business losses in jk in 3 months 95

مقبوضہ کشمیر ؛ تین ماہ میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے اپنی ملازمت کھوئی

سرینگر (کشمیریت اردو)5 اگست سے ،جب بھارت کی حکومت نے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا ،کشمیر میں نجی شعبے میں کام کرنے والے ایک لاکھ سے زیادہ افراد اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (کے سی سی آئی)کے ابتدائی جائزے کے مطابق 5 اگست کے بعد سے عائد پابندیوں ، شٹر ڈاؤن اور مواصلات کی معطلی کی وجہ سے ، سیاحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ کے سی سی آئی کے صدر ، شیخ عاشق نے بتایاکہ ہمارے تخمینے کے مطابق پچھلے تین ماہ کے دوران ملازمتوں میں ایک لاکھ سے زیادہ کی کمی ہوئی ہے ۔

سیاحت کا شعبہ جس سے تقریباًپانچ لاکھ افراد کاروزگار وابستہ ہے ، سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ۔ سیاحت کے شعبے میں اب تک ملازمتوں میں پچاس ہزارکے قریب کمی کی اطلاع ملی ہے۔ اگر صورتحال میں بہتری نہیں آئی تو تعداد بڑھ سکتی ہے۔ وادی میں1100 ہوٹلوں میں سے تقریبا 80 فیصد تین ماہ سے بند ہیں۔ انہوں نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ یہاں تقریباً 300 ریسٹورانٹ، 900 ہاؤس بوٹ ، 600 شکاراکشتیاںاور 5000 ٹیکسیاں ہیں ، جن کا براہ راست انحصار سیاحت پر ہے۔

کے سی سی آئی کے صدر نے مزید بتایاکہ سیاحت کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے دیگر نجی دفاتر بند کر دیے گئے ہیں۔ مختلف کورئیر سروسز میں کام کرنے والے تقریباً 3000 لڑکے بیکار بیٹھے ہیں ، انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کی وجہ سے ، تمام ای کامرس کمپنیوں نے وادی میں سروسز کی فراہمی بند کردی ہے۔

نجی اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ کو خدشہ ہے کہ اگر صورتحال ایسے ہی رہی تو انہیں ملازمت سے برطرف کردیا جائے گا۔ نجی اسکول کی ایک استاد شازیہ نے بتایاکہ انہیں پچھلے دو ماہ سے تنخواہیں نہیں دی گئیں۔ جب نیوز ایجنسی نے اسکول کی انتظامیہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے شکوہ کیا کہ طلبا پچھلے تین ماہ سے واجبات جمع نہیں کرواسکے ہیں ، جس وجہ سے وہ اساتذہ کو تنخواہیں دینے سے قاصر ہیں۔

5 اگست کے بعد سے ، کاروباری ادارے ، پبلک ٹرانسپورٹ ،تعلیمی ادارے اور دکانیں اپنے “اوپن اینڈ شٹ شیڈول” کے تحت بند ہیں۔ بیشتر دکانیں اور کاروباری ادارے صبح 7 بجے سے صبح 10 بجے تک کھلے رہتے ہیں ، لیکن دن میں بند رہتے ہیں ۔ساؤتھ ایشین وائر کی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ2011 کی مردم شماری کے مطابق ، وادی کشمیر کی آبادی 70 لاکھ افراد پر مشتمل ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وادی میں ثانوی اور تیسرے درجے کے معاشی شعبوں سے تقریباً20 لاکھ افراد اپنا روزگار کماتے ہیں۔

بشکریہ ساوتھ ایشیئن وائر