179

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول موجودہونے کا دعویٰ کردیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجکٹ رول موجودہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے بھارتی آئین کے شق نمبر 370کو گلگت بلتستان کے معاملے سے مختلف قرار دیا اور بھارت پرگلگت بلتستان میں مداخلت کرنے کا الزام عائد کرتے چند سال پہلے گرفتار ہونے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادمداخلت کو سب سے بڑا ثبوت بھی قرار دیا ۔

جمعہ کے روز ہفتہ وار نیوز بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان نے کہا ہے کہ بھارت گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو بنیاد بناتے ہوئے وہاں ترقیاتی کاموں کو یرغمال بنانا چاہتا ہے جسے ترجمان نے ناقابل قبول قرار دیا ۔ انہوں نے مزید کہا ہے بھارت کی مذکرات سے مسلسل انکار کی وجہ سے مسئلہ کشمیر پر کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔ واضح رہے کہ بھارت کے آئین کا شق 370بھارت کے زیر انتظام کشمیر یوں اپنی مخصوص شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے داخلی خود مختاری دیتا ہے اور کسی غیر مقامی شخص کو زمین خریدنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے کشمیریون اقلیت میں بدلنے سے محفوظ رکھتا ہے ۔تاہم اس قانون کو برطانوی خبررسان ادارے بی بی سی کے مطابق بی جے پی کے بعض رہنماؤ ں نے مبینہ طور پر تبدیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ مزید بتاتی ہے اس مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر محبوبہ مفتی بی جے پی اس قسم کے اقدام اٹھانے سے خبردار کیا ہے۔اور اسی طرح آزاد کشمیر میں بھی غیر کشمیری کو وہاں زمین خریدنے پر AJK Alienation of Land Act, 1995 Bik (1898 AD)کے قانون کے تحت پابندی ہے جس کا اعتراف سابق وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان میاں منظور احمد ووٹو ن 21جنوری2013 کوقومی اسمبلی میں کرچکے ہیں جسے انگریزی اخبار دی نیشن نے رپورٹ کی تھی جو اب تک انٹرنیٹ پر دستیاب ہے یہ قانون آزادکشمیر میں غیر مقامی افرادکے لئے منقولہ و غیر منقولہ جائدادوں کی خرید و فروخت کے حوا لے سے آزاد کشمیر کے آئین کے شق نمبر 4ہے۔تاہم گلگت بلتستان میں کسی بھی غیر مقامی پر زمین خریدنے کے لئے کوئی پابندی نہیں ہے ۔ اس لئے گلگت بلتستان کے عوام کا ہر وفاقی حکومت سے یہ سوال رہتا ہے اگر گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے تو جو قوانین بھارت کے زیر انتظام کشمیر اور آزاد کشمیر میں نافذ ہیں وہ گلگت بلتستان میں کیوں نہیں ہے اور سٹیٹ سبجیکٹ رول کا شمار انہیں قوانین میں سے ایک ہے۔ تاہم آج یعنی جمعہ 5اپریل کی بریفنگ میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے گلگت بلتستان یہ قانون نافذ ہونے کا دعویٰ کیا ۔

ایک اور سوال کے جواب ترجمان نے بھارت پر ملک کے دیگر علاقوں میں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس حوالے سے اپنے دفاع سے غافل نہیں ہے۔افغانستان کے لئے امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خیل زاد کی طرف مبینہ طور پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لئے افغانستان کے بارئے میں پالیسی بدلنے کی شرط سے لا علمی ظاہر کی۔تاہم ساتھ میں ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان ہر فیصلہ اپنے قومی مفاد کے مطابق کرئے گا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی رہائی کے لئے پوچھے گئے سوال پر ترجمان نے کہا کہ اس وقت 347پاکستانی بھارت کی جیلوں میں قید ہیں جن میں سے 247سؤل اور 98ماہر گیر ہیں اور اسی طرح پاکستان 537کل بھارتی قید ہیں جن میں سے 483ماہی گیر اور 54سوئلین ہیں ۔انہون نے قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 8،15اور 22اپریل کو سو سو جبکہ 29اپریل کو 60قیدیوں کو رہا کر کے بھارت کے حوالے کیا جائے گا ان میں پانچ سؤل قیدی بھی شامل ہے جو آخری مرحلے یعنی 29اپریل رہا ہونے والوں میں شامل ہیں باقی سارے ماہرگیر ہیں۔ انہوں نے بھارت سے بھی مثبت رویہ اختیار کرتے ہوئے سزا کی مدت پوری کرنے والے پاکستانیوں کی رہائی کی امید کا اظہار کیا ۔ یاد رہے گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزی 1974 سے ہوریا ہے اور گلگت بلتستان کے عوام کو دیرینہ مطالبہ ہی یہی ہے کہ گلگت بلتستان کو اگر صوبہ نہیں بنا سکتے ہیں تو متنازعہ بنیاد پر سٹیٹ سبجیکٹ کی بحالی کو یقینی بنائیں ۔اس سلسلے گزشتہ سال کے آخر میں اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کپٹن شفیع نے اسمبلی میں سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزی روکنے کیلئے بل لانے کی کوشش کی تھی جسے مسلم لیگ ن اور ایم ڈبیلو ایم کے ممبران اسمبلی نے غداری سے تشبیہ دیکر مسترد کیا تھا۔

جمعہ کے روز ہفتہ وار نیوز بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان نے کہا ہے کہ بھارت گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو بنیاد بناتے ہوئے وہاں ترقیاتی کاموں کو یرغمال بنانا چاہتا ہے جسے ترجمان نے ناقابل قبول قرار دیا ۔ انہوں نے مزید کہا ہے بھارت کی مذکرات سے مسلسل انکار کی وجہ سے مسئلہ کشمیر پر کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔ واضح رہے کہ بھارت کے آئین کا شق 370بھارت کے زیر انتظام کشمیر یوں اپنی مخصوص شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے داخلی خود مختاری دیتا ہے اور کسی غیر مقامی شخص کو زمین خریدنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے کشمیریون اقلیت میں بدلنے سے محفوظ رکھتا ہے ۔تاہم اس قانون کو برطانوی خبررسان ادارے بی بی سی کے مطابق بی جے پی کے بعض رہنماؤ ں نے مبینہ طور پر تبدیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔بی بی سی کی رپورٹ مزید بتاتی ہے اس مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر محبوبہ مفتی بی جے پی اس قسم کے اقدام اٹھانے سے خبردار کیا ہے۔اور اسی طرح آزاد کشمیر میں بھی غیر کشمیری کو وہاں زمین خریدنے پر AJK Alienation of Land Act, 1995 Bik (1898 AD)کے قانون کے تحت پابندی ہے جس کا اعتراف سابق وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان میاں منظور احمد ووٹو ن 21جنوری2013 کوقومی اسمبلی میں کرچکے ہیں جسے انگریزی اخبار دی نیشن نے رپورٹ کی تھی جو اب تک انٹرنیٹ پر دستیاب ہے یہ قانون آزادکشمیر میں غیر مقامی افرادکے لئے منقولہ و غیر منقولہ جائدادوں کی خرید و فروخت کے حوا لے سے آزاد کشمیر کے آئین کے شق نمبر 4ہے۔تاہم گلگت بلتستان میں کسی بھی غیر مقامی پر زمین خریدنے کے لئے کوئی پابندی نہیں ہے ۔ اس لئے گلگت بلتستان کے عوام کا ہر وفاقی حکومت سے یہ سوال رہتا ہے اگر گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے تو جو قوانین بھارت کے زیر انتظام کشمیر اور آزاد کشمیر میں نافذ ہیں وہ گلگت بلتستان میں کیوں نہیں ہے اور سٹیٹ سبجیکٹ رول کا شمار انہیں قوانین میں سے ایک ہے۔ تاہم آج یعنی جمعہ 5اپریل کی بریفنگ میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے گلگت بلتستان یہ قانون نافذ ہونے کا دعویٰ کیا ۔

ایک اور سوال کے جواب ترجمان نے بھارت پر ملک کے دیگر علاقوں میں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس حوالے سے اپنے دفاع سے غافل نہیں ہے۔افغانستان کے لئے امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خیل زاد کی طرف مبینہ طور پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لئے افغانستان کے بارئے میں پالیسی بدلنے کی شرط سے لا علمی ظاہر کی۔تاہم ساتھ میں ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان ہر فیصلہ اپنے قومی مفاد کے مطابق کرئے گا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی رہائی کے لئے پوچھے گئے سوال پر ترجمان نے کہا کہ اس وقت 347پاکستانی بھارت کی جیلوں میں قید ہیں جن میں سے 247سؤل اور 98ماہر گیر ہیں اور اسی طرح پاکستان 537کل بھارتی قید ہیں جن میں سے 483ماہی گیر اور 54سوئلین ہیں ۔انہون نے قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 8،15اور 22اپریل کو سو سو جبکہ 29اپریل کو 60قیدیوں کو رہا کر کے بھارت کے حوالے کیا جائے گا ان میں پانچ سؤل قیدی بھی شامل ہے جو آخری مرحلے یعنی 29اپریل رہا ہونے والوں میں شامل ہیں باقی سارے ماہرگیر ہیں۔ انہوں نے بھارت سے بھی مثبت رویہ اختیار کرتے ہوئے سزا کی مدت پوری کرنے والے پاکستانیوں کی رہائی کی امید کا اظہار کیا ۔ یاد رہے گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزی 1974 سے ہوریا ہے اور گلگت بلتستان کے عوام کو دیرینہ مطالبہ ہی یہی ہے کہ گلگت بلتستان کو اگر صوبہ نہیں بنا سکتے ہیں تو متنازعہ بنیاد پر سٹیٹ سبجیکٹ کی بحالی کو یقینی بنائیں ۔اس سلسلے گزشتہ سال کے آخر میں اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کپٹن شفیع نے اسمبلی میں سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزی روکنے کیلئے بل لانے کی کوشش کی تھی جسے مسلم لیگ ن اور ایم ڈبیلو ایم کے ممبران اسمبلی نے غداری سے تشبیہ دیکر مسترد کیا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول موجودہونے کا دعویٰ کردیا۔” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں