211

مسئلہ کشمیر، ہیرو ازم اور فلسفہ جہاد

اب ہمیں اس بات کا فیصلہ کرنا ہو گا کہ آخر ہم چاہتے کیا ہیں، کشمیریوں کی نسل کشی یا پھر مسئلہ کشمیر کا پرامن طریقے سے حل، اگر ہم جماعت اسلامی کے جہاد والے فلسفے پر عمل کرتے رہے تو بعید نہیں کہ آمدہ دس سے پندرہ سال میں ویلی کے اندر صرف عورتیں بچ جائیں گی اور سب مرد بھارتی فوج کی گولی کا نشانہ بن جائیں گے۔ اور اگر ہم نے پرامن تصفیہ کی جانب بڑھنا ہے تو ہمیں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندی کی بے جا حمایت ختم کرنی ہو گی۔ ہم ایک طرف عسکریت پسندی کی بے جا حمایت بھی کر رہے ہیں اور دوسری طرف بھارتی فوج سے یہ توقع بھی کر رہے ہیں کہ وہ عسکریت پسندوں کو نہ مارے، تو ایسا ممکن نہیں ہے اور ایسا کبھی ہو ہی نہیں سکتا ہے۔ عسکریت پسندی کے ذریعے ہیروازم کا جو بدترین زہر وادی کے نوجوانوں میں گھسا ہوا ہے اس کا تریاق یہی ایک ہے کہ عسکریت پسندی کی بے جا ہمایت سے انکار کیا جائے۔ ایک نوجوان عسکریت پسند کیوں بنتا ہے ؟ تاکہ وہ بھارتی فوجیوں کو مار سکے اور بھارتی فوجی نوجوانوں کو کیوں مارتے ہیں اس لیے کہ انہیں بھی اپنی جان عزیز ہوتی ہے۔ بھارت کے قبضے کا جو حل جماعت اسلامی اور نام نہاد دیسی بدو فلسفہ جہاد کے ذریعے وادی میں پھیلائے ہوئے ہیں اس سے آزادی ملنا بعید ہے۔ اور یہ زہر اتنی گہرائی میں پھیل چکا ہے کہ سوشل سائنس میں پی ایچ ڈی کرنے والا ایک نوجوان جس کا تھیسز “بین القوامیت، صارفین کے ابھرتے رجحانات : دیہی اور شہری کشمیر کا ایک جائزہ” جیسے پیچیدہ موضوع پر ہے اور وہ اس میں اے پلس حاصل کرتا ہے اچانک عسکریت پسندی کی جانب راغب نہیں ہو سکتا۔ اس کی موت کا کشمیر مسئلہ کشمیر کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ہو گا البتہ چند زہر مار لیڈروں کو فائدہ ہو گیا ہو گا کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو مزید آسانی سے فروخت کرنا شروع کر دیا ہو گا کیونکہ ان کا کاروبار ہی اسی پر چلتا ہے۔

محمد رفیع بٹ کی بھارتی فوج کے ہاتھوں موت ہونا کوئی غیر فطری بات نہیں ہے اور بعید نہیں کہ مزید پچاس سو نوجوان اس کے راستے پر چل نکلیں کیونکہ ایک جانب انہیں عسکریت پسندی میں چھپے ہیرو ازم جسے ہم اپنی کمپیوٹر اسکرین اور پاکستان کے منہ پھٹ اینکر ٹی وی اسکرینوں پر بیٹھ کر پروان چڑھاتے ہیں میں مشہور ہونے کا ایک راستہ نظر آتا ہے اور دوسری جانب ان کو یہی سکھایا جاتا ہے کہ دراصل شہید کی موت سے ہی قوموں کی حیات ترتیب پاتی ہے، حالانکہ قومیں انسانوں کی وجود سے ترتیب پاتی ہیں جب وجود ہی ختم ہو جائیں گے تو قوم کی بقا کس میں رہے گی۔ مسئلہ کشمیر اب جغرافیائی سے زیادہ نفسیاتی اور ہیجانی مسئلہ بن گیا ہے ۔ پاکستان اور ہندوستان کے لیے یہ انا کا مسئلہ ہے جب کہ وادی کے نوجوانوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ۔ ماضی کی نسبت اب کی بار یہ اس وجہ سے زیادہ ہو رہا ہے کہ ہم نے برہان وانی کو ہیرو بنا دیا۔ برہان وانی پہاڑوں پر نکلا، محرکات کچھ بھی ہو سکتے ہیں لیکن گوریلا وردی میں بندوق تھامے اس کی تصویروں نے ہمیں مسلمانوں کو وہ دور یاد دلا دیا جب یہ دیگر قوموں پر تلوار، منجنیق کے زور پر قبضے کر رہے تھے تو ہم نے اس کو ہیرو بنا دیا۔ ایک سماجی سائنسدان کو ان دکھتی ہوئی رگوں کو رگیدنے کی ضرورت ہے تاکہ ان رگوں میں بہتے خون کے منبع کو پکڑ سکے وگرنہ اگر وادی میں اموات کی یہی شرح برقرار رہی تو چند برس اور پھر کشمیر کا نام صرف کتابوں میں رہ جائے گا۔