141

بائیس لاشیں کافی ہیں، سیاست زندہ باد

موقع پرستوں کیلئے مذہب ہمیشہ سے طاقت، اقتدار اور سیاسی مفاد حاصل کرنے کیلئے ایک آسان اور کارگر ہتھیار رہا ہے، 1909 میں بننے والی جموں کی ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن بھی مسلمانوں کے حقوق کے نام پر سیاست کا ایک پلیٹ فارم تھا، وہ مساجد اور اسلامی اجتماعات کو اپنی سیاست کیلئے استعمال کرتے تھے جس سے ریاستی حکومت ناخوش تھی، 19 اپریل 1931 کو جموں کے میونسپل پارک میں نماز عید کے موقع پر نماز کے بعد جب امام خطبہ عید دے رہے تھے تو حکام نے اسے عربی میں سیاسی تقریر سمجھا، موقع پر موجود ڈی آئی جی پولیس چوہدری رام چند کے احکامات پر تھانیدار بابو کھیم چند نے خطبہ رکوا دیا، مسلمانوں نے اسے “مداخلت فی الدین” قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا جو جموں شہر اور گرد و نواح میں کئی روز تک جاری رہا اور بالآخر یہ معاملہ سرد پڑ گیا، سرینگر کی ریڈنگ روم پارٹی کو جب اس واقعہ کی اطلاع پہنچی تب تک جموں میں حالات نارمل ہو چکے تھے، ۔

ریڈنگ روم پارٹی کے قائدین توہین مذہب سے متعلق اس واقع کو حکومت کیخلاف ایک سیاسی تحریک کی بنیاد بنانا چاہتے تھے لیکن اس واقع کو سیاسی طور پر دوبارہ زندہ کرنا ناممکن تھا سو انہوں نے جموں کی ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن کیساتھ مل کر توہین قرآن کا معاملہ پھیلانے کا فیصلہ کیا، توہین مذہب کے بعد اب اس سے بھی سنگین نوعیت کا ایشو درکار تھا کیونکہ دیگر مسائل کی بنیاد پر کوئی موثر سیاسی تحریک کھڑی کرنا ممکن نہ تھا۔

اس مجرمانہ اور گھناونی سازش کو عملی جامہ پہنانے کیلئے جموں اور سرینگر میں پوسٹر تیار کیئے گئے، جموں میں یہ پوسٹر چھپوا کر کرن اخبار کے ایڈیٹر محمد شفیع چک کے دفتر میں رکھوا دیئے تھے جبکہ سرینگر میں ہاتھ سے پوسٹر تیار کیئے گئے، توہین قرآن کا ایشو بنانے کیلئے جموں کی پولیس لائن میں تعینات کانسٹیبل محمد اسماعیل کا انتخاب کیا گیا جس نے ہیڈ کانسٹیبل لابھا رام پر توہین قرآن کا الزام لگایا، جس روز جموں کی پولیس لائن میں توہین قرآن کے جھوٹے واقعہ کا واویلا کیا گیا اسی دن (“واقعہ” سے پہلے ہی) صبح سویرے محمد مقبول حکاک توہین قرآن کے واقعہ کے حوالے سے تیار کیئے گئے پوسٹر اور کرن اخبار کا ایک بنڈل لیکر سرینگر روانہ ہو چکا تھا،

سرینگر میں پلان کیمطابق ریڈنگ روم پارٹی کے رہنماوں نے فوری طور پر وہ پوسٹر اور اخبار شہر بھر میں پھیلا دیئے، لوگوں میں غم و غصہ کی ایک لہر دوڑ گئی اور شدید احتجاج شروع ہو گیا جسکی شدت میں ہر گزرتے دن کیساتھ اضافہ ہو رہا تھا، اسی دوران عبدالقدیر خان نامی ایک غیر ریاستی شہری نے سرینگر کی مسجد میں ایک جلسہ کے بعد اشتعال انگیز تقریر کی جس کی پاداش میں اس پر مقدمہ درج ہوا اور بعد ازاں اسے گرفتار کیا گیا، 13 جولائی 1931 سرینگر کی سینٹرل جیل میں اس کے کیس کی سماعت کے موقع پر ہجوم نے زبردستی جیل کے اندر گھسنے کی کوشش کی جس پر پولیس نے ہجوم منتشر کرنے کیلئے گولی چلا دی، موقع پر 15 لوگ شہید ہوئے جبکہ سات زخمی بعد میں شہید ہوئے تو بائیس کی گنتی پوری ہوئی اور ادھر مذہب کے سوداگروں اور ریاست کے غداروں کو ایک لمبے عرصے تک ان لاشوں پر سیاست کا جواز ملا، ہم اپنے شہدا کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں، اور ان کے ناحق خون کے ذمہ دار لوگوں کو بھی انکے شایان شان القابات سے نوازتے ہیں،

شیر کشمیر اور رئیس الاحرار، آج ہر سٹیج سے 1931 کے شہدا کا مشن جاری رکھنے کے اعلانات ہونگے، لیکن انکا مشن کیا تھا؟ جو ریڈنگ روم پارٹی اور ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن کا تھا؟ وہی مشن آج بھی ریاستی و غیر ریاستی، روایتی و غیر روایتی سب جماعتیں جاری رکھے ہوئے ہیں، بائیس لاشیں کافی ہیں، سیاست زندہ باد