172

میں افسردہ نظمیں لکھتا ہوں 

میں افسردہ نظمیں لکھتا ہوں
میں لوگوں کی عدم موجودگی میں ان سے بات کرتا ہوں
اور ان باتوں کو صفحہ قرطاس پر بکھیر دیتا ہوں
میں وقت کے تصور منطق اور فلسفے میں کہیں کھو چکا ہوں
ایک گزرے ہوئے ایک شخص سے باتیں کرتا ہوں
جس کا ہاتھ سماج کے بے ہنگم انسانوں بھرے ریوڑ میں مجھ سے چھوٹ چکا ہے
جس سے میری روز مرہ کی باتیں اب محض یادیں بن چکی ہیں
جس کی عادت اب ایک واہمہ بن چکی ہے
اور ایک لمحہ جو بدقمستی میں بدل جاتا ہے
یا پھر سرمایہ حیات بن جاتا ہے
میں اسی ایک لمحے میں کہیں الجھا ہوا ہوں
بدقسمت یا خوش قسمت
وقت کی چال بدلنے میں ناکام ہو چکا ہوں
میں چاہتا ہوں کہ یہ تھم جائے، سکوت میں آ جائے
یہ تو مجھے ماضی میں دھکیلتے کہیں آگے ہی آگے بڑھ رہا ہے
لیکن کچھ دھندلے نقوش
ازل سے میرے ارد گرد منڈلا رہے ہیں
کسی مسلسل اور نامکمل الجھن کی طرح
کیا آسمان سلامت رہے گا
کیا ستارے ایسے ہی چمکتے رہیں گے
کیا کار جہاں بے مطلب ہے؟
اور پھر وہ ایک لمحہ جب وقت تھم جاتا ہے
وہ ایک لمحہ زندگی کا حاصل ہوتا ہے
جو چلے جاتے ہیں اور یکساں نہیں رہتے، وہ ختم ہو جاتے ہیں
اوہ تو یہ درد ہے، اور یہ بھی عارضی
نہیں یہ مستقل ہے، سب سے افسردہ، سب سے خوشگوار
لوگ نہیں جی سکتے ، انہیں جینا نہیں آتا
اور میں
اس ایک لمحہ میں جی رہا ہوں
جب میں تم سے پہلی دفعہ ملا تھا
خوش خوش افسردہ سا
افسردہ نظمیں لکھتا ہوا

اپنا تبصرہ بھیجیں