128

پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے آئندہ مالی سال کےلئے 121 ارب کا بجٹ پیش کر دیا، بجٹ خسارہ پچیس ارب ہوگا

مظفرآباد(پی آئی ڈی)18جون 2019 آزادجموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس منگل کے روزسپیکر شاہ غلام قادر کی زیر صدارت منعقد ہو ا جس میں مالی سال2019-20کیلئے آزادکشمیر کی تاریخ کا سب سے بڑا01کھرب21ارب 56کروڑروپے حجم کا تخمینہ میزانیہ منظوری کیلئے پیش کر دیا گیا۔ جاریہ اخراجات کیلئے97ارب جبکہ ترقیاتی اخراجات کیلئے24ارب 56کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

آئندہ مالی سال کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 11فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔شاہرات کیلئے 9ارب90کروڑ10لاکھ، تعلیم کیلئے2ارب67کروڑ،صحت کیلئے75کروڑ تجویز کیے گئے ہیں۔ گریڈ 1سے 16تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 10،گریڈ17سے 20تک افسران کی تنخواہوں میں 5اور پنشن میں 10فیصد اضافہ تجویز کیاگیا ہے۔

اجلاس میں تخمینہ میزانیہ2019-20اور نظرثانی میزانیہ2018-19پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ ڈاکٹر نجیب نقی نے کہاکہ آئندہ سالانہ ترقیاتی میزانیہ میں 40فیصد رسل و رسائل،11فیصد تعلیم،10فیصدفزیکل پلاننگ وہاؤسنگ، 9فیصد لوکل گورنمنٹ،8فیصد پاور،6فیصد فارن ایڈذپراجیکٹس،3فیصد صحت جبکہ13فیصد فنڈزدیگر پیداواری شعبہ جات کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔

سالانہ ترقیاتی اخراجات کے تحت محکمہ زراعت و لائیوسٹاک کیلئے آئندہ مالی سا ل کیلئے 41کروڑ90لاکھ، شہری دفاع کیلئے9کروڑ 50لاکھ، ترقیاتی اداروں کیلئے20کروڑ24لاکھ97ہزار، تعلیم 2ارب 67کروڑ، ماحولیات6کروڑ،بیرونی امداد سے چلنے والے منصوبے1ارب34کروڑ34لاکھ23ہزار،جنگلات،جنگلی حیات اور فشریز55کروڑ،صحت75کروڑ، انڈسٹریز اور معدنیات52کروڑ80لاکھ،ٹرانسپورٹ2کروڑ،انفارمیشن اینڈمیڈیا ڈویلپمنٹ3کروڑ70لاکھ،انفارمیشن ٹیکنالوجی23کروڑ50لاکھ، لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی2ارب 35کروڑ50لاکھ،فزیکل پلاننگ و ہاؤسنگ2ارب40کروڑ50لاکھ،پاور2ارب7کروڑ، تحقیق وترقی26کروڑ46لاکھ25ہزار، بحالیات و بندوبست10کروڑ44لاکھ55ہزار،سوشل ویلفیئر وویمن ڈویلپمنٹ15کروڑ،سپورٹس،یوتھ اینڈ کلچر20کروڑ،سیاحت 20کروڑاور کمیونیکیشن اینڈ ورکس9ارب90کروڑ10لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

آئندہ مالی سال میں متوقع سالانہ آمدن کا تخمینہ بتاتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ کل وصولیوں کا تخمینہ97ارب روپے لگایا گیا جن میں ٹیکس ریونیو سے 25ارب60کروڑ،لاء اینڈ آرڈر8کروڑ50لاکھ،ریکارڈ اراضی و بندوبست7کروڑ50لاکھ، اشٹام پیپرز30کروڑ، ٹرانسپورٹ اتھارٹی4کروڑ،بجلی15ارب10کروڑ، متفرق72کروڑ، انڈسٹریز4کروڑ،پولیس21کروڑ،جیل خانہ جات تین لاکھ50ہزار، کمیونیکیشن اینڈ ورکس35کروڑ70لاکھ، تعلیم 16کروڑ،صحت14کروڑ56لاکھ50ہزار،مذہبی امور4کروڑ،خوراک25کروڑ10لاکھ، زراعت1کروڑ،جنگلی حیات و فشریز3کروڑ،امور حیوانات3کروڑ50لاکھ، جنگلات40کروڑ،لیبر70لاکھ، سری کلچر(ابریشم) 40لاکھ، گورنمنٹ پرنٹنگ پریس4کروڑ،آرمڈ سروسز بورڈایک کروڑ50لاکھ، گرانٹس54ارب85کروڑ، واٹریوزج چارجز60کروڑ، منرلز(معدنیات)1کروڑ،سیاحت2کروڑ50لاکھ،قرضہ ایڈوانسز45کروڑ،ایڈجسٹمنٹ آف اوورڈرافٹ2ارب60کروڑ(کل97ارب) شامل ہیں۔

وزیر خزانہ نے جاریہ اخراجات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جنرل ایڈمنسٹریشن پر4ارب54کروڑ69لاکھ،بورڈ آف ریونیو(محکمہ مال)96کروڑ23لاکھ، شٹام پیپرز2کروڑ14لاکھ،محکمہ بحالیات و ریکارڈ3کروڑ24لاکھ،بحالی و ریلیف1ارب4کروڑ94لاکھ،پنشن20ارب،تعلقات عامہ 16کروڑ27لاکھ، عدلیہ1ارب71کروڑ85لاکھ، محکمہ پولیس5ارب99کروڑ38لاکھ، جیل خانہ جات19کروڑ41لاکھ، شہری دفاع 20کروڑ3لاکھ،آرمڈسروسز بورڈ7کروڑ65لاکھ، کمیونیکشن اینڈ ورکس3ارب66کروڑ2لاکھ، تعلیم27ارب16کروڑ90لاکھ، صحت9ارب69کروڑ8لاکھ،سپورٹس یوتھ اینڈ کلچر8کروڑ32لاکھ، مذہبی امور17کروڑ79لاکھ،سماجی بہبودو ترقی نسواں 44کروڑ45لاکھ،زراعت76کروڑ48لاکھ، امور حیوانات69کروڑ77لاکھ، خوراک26کروڑ59لاکھ،ریاستی تجارت1ارب60کروڑ، جنگلات1ارب11کروڑ74لاکھ، کوآپریٹیو4کرورڑ38لاکھ، بجلی8ارب59کروڑ48لاکھ، لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی 59کروڑ92لاکھ، صنعت، محنت و معدنی ترقی15کروڑ19لاکھ، پرنٹنگ پریس6کروڑ75لاکھ،ابریشم 9کروڑ57لاکھ، سیاحت،جنگلی حیات و فشریز17کروڑ37لاکھ، متفرق(گرسانٹس)5ارب38کروڑ37لاکھ روپے خرچ ہونگے۔

کل 95ارب74کروڑ روپے،کیپیٹلExpenditure 1ارب 26کروڑ ہیں اور ان اخراجات کا مجموعہ97ارب روپے بنتا ہے۔