117

چلئیے ۔ شملہ ہی چلیں

جس شملہ معاہدہ (1972) میں پاکستان اور بھارت نے عہد کیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات اور خطے میں دیرپا امن کے قیام کیلئے تمام تنازعات کے حل میں اپنے تمام وسائل اور توانائیاں استعمال کریںگے۔

دونوں ممالک کے درمیان آپسی تعلقات “ اقوام متحدہ چارٹر” کے اصولوں کے مطابق استوار ہونگے دونوں ممالک تمام حل طلب مسائل پر کوئی یکطرفہ تبدیلی کئے بغیر دوطرفہ بات چیت کے ذریعے ( وہ مسائل) پرامن طریقے سے حل کرینگے بصورت دیگر “ باہمی رضامندی سے دیگر راستے ” بھی اپنائیں گے ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت کا احترام کرتے ہوئے یک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرینگے۔

دوطرفہ کشیدہ تعلقات کے بنیادی مسلہ (جموں کشمیر) کا پرامن حل نکالیں گے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق برابری کی بنیاد پر ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت اور اقتداراعلی’ کا احترام کریں گے دسمبر 1971 کی جنگ بندی کے نتیجے میں قائم ہونے والی ”کنٹرول لائن کا دوطرفہ احترام”، یکطرفہ طور پر اس میں کوئی تبدیلی نہیں کریں گے اور نہ ہی طاقت کے استعمال سے کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کریں گے۔

دوطرفہ باہمی مشاورت سے مناسب وقت پر دونوں ممالک کے سربراہان اور نمائندگان کی ملاقات میں دیرپا امن، دوطرفہ تعلقات میں معمول، جنگی قیدیوں (فوجی و سول) کے تبادلہ، تنازعہ “ جموں کشمیر کے حتمی تصفیہ” اور سفارتی تعلقات کی بحالی کے طریقہ کار پر مذاکرات کریں گے۔

لیکن اصل مسلہ تو یہ ہے کہ شملہ معاہدہ کے مطابق بھی تنازعہ جموں کشمیر کا تصفیہ اور دیرپا امن قائم نہیں ہوا اقوام متحدہ کے چارٹر پر عمل درآمد کبھی نہیں ہوا اور جموں کشمیرمیں سیاسی سماجی و انسانی حقوق کی شدید پامالی ہوئی۔

مسلہ کشمیر سمیت دیگر مسائل کے دوطرفہ حل میں ناکامی پر بھی دیگر راستے نہیں اپنائے گئے جنگ بندی سے حد متارکہ بنائی جانے والی تقسیمی لکیر کا کبھی احترام نہیں ہوا اور روزانہ کی بنیاد پر طاقت کا دوطرفہ استعمال معمول بن گیا۔

گزارش خدمت ہے کہ ہمیں شملہ معاہدہ کی غلط تشریحات میں الجھانے اور ڈرانے کی بجائے اسکی اساس یعنی تمام مسائل کے دوطرفہ یا بین الاقوامی ثالثی میں تصفیہ کے عہد و پیمان پر عمل کیجئے۔

جنگ بندی (لکیر ) کا تقدس قائم رکھئے اور دونوں جانب باشندگان ریاست کو جینے کا حق دیجئے۔ خطے میں دیرپا امن اور خوشحالی کا دروازہ جموں کشمیر ہے تو “ اسے کھول دیجئے ”