144

بھارت کے 65 ممالک میں 265 جعلی میڈیا ادارے بے نقاب

یورپ میں ڈس انفارمیشن واچ ڈاگ نے بھارت کے سفارتی مفادات کو فروغ دینے والے جعلی میڈیا اداروں کے گٹھ جوڑ کا پول کھول دیا ہے۔

انگریزی جریدے ڈان کے مطابق یورپی یونین کی ایک غیر سرکاری تنظیم ڈس انفو لیب ،یورپی یونین کے ممالک اور اداروں کو نشانہ بنانے والی جدید ڈس انفارمیشن کمپینوں کا سراغ لگانے کا کام کرتی ہے۔، اس نے اپنی تحقیقات میں 65 ممالک کے 265 جعلی میڈیا اداروں کا سراغ لگایا ہے ۔ تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ یہ پلیٹ فارم پروپیگنڈا کے ذریعہ ہندوستان کے جغرافیائی اور سیاسی مفادات کو فروغ دیتے ہیں۔

ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق اس مہم کا مقصد بھارت کے 5 اگست کے اقدام کی بین الاقوامی سطح پر حمایت حاصل کرنا ہے ۔ یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کے وادی کشمیرکے حالیہ متنازعہ دورے کو تھینک ٹینکس ، غیر سرکاری تنظیموں اور میڈیا گروپوںکے بین الاقوامی نیٹ ورک سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔

ڈس انفو لیب نے زومبی کمپنیوں ، غیر فعال ذرائع ابلاغ اور قانونی طور پر غیر موجود تنظیموں کے مابین روابط کا انکشاف کیا ہے ، جس نے پاکستان کو مستقل نشانہ بناتے ہوئے یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی بھی لابنگ کی۔

تحقیقات میں جن اداروں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں ٹائمز آف لاس اینجلس ، ٹائمز آف پرتگال ، نئی دہلی ٹائمز ، نیو یارک جرنل امریکن ، اور ٹائمز آف شمالی کوریا شامل ہیں۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق یوروپی یونین کے ڈس انفو لیب کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ 30 اکتوبر کو وادی کشمیر میں آنے والے یورپی یونین کے پارلیمنٹیرین کے وفدکا انتظام انہیں تھنک ٹینکس ، این جی اوز اور میڈیا آؤٹ لیٹس کے ذریعے کیا گیا۔

یوروپی یونین کے ڈس انفو لیب کی تحقیقات کے مطابق eptoday.com – برسلز میں یورپی پارلیمنٹ کے لئے خود ساختہ میگزین کی ویب سائٹ ہے جو رشیاٹوڈے اور وائس آف امریکہ سے براہ راست بڑی تعداد میں خبروں کی اشاعت کر رہی ہے۔

ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق یورپی یونین کے ڈس انفو لیب نے اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ ان سنڈیکیٹڈ خبروں میں ، ہمیں غیر متوقع طور پر پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف پروپیگنڈے کے ساتھ ساتھ ہندوستان سے متعلق دیگر معاملات سے متعلق مضامین ایک بڑی تعداد ملی۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ کے لئے ایک ماہانہ اخبار ای پی ٹوڈے کا انتظام ہندوستانی اسٹیک ہولڈرز کے پاس ہے ، اور اس کے سریواستو گروپ کے ایک تھنک ٹینک ، این جی اوز اور کمپنیوں کے وسیع رابطے تھے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ سریواستو گروپ کا IP پتہ غیر واضح ہے اور اس کے علاوہ آن لائن میڈیا ‘نئی دہلی ٹائمز’ اور انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے غیر منسلک مطالعات (IINS) سب نئی دہلی میں ایک ہی پتے پر موجود ہیں۔