323

بھارتی فوج نے سری نگر میں نقل و حرکت پر دوبارہ پابندی عائدکردی، جھڑپوں میں 24 افراد زخمی ہوگئے

سرینگر: بھارتی فوج نے سری نگر میں نقل و حرکت پر دوبارہ پابندی عائدکردی، جھڑپوں میں 24 افراد زخمی ہوگئے

بھارتی حکام نے پولیس اور علاقہ مکینوں کے درمیان جھڑپوں میں 24 افراد کے زخمی ہونے کے بعد سری نگر کے اکثر علاقوں میں نقل و حرکت پر دوبارہ پابندی عائد کردی۔

برطانوی خبررساں ادارے ’ رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق 2 سینئر عہدیداران اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ علاقہ مکینوں اور پولیس کے درمیان رات گئے تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے باعث دوبارہ پابندی عائد کی گئی۔

گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کے کچھ مقامات میںکرفیو میں نرمی کے بعد سے 24 گھنٹے سے بھارت کی جانب سے 5 اگست کو خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

ریاستی حکومت گزشتہ 2 ہفتوں سے کرفیو کے نفاذ سے انکار کرتی رہی ہے لیکن چند گھنٹے قبل شہر کے کئی مقامات پر سڑک بند کرکے لوگوں کو واپس بھیج دیا گیا’

بعض مقامات پر سیکیورٹی فورسز نے علاقہ مکینوں کو بتایا کہ کرفیو نافذ ہے۔

بھارتی حکومت کے 2 سینئر عہدیداران نے بتایا کہ گزشتہ شب پرُتشدد جھڑپوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والے 2 درجن سے افراد ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں جو پیلیٹ گنز کا شکار بھی ہوئے۔

سری نگر میں مقبوضہ جموں و کشمیر حکومت اور نئی دہلی میں وفاقی حکومت کے نمائندگان سے حالیہ جھڑپوں اور زخمیوں کی تعداد سے متعلق فوری طور پر رابطہ نہیں ہوسکا۔

سرکاری ذرائع میں سے ایک نے بتایا کہ سری نگر کے 2 درجن سے زائد مقامات پر مظاہرین نے سیکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند روز سے مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کی شدت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے.

عینی شاہدین اور حکام نے بتایا کہ گزشتہ شب سری نگر کے علاقوں ریناواری، نوہٹہ اور گوجوارہ میں زیادہ جھڑپیں ہوئی جہاں بھارتی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، چلی گرنیڈز اور پیلیٹ گنز برسائیں۔

چلی گرنیڈز میں سرخ مرچ شامل ہوتی ہے جن کے پھٹنے پر آنکھوں اور جلد پر شدید جلن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک تیز بدبو بھی آتی ہے۔.