت بہ رضا خدا تسلیم کر کے خاموش ہو جاتے ہیں۔ زینب کا باپ انصاف کو ایک مسلمان کے ہاتھوں لینے پر ترجیح دیتا ہے۔

مجرم کون ہے؟ وہ شخص جو ہمارے معاشرے کے اجتماعی ماتھے پر کلنگ ہے؟ یہ معاشرہ جس میں بے حسی اپنے عروج پر ہے؟ یا پھر ریاست؟ سماج اور فرد ریاست کے سامنے بہت کمزور ہوتے ہیں تو پھر جواب یہی ہے کہ یہ مجرم ریاست ہے جو ہر دفعہ اپنی اخلاقی فرائض کی ادائیگیوں کو دیگر فرائض پر ترجیح دیتی ہے۔ آج کا سماج انسانی علوم کا سماج ہے، جہاں فلسفہ، طب، عمرانیات، حیاتیات، نفسیات اور دیگر علوم پر بے شمار کام ہو چکا ہے۔ معاشر ے میں پنپتی برائیوں کو خدا کے کھاتے میں یا فرد واحد کے کھاتے میں ڈالنے کے بجائے ان کا سدباب کیا جاتا ہے اور سدبات کرنے لیے تحقیق کی جاتی ہے کہ فلاں برائی کے محرکات کیا ہیں؟ کیا اس کا محرک سماجی ہے نفیسیات، سیاسی ہے یا طبی اور اس کے بعد اسی طرح سے پالیسی سازی کی جاتی ہے تاکہ اس برائے کو سرے سے ختم کیا جائے۔

پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جہاں تحقیق اور قانون نام کی بلا سے ریاست خود دور رہتی ہے۔ احکامات ربانی اور روحانیت کو انسانی جبلتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کل سمجھتی ہے۔ بھوکے کو بندوق کی گولی کھلاتی ہے۔ تعلیم کی چنداں اہمیت نہیں، اور وفاقی بجٹ میں سب سے کم خرچ تعلیم پر ہوتا ہے، صحت اور حفظان صحت کے لیے کوئی مروجہ اصول و قوانین نہیں ہیں۔ یوں تو ہم ہر پانچ سال بعد قانون سازی کے لیے ساڑھے تین سو کے لیے بھگ اراکین اسمبلی منتخب کرتے ہیں مگر ان کا کام قانون سازی نہیں ہے بلکہ افتتاحی تقاریب میں جانا، بین ممالک دورے کرنا اور سیاسی مخالفین کے خلاف بیان بازی کرنا ہے۔ سماجی ضروریات اور انتظام کے لیے قانون سازی پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے۔

تعلیم معاشرے میں شعور اور فہم کی بہتری میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے اور جس معاشرے میں تعلیم کواہمیت نہیں دی جاتی ہے وہ معاشرہ اخلاقی اور معاشرتی برائیوں کا گڑھ ہوتا ہے، اخلاقی پستی اور انتہا پسندی اس کی رگوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے وہاں مذہبی تعلیمات کا اثر نہیں ہوتا ہے۔جدید سماج میں واعظ یا مولوی کی اہمیت عہد پارینہ کی طرح نہیں رہی ہے بلکہ اس کا کام منبر پر خطبہ پڑھنے اور امامت تک محدود ہے۔ گلوبلائزیشن اور انٹرنیٹ تک ہر شخص کی رسائی نے جہاں انسانی علم کو وسعت بخشی ہے وہیں اس کے منفی اثرات بھی چنداں ہیں۔  والدین اور اساتذہ سیکس کے بارے میں بات کرنے کو گناہ خیال کرتے ہیں اور سیکس کی تعلیم جو بچوں کے لیے جدید معاشرے میں انتہائی ضروری ہے ہمارے ہیں ایک ٹییبو ہے۔

پاکستان میں پے در پے ہونے والے جنسی درندگی کے واقعات میں سب سے زیادہ نشانہ معصوم بچوں کو بنایا جاتا ہے جن کی عمر بالترتیب آٹھ ماہ سے دس سال ہے۔ جہاں ایک طرف انٹرنیٹ تک آسان رسائی ہے اور لوگ پورن ویب سائٹس دیکھ دیکھ کر اپنی جنسی خواہشات کی تشنگی کی کوشش کرتے ہیں وہیں یہ ویب سائٹس انسانی ذہن پر منفی اثر ڈال کر اس طرح کی گھٹیا حرکت کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ جنسی خواہشات بھی بھوک کی طرح ہوتی ہیں جب تک اس تشنگی کو ختم نہ کیا جائے یہ مزید بڑھتی رہتی ہے اور پھر اس طرح کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ جنسی گھٹن کی اس صورتحال کے حل کے لیے جہاں ایک طرف نفسیات دانوں کو سماج کی اجتماعی نفسیات پر تحقیق نو کی ضرورت ہیں وہیں بچوں کی حفاظت کے لیے نئے قوانین سازی اور سماج کو ایک نئے جنسی معائدے کی ضرورت ہے گرچہ مواخر الذکر کے لیے کئی دہائیاں درکار ہیں مگر قانون سازے کے لیے اس کی راہیں ہموار کی جا سکتی ہیں۔

اگر ریاست قانون سازے کے بجائے اپنے ہاتھ کھڑے کر دیتی ہے تو ریاست ایسے واقعات کی مجرم ہے کیونکہ ریاست کو فرد اور معاشرے پر تقویت حاصل ہے۔ اس طرح کے واقعات کے روک تھام کے لیے جہاں فرد اور سماج کو اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہیں وہیں ریاست کی ذمہ داری بنیادی نوعیت کی ہے۔ انسانی جبلی نفسیات پر تحقیق کے انبار موجود ہیں اور اس تحقیق کو ہمارے معاشرے کی روشنی میں تشریح کر کے قانون سازی کے ذریعے ہی اس طرح کے واقعات کو ختم کیا جا سکتا ہے وگرنہ ہر واقعے کی مجرم ریاست ہے اور ریاست کو جواب دہ ہونا ہو گا