27

خول اترا تمہارا تو

گزشتہ کچھ سالوں سے “آزادکشمیر” کی بظاہر “آزادی پسند سیاست” نے ایک نیا رخ اختیار کیا ہے یا یوں کہہ لیں کہ ایک نئے تنازعہ کا شکار ہوئی ہے اور اس تنازعہ کی بنیادی وجہ ریاست کی تشکیل، تعمیر اور پھر تقسیم سے ہوتے ہوئے موجودہ سیاسی جماعتوں کے منشور اور اغراض و مقاصد تک کے معاملات کے اردگرد گھومتی ہے، انیس سو سینتالیس میں ریاست جموں کشمیر پر بھارتی اور پاکستانی قبضے کے بعد دونوں ممالک کی یہی کوشش رہی ہیکہ ہر وہ رستہ مسدود کر دیا جائے جس سے ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی اور مکمل آزادی کا کوئی رتی برابر بھی امکان ہو سکتا ہے، سب سے پہلے بھارت اور پاکستان کی ریاستی مشینری نے اپنی ساری طاقت اور وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ایسا ماحول اور اسباب پیدا کیئے کہ ریاستی عوام اپنے ماضی سے شدید نفرت کرتے ہوئے ریاستی تاریخ اور ارتقاء کے حوالے سے غلط فہمیوں کا شکار ہوں اور وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب بھی ہوئے، اس کی مثالیں ہمیں مختلف “آزادی پسند” جماعتوں کے آئین و منشور اور تحریر و تقریر میں بکثرت ملتی ہیں، بعض اسے ناجائز ریاست قرار دیتے ہیں، بعض اسے ریاست کی بجائے جاگیر قرار دیتے ہیں اور بعض ریاست کی تشکیل سے تقسیم تک کے دور کو براہ راست برطانوی زیر قبضہ علاقہ قرار دیتے ہوئے ریاست کے وجود سے بالکل ہی انکاری ہیں اس پر مستزاد یہ کہ انکی سیاست اسی ریاست جموں کشمیر کیلئے اور اسی جغرافیہ کیساتھ ہے جس کا وہ انکار کرتے ہیں، ایک آدھ “گروہ” سینتالیس کی قتل و غارت گری اور ریاستی تقسیم کو اٹھارہ سو بتیس کا بدلہ قرار دیتا ہے، اتنی کنفیوزن اور نفرت کی بنیاد کیا ہے، یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ڈھونڈنے کی ضرورت ہے.

2014 میں ایک طلباء تنظیم نے روایتی قوم پرست بیانیہ میں موجود خامیوں اور تضادات کی نشاندہی کرتے ہوئے بھارت اور پاکستان کے سرکاری بیانیوں کے چربہ کو رد کرتے ہوئے ایک مقامی جوابی بیانیہ کی تشکیل پر کام شروع کیا جو مکمل طور پر ایک “ایکیڈیمک” طرز پر آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک کچھ لوگ ایک مکمل اور خالص علمی و تاریخی بحث میں خاندانوں اور قبیلوں کی لڑائی لڑنا شروع ہو گئے، کچھ نے ریاستی حکمرانوں کو سادھو سنت اور پیر فقیر کے روپ میں پیش کرنا شروع کر دیا، جس سے خالص مقامی جوابی بیانیہ کی تشکیل کے عمل کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی، بادشاہت ایک مکمل نظام ہے جس کے اپنے لوازمات اور ضروریات ہوتی ہیں، بادشاہ ہمیشہ ظالم ہوتا ہے، وہ مخالفین کی گردنیں مار کر ہی مسند اقتدار پر بیٹھتا ہے اب اگر کوئی کسی بادشاہ کو رحمدل اور صلہ جو بنا کر ہیرو کے روپ میں پیش کرتا ہے تو ماضی کے تجربہ کی بنیاد پر اسے تقسیم ریاست چاہنے والی قوتوں کا آلہ کار ہی سمجھا جا سکتا ہے.

اسی طرح کچھ لوگ جو بظاہر اس نئے بیانیہ کی علمبراد ہیں وہ بجائے ریاستی شناخت کے اپنی علاقائی شناخت کی بنیاد پر ایک منفی اور نفرت انگیز پروپیگنڈہ جاری رکھے ہوئے ہیں، ایسے لوگوں کو بجا طور پر ففتھ کالمسٹ قرار دیا جا سکتا ہے جو بظاہر تو ریاستی بیانیہ کو درست تسلیم کرتے ہیں لیکن درحقیقت وہ مکمل طور پر ایک علمی، سیاسی اور تاریخی بحث کی سمت ذات، برادری اور علاقہ کی طرف موڑ کر قابضین کے مقاصد پورے کر رہے ہیں، ہم ریاستی حکمرانوں کو ان کے تاریخی کردار کے ضمن میں دیکھتے ہیں، ان کے ذمہ اچھے برے اقدامات کی ایک لمبی فہرست ہے، ہم انہیں بھگوان کا اوتار یا ہیرو بنا کر پیش کرنے کی بجائےان کے تاریخی کردار و اقدامات اور پھر ان کے حاصلات کے تناظر میں دیکھتے ہیں جو بجا طور پر ریاست جموں کشمیر کی تشکیل و تعمیر اور الگ و مسلمہ تشخص ہے جو ہمیں بھارت اور پاکستان سے الگ ایک قومی شناخت دیتا ہے
دوسری طرف جو روایتی “قوم پرست بیانیہ” ہے وہ ایسے ہر عمل کی مخالفت میں پیش پیش ہے جس سے منقسم ریاست کو جوڑنے کی کوئی راہ نکل سکتی ہے، ریاستی پرچم کو وہ حکمرانوں کے خاندان کا پرچم قرار دیکر اس کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں حالانکہ یہ ریاستی وحدت کی نشانی کے طور پر لہرایا جاتا ہے، آج جب منقسم ریاست کی اکائیوں کے درمیان شدید قسم کی غلط فہمیاں بلکہ نفرتیں موجود ہیں وہاں ریاستی وحدت اور متنوع ریاستی اکائیوں کے درمیان مشترک ماضی کی واحد دستیاب قومی نشانی ہے۔


بھارت اور پاکستان کے لاکھ آپسی اختلافات ہوں لیکن ریاست جموں کشمیر کی مستقل تقسیم پر دونوں ممالک کا مجرمانہ اور سازشی گٹھ جوڑ موجود ہے، دونوں ممالک ریاست میں موجود اپنے گماشتوں کے ذریعے تقسیم ریاست کی راہ ہموار کرتے ہوئے لوگوں کی ذہن سازی کر رہے ہیں، روایتی “قوم پرست” بیانیہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، معاہدہ امرتسر جو حقیقی معنوں میں ریاستی تشکیل و وجود کی بنیاد ہے اس کا انکار کرتے ہوئے اور ریاستی سرحدات کے تعین کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے اکثر یہ کہا جاتا ہیکہ سرحدیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور سرحدوں کا تعین کوئی اہمیت نہیں رکھتا، اگر اس رحجان کا تجزیہ کیا جائے تو ثابت ہوتا ہیکہ ریاستی تقسیم کے بھارتی اور پاکستانی منصوبے کی تکمیل کیلئے ذہن سازی کی جا رہی ہے کہ سرحدات اور جغرافیہ اہم نہیں یعنی اب بھی وہ سرحدات کی تبدیلی کیلئے تیار ہیں، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ بھارت اور پاکستان تقسیم ریاست کا ایک باقائدہ منصوبہ نہ صرف تیار کر چکے ہیں بلکہ اس پر درپردہ کام بھی جاری ہے جس کیمطابق کشمیر (ویلی) کو ایک نیم خودمختار ملک بنایا جائے گا جبکہ جموں اور لداخ انڈیا کا باقائدہ حصہ بن جائیں گے اور گلگت بلتستان بشمول آزادکشمیر پاکستان کے حصے میں جائیں گے۔۔۔
ضرورت اس امر کی ہے ان تمام بہروپی بلکہ بنارسی، سیاست نما سازشوں کو سمجھتے ہوئے ریاستی عوام کو شعوری اور سیاسی طور پر تیار کیا جائے تاکہ حقیقی معنوں میں ریاستی وحدت کی بحالی، مکمل آزادی اور خوشحال معاشرے کی قیام کی جدوجہد کو منظم کیا جا سکے

اپنا تبصرہ بھیجیں