185

لبریشن فرنٹ پر بھارتی پابندی

ملکِ جموں کشمیر جنوب مشرقی ایشیا میںایک متنازعہ مسئلہ ہے۔پاکستان،بھارت اور کشمیری اس مسئلے کے فریق سمجھے جاتے ہیں۔اس کی ابتدا 1947کے اکتوبر میں ہوئی جب پاکستان نے کشمیر پر فوجی چڑھائی کر کے قبضہ کرنا شروع کیا۔کشمیری اس کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے تو انہوں نے بھارت سے امداد کی درخواست کی جس نے پس و پیش کے بعد اس شرط پر قبول کی کہ غیر ملکی قوتوں کے انخلا کے بعد رائے شماری کے ذریعے مملکت جموں کشمیر کے مستقبل کا تعین کیا جائے گا۔بعد ازاں بھارت نے اقوام متحدہ کو بھی مسئلے کا فریق بنا لیا۔اس نے بھی انڈیا اور پاکستان دونوں سے یہی فارمولہ منظور کروایا۔جب اس اصول پر علمدرآمد کا وقت آیا تو کبھی پاکستان اور کبھی انڈیا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے عدم تعاون کارویّہ اپنا تے ہوئے یہاں رائے شماری نہیں ہونے دی ۔ان حالات میں اقوام متحدہ نے یہ کہہ کر اپنا کام ختم کر دیا کہ دونوں ممالک مسئلے کو باہمی بات چیت سے حل کریں لیکن دونوں ممالک نے اس بارے میں سوائے کشمیریوں کو مارنے کے کچھ نہیں کیا۔تب سے آج تک اس مسئلے کی وجہ سے کشمیری چار حصوں میں جبراً منقسم ہیں، لاکھوںبے گھر،قتل اور معذور ہوئے جب کہ دیگر بے پناہ معاشی،معاشرتی اور ماحولیاتی نقصانات بھی ہوتے آرہے ہیں۔

پاک بھارت کے غیر ذمہ دارانہ رویے سے مایوس ہو کر کشمیریوں نے اپنے ملک کی آزادی کے لیے 1966میں پاکستانی دارلحکومت کراچی سے باقاعدہ سیاسی تحریک شروع کی جس کے تسلسل میں مقبول بٹ کی سربراہی میں بھارت کے خلاف ایک مسلح جدوجہد چلائی گئی ۔1972میں یہ تحریک ناکامی کا شکار ہو گئی۔1978میں امان اللہ خان نے اپنے ساتھیوں سے مل کر برطانیہ میں موجودہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ بطور ایک سیاسی تنظیم کے بنائی جسے عُرفِ عام میںJKLFیا لبریشن فرنٹ کہا جاتا ہے۔جموں کشمیر کی آزادی اور یہاں یورپ کی طرز پر ایک خوشحال معاشرے کا قیام اس پارٹی کا بنیادی نظریہ ہے۔وہ ملک کی آزادی کے لیے کسی بھی قسم کے طریقہ ءکار کو اپنا سکتی ہے جس میں سیاسی،سفارتی اور مسلح جدو جہد شامل ہیں۔مسئلہ کشمیر کے حل کی خاطرلبریشن فرنٹ انڈیا اور پاکستان دونوں سے کشمیر چھوڑنے کا مطالبہ کرتی ہے۔وہ دونوں میں سے کسی کی بھی آلہ کار نہیں ہے۔اس کے خیال میں مسئلہ کشمیر کا بہترین حل ریاست کی سلب شدہ آزادی کی بحالی ہے۔اس فکر کے ساتھ اس نے دس سال تک مقامی اور بین الاقوامی سطح پرسیاسی کام کیا۔پارٹی نے اقوام متحدہ تک رسائی حاصل کر لی تھی ۔یوں کشمیری نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد اس میں شامل ہوئی جس کی طاقت استعمال کرتے ہوئے فرنٹ نے 1988میں یٰسین ملک ہی کی سربراہی میں اس نے بھارت کے خلاف اعلانیہ طور پر اپنے ملک کی آزادی کے لیے ایک گوریلہ جنگ شروع کی۔

کشمیریوں نے دو ہی سالوں میں بھارتی فوج کو بے بس کر کے رکھ دیا تھا۔اس سے پہلے کہ بھارت مذاکرات کی میز پر کشمیریوں کے ساتھ بیٹھ پاتا پاکستان نے فرنٹ کی جنگ پر قبضہ کر کے اسے مذہبی جہاد بنا دیا۔فرنٹ آئینی طور پرایک سیکولر سیاسی جماعت ہے اس وجہ سے بائیں بازو سے رغبت رکھنے والے زیادہ ترکشمیری اس کے ساتھ ہیں۔ اس نے بھارت کے خلاف کشمیری قومیت کے نام پر جنگ شروع کی تھی اس لیے دنیا کے آزادی پسند لوگ اس جنگ کے حامی تھے لیکن فرنٹ کے ہاتھوں سے نکل کر جہاد بن جانے کے بعددنیا اس تحریک کی مخالف ہو گئی۔کشمیر کی اس جنگ آزادی کے جہاد بننے کے دوران مجاہدین نے غیر مسلموں کو قتل کیا،سینما گھروں میں اور شرابخانوں میں بم دھماکے کیے اور بے پردہ گھومنے والی خواتین پر تشدد کیا۔اُن دنوں ان کارروائیوں کے الزامات کی زد میں فرنٹ اور یٰسین ملک بھی آئے لیکن آنے والے وقت نے ثابت کیا کہ فرنٹ ایک غیر فرقہ پرست تنظیم ہے،اس نے غیر مسلم کشمیریوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ آزادی کی جنگ کے جہاد بن جانے پر فرنٹ نے 1994میںاپنا مسلح شعبہ معطل کر دیا جو آج تک معطل ہے،اس کے تربیتی کیمپ ختم کر دیے گئے اور پارٹی کے اجتماعات میں اسلحے کی نمائش مکمل طور پر بند کر دی گئی۔ 94کے بعد سے اب تک پارٹی نے اعلانیہ طور پریٰسین ملک کی قیادت میں ایک پُرامن سیاسی جدوجہد کا طریقہ کار اپنا رکھا ہے۔اس کا کوئی خفیہ گروپ یا ایجنڈا نہیں ہے نہ ہی یہ کسی پراکسی یا جہادی گروپ کی حامی و مدد گار ہے۔سوشل میڈیا میں اس پارٹی کے اراکین پاکستانی جہادیوں کو ہمیشہ ہدفِ تنقید بناتے رہے ہیں۔فرنٹ کا جہادیوں کے ساتھ صرف اتنا تعلق ہے کہ جب کوئی شہید ہوتا ہے تو اس کے جنازے میں شرکت کر لی جاتی ہے۔جنازہ چونکہ مسلمانوں کا ایک مذہبی فریضہ ہوتا ہے اس لیے انہیں دشمن مسلمان کا جنازہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے،اس عمل کا سیاست سے تعلق نہیں ہے۔پارٹی کے تمام اثاثے عیاں ہیں اور اس کی آمدن خرچ کا تحریری حساب کتاب موجود ہے۔موجودہ دور میںیہ پارٹی کشمیر کے آزادی پسندوں کی واحد مُلک گیر جماعت ہے جس کے اراکین کشمیر کے تینوں مقبوضہ حصوں سمیت ساری دنیا میں موجود ،منظم اور سرگرم ہیں۔فرنٹ دنیابھر میں کشمیریوں کی ایک نمائندہ پارٹی سمجھی جاتی ہے اور اس کی بات کو مقامی اور عالمی سطح پراہمیت دی جاتی ہے۔بھارتی زیر انتظام کشمیر میں یٰسین ملک اور آزاد کشمیر و گلگت میں ڈاکٹر توقیر گیلانی اس کے سربراہ ہیں اور دونوں بلا شک و شبہہ اوراعلانیہ سیکولرنظریات کے حامل ہیں۔اس کے علاوہ فرنٹ کی ساری اعلیٰ قیادت سیکولر لوگوں پر مشتمل ہے ۔پارٹی میں نام کو بھی کوئی مذہبی شدت پسند لیڈر نہیں ہے۔

فروری کے پلوامہ حملے کے بعد پاکستانی حکومت نے بیرونی دنیا کے دباﺅ پراپنے جہادی گروپوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔اس متاثر ہو کر بھارت نے پہلے اپنے ہاں جماعت اسلامی پر پابندی لگا دی۔ جماعت اپنے گروپ حزب المجاہدین کی شکل میں جہاد میں شامل ہے اس لیے کشمیریوں نے اس کی بندش پر کوئی خاص احتجاج نہیں کیا۔کچھ روز بعد بھارتی ھکومت نے جموں کشمیر لبریش فرنٹ کو بھی غیر قانونی قرار دے کراس پر بھی پابندی عائد کر دی ہے ۔حکومت کا کہنا ہے کہ لبریشن فرنٹ دیگر جہادی پارٹیوں کی طرح ایک دہشت گرد پارٹی ہے جو کشمیر کو بھارت سے آزاد کروا کر پاکستان کے ساتھ شامل کرنا چاہتی ہے۔ بھارتی حکومت کے اقدام سے لبریشن فرنٹ کے اراکین سمیت ساری کشمیری قوم ورطہ حیرت میں مبتلا ہو گئی ہے ۔انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ برِ صغیر کے اربوں انسانوں کے مفادات اور تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک جمہوری،سیکولر اور امن پسند تنظیم پر پابندی عائد کر کے بھارت کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ اگر تمام جمہوری ،اخلاقی اور بین الاقوامی مسلّمہ قوانین کے تحت بھی کشمیری اپنے حق اوراپنے مسئلے کے حل کا مطالبہ نہیں کر سکتے تو وہ کیا کریں گے ؟کچھ کشمیری دانشوروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے جہادی گروپوں پر پابندی سے کشمیر میں مسلح تصادم ختم ہو جائے گا اس لیے وہ بھارتی عناصر جو اپنے مفادات کے لیے مسئلہ کشمیر کے حل کے خلاف ہیں،چاہتے ہیں کہ مجاہدین کی جگہ لبریشن فرنٹ مسلح جنگ شروع کرد ے تا کہ ان کا کاروبار جاری رہ سکے۔ لوگوں کو اشتعال دلانے کے لیے فرنٹ کے موجودہ چیئرمین یٰسین ملک سمیت ساری اعلیٰ قیادت جیلوں میں بند کر دی گئی ہے جب کہ ثانوی قیادت اور متحرک کارکنوں کو گرفتار کرنے کے ساتھ ساتھ تنظیم کے دفاتر سیل کیے جارہے ہیں۔

اِس صورتِ حال سے لبریشن فرنٹ خاصی بے چینی اور تشویش کا شکار ہے اور اس کے کارکن مظاہروں کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں۔فرنٹ کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ وہ دنیا بھر میں بھارت کے اس غیرقانونی اقدام کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ذرائع پر بھی غور کر رہے ہیں جن میں اقوام متحدہ تک رسائی اور اس فیصلے کے خلاف بھارتی عدالتوں میںقانونی چارہ جوئی بھی شامل ہیں۔
یوں بھی کشمیری بھارت سے ویسے بھی کسی خیر کی توقع کم ہی رکھتے ہیں۔اتنا بڑا ملک ہونے اور خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سمجھنے والا بھارت اس قسم کے ہتھکنڈوں کی مدد سے کشمیریوں کے جائز اور مبنی بر حق مطالبے کونظر انداز نہیں کر سکتا۔بھارت کوایسے غیر سنجیدہ فیصلوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ کبوتر کے آنکھیں بند کر لینے سے بلی ٹل نہیں جاتی۔آزادی پسند کشمیری پارٹیوں پر غیر قانونی طور پر پابندی لگا دینے سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو جائے گا۔اسے پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ مل کر باہمی مشاورت سے اس قضیے کا کوئی نہ کوئی آبرومندانہ حل نکالنا ہی ہو گا۔بھارت کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اُسے کشمیریوں نے کسی خاص مقصد کے لیے کشمیر آنے کی دعوت دی تھی جسے اس نے اسے مکمل فراموش کرکھا ہے اور وہ کشمیریوں کو کوئی راحت پہنچانے کی بجائے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کرنے میں مصروف ہے۔اسے علم ہونا چاہیے کہ جب تک کشمیر کے مسئلے کو حل نہیں کیا جائے گا تب تک فسادات کا دروازہ کھلا رہے گااور کوئی بھی پڑوسی قوت ان حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پلوامہ جیسے حالات پیدا کر سکتی ہے ۔اس ضمن سے سب سے بڑی ذمہ داری بھارت کے جمہوریت پسند عوام پر عائد ہوتی ہے۔انہیں چاہیے کہ وہ اپنی حکومت کو امن کے لیے کام کرنے والے کشمیریوں کو پریشان کرنے سے روکنے کے لیے دباﺅ ڈالیں۔بھارت کا یہ اقدام نہ صرف انسانی ھقوق کی بدتریں خلاف ورزی ہے بلکہ اقوام متحدہ کے ذریعے طے شدہ عالمی ضابطوںکی بھی کھلی نفی ہے۔ جب میدان امن پسندقوتوں سے خالی ہو گا تو لا محامہ شدت اور دہشت پسند بیرونی اور اندرونی طاقتیں ماحول پر مسلط ہو جائیں گی۔لہذابھارتی حکومت پر لازم ہے کہ وہ رہبری کرتے ہوئے امن کے نام پر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر لگائی گئی پابندی کا فیصلہ واپس لے اور قیام امن کے لیے کشمیریوں کی کوششوں میں معاونت کرے۔یہ اس کا انصاف،انسانیت اور جمہوریت پر احسانِ عظیم ہو گا۔

اِس صورتِ حال سے لبریشن فرنٹ خاصی بے چینی اور تشویش کا شکار ہے اور اس کے کارکن مظاہروں کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں۔فرنٹ کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ وہ دنیا بھر میں بھارت کے اس غیرقانونی اقدام کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ذرائع پر بھی غور کر رہے ہیں جن میں اقوام متحدہ تک رسائی اور اس فیصلے کے خلاف بھارتی عدالتوں میںقانونی چارہ جوئی بھی شامل ہیں۔
یوں بھی کشمیری بھارت سے ویسے بھی کسی خیر کی توقع کم ہی رکھتے ہیں۔اتنا بڑا ملک ہونے اور خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سمجھنے والا بھارت اس قسم کے ہتھکنڈوں کی مدد سے کشمیریوں کے جائز اور مبنی بر حق مطالبے کونظر انداز نہیں کر سکتا۔بھارت کوایسے غیر سنجیدہ فیصلوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ کبوتر کے آنکھیں بند کر لینے سے بلی ٹل نہیں جاتی۔آزادی پسند کشمیری پارٹیوں پر غیر قانونی طور پر پابندی لگا دینے سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو جائے گا۔اسے پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ مل کر باہمی مشاورت سے اس قضیے کا کوئی نہ کوئی آبرومندانہ حل نکالنا ہی ہو گا۔بھارت کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اُسے کشمیریوں نے کسی خاص مقصد کے لیے کشمیر آنے کی دعوت دی تھی جسے اس نے اسے مکمل فراموش کرکھا ہے اور وہ کشمیریوں کو کوئی راحت پہنچانے کی بجائے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کرنے میں مصروف ہے۔اسے علم ہونا چاہیے کہ جب تک کشمیر کے مسئلے کو حل نہیں کیا جائے گا تب تک فسادات کا دروازہ کھلا رہے گااور کوئی بھی پڑوسی قوت ان حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پلوامہ جیسے حالات پیدا کر سکتی ہے ۔اس ضمن سے سب سے بڑی ذمہ داری بھارت کے جمہوریت پسند عوام پر عائد ہوتی ہے۔انہیں چاہیے کہ وہ اپنی حکومت کو امن کے لیے کام کرنے والے کشمیریوں کو پریشان کرنے سے روکنے کے لیے دباﺅ ڈالیں۔بھارت کا یہ اقدام نہ صرف انسانی ھقوق کی بدتریں خلاف ورزی ہے بلکہ اقوام متحدہ کے ذریعے طے شدہ عالمی ضابطوںکی بھی کھلی نفی ہے۔ جب میدان امن پسندقوتوں سے خالی ہو گا تو لا محامہ شدت اور دہشت پسند بیرونی اور اندرونی طاقتیں ماحول پر مسلط ہو جائیں گی۔لہذابھارتی حکومت پر لازم ہے کہ وہ رہبری کرتے ہوئے امن کے نام پر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر لگائی گئی پابندی کا فیصلہ واپس لے اور قیام امن کے لیے کشمیریوں کی کوششوں میں معاونت کرے۔یہ اس کا انصاف،انسانیت اور جمہوریت پر احسانِ عظیم ہو گا۔

فروری کے پلوامہ حملے کے بعد پاکستانی حکومت نے بیرونی دنیا کے دباﺅ پراپنے جہادی گروپوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔اس متاثر ہو کر بھارت نے پہلے اپنے ہاں جماعت اسلامی پر پابندی لگا دی۔ جماعت اپنے گروپ حزب المجاہدین کی شکل میں جہاد میں شامل ہے اس لیے کشمیریوں نے اس کی بندش پر کوئی خاص احتجاج نہیں کیا۔کچھ روز بعد بھارتی ھکومت نے جموں کشمیر لبریش فرنٹ کو بھی غیر قانونی قرار دے کراس پر بھی پابندی عائد کر دی ہے ۔حکومت کا کہنا ہے کہ لبریشن فرنٹ دیگر جہادی پارٹیوں کی طرح ایک دہشت گرد پارٹی ہے جو کشمیر کو بھارت سے آزاد کروا کر پاکستان کے ساتھ شامل کرنا چاہتی ہے۔ بھارتی حکومت کے اقدام سے لبریشن فرنٹ کے اراکین سمیت ساری کشمیری قوم ورطہ حیرت میں مبتلا ہو گئی ہے ۔انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ برِ صغیر کے اربوں انسانوں کے مفادات اور تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک جمہوری،سیکولر اور امن پسند تنظیم پر پابندی عائد کر کے بھارت کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ اگر تمام جمہوری ،اخلاقی اور بین الاقوامی مسلّمہ قوانین کے تحت بھی کشمیری اپنے حق اوراپنے مسئلے کے حل کا مطالبہ نہیں کر سکتے تو وہ کیا کریں گے ؟کچھ کشمیری دانشوروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے جہادی گروپوں پر پابندی سے کشمیر میں مسلح تصادم ختم ہو جائے گا اس لیے وہ بھارتی عناصر جو اپنے مفادات کے لیے مسئلہ کشمیر کے حل کے خلاف ہیں،چاہتے ہیں کہ مجاہدین کی جگہ لبریشن فرنٹ مسلح جنگ شروع کرد ے تا کہ ان کا کاروبار جاری رہ سکے۔ لوگوں کو اشتعال دلانے کے لیے فرنٹ کے موجودہ چیئرمین یٰسین ملک سمیت ساری اعلیٰ قیادت جیلوں میں بند کر دی گئی ہے جب کہ ثانوی قیادت اور متحرک کارکنوں کو گرفتار کرنے کے ساتھ ساتھ تنظیم کے دفاتر سیل کیے جارہے ہیں۔

اِس صورتِ حال سے لبریشن فرنٹ خاصی بے چینی اور تشویش کا شکار ہے اور اس کے کارکن مظاہروں کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں۔فرنٹ کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ وہ دنیا بھر میں بھارت کے اس غیرقانونی اقدام کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ذرائع پر بھی غور کر رہے ہیں جن میں اقوام متحدہ تک رسائی اور اس فیصلے کے خلاف بھارتی عدالتوں میںقانونی چارہ جوئی بھی شامل ہیں۔
یوں بھی کشمیری بھارت سے ویسے بھی کسی خیر کی توقع کم ہی رکھتے ہیں۔اتنا بڑا ملک ہونے اور خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سمجھنے والا بھارت اس قسم کے ہتھکنڈوں کی مدد سے کشمیریوں کے جائز اور مبنی بر حق مطالبے کونظر انداز نہیں کر سکتا۔بھارت کوایسے غیر سنجیدہ فیصلوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ کبوتر کے آنکھیں بند کر لینے سے بلی ٹل نہیں جاتی۔آزادی پسند کشمیری پارٹیوں پر غیر قانونی طور پر پابندی لگا دینے سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو جائے گا۔اسے پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ مل کر باہمی مشاورت سے اس قضیے کا کوئی نہ کوئی آبرومندانہ حل نکالنا ہی ہو گا۔

بھارت کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اُسے کشمیریوں نے کسی خاص مقصد کے لیے کشمیر آنے کی دعوت دی تھی جسے اس نے اسے مکمل فراموش کرکھا ہے اور وہ کشمیریوں کو کوئی راحت پہنچانے کی بجائے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کرنے میں مصروف ہے۔اسے علم ہونا چاہیے کہ جب تک کشمیر کے مسئلے کو حل نہیں کیا جائے گا تب تک فسادات کا دروازہ کھلا رہے گااور کوئی بھی پڑوسی قوت ان حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پلوامہ جیسے حالات پیدا کر سکتی ہے ۔اس ضمن سے سب سے بڑی ذمہ داری بھارت کے جمہوریت پسند عوام پر عائد ہوتی ہے۔انہیں چاہیے کہ وہ اپنی حکومت کو امن کے لیے کام کرنے والے کشمیریوں کو پریشان کرنے سے روکنے کے لیے دباﺅ ڈالیں۔بھارت کا یہ اقدام نہ صرف انسانی ھقوق کی بدتریں خلاف ورزی ہے بلکہ اقوام متحدہ کے ذریعے طے شدہ عالمی ضابطوںکی بھی کھلی نفی ہے۔ جب میدان امن پسندقوتوں سے خالی ہو گا تو لا محامہ شدت اور دہشت پسند بیرونی اور اندرونی طاقتیں ماحول پر مسلط ہو جائیں گی۔لہذابھارتی حکومت پر لازم ہے کہ وہ رہبری کرتے ہوئے امن کے نام پر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر لگائی گئی پابندی کا فیصلہ واپس لے اور قیام امن کے لیے کشمیریوں کی کوششوں میں معاونت کرے۔یہ اس کا انصاف،انسانیت اور جمہوریت پر احسانِ عظیم ہو گا۔