71

منجمد سوچيں نسلوں کی دُشمن؛ رضوان اشرف

بڑے دماغ جو تجزيہ کرتے ہيں اُنکی عملًا اہميت صديوں بعد بھی ويسے ہی ہوتی ہے جيسے کہ آج کا تجزيہ ہو۔ اسکی ايک وجہ استحصال کے بنيادی اصولوں کا تبديل نہ ہونا بلکہ محض شکليں بدلنا ہے۔ بيرسٹر قربان علی نے دہاہيوں پہلے ايسا ہی ايک تجزيہ کيا تھا اور اُس پہ عملًا کھڑا رہنے کی ہمت بھی۔ بيرسٹر قربان کا ماننا تھا کہ ہماری بنيادی جدوجہد منجمد سوچوں کے خلاف ہے۔ يہ وہ نقطہ ہے جو انسانی عظمت کی تشکيل کی جہت کرتا ہے۔ اپنے ہونے کی دليل پہ کھڑا ہو کر سماج ميں تشکيک کے پہلو کو ہوا دينے، سوالات اٹھانے کی حوصلہ افزائ کرتے ہوۓ رويوں پہ نظرثانی کی تبليغ کرتاہے ۔نۂی دُنيا سجانے کی فکر ديتا ہے۔ منجمد سوچيں وہ دقيانوسی خيالات ہيں جو پسماندگی اور فرسودگی سے محبت کرتے ہيں رجعت پسندی کو راہِ حق سمجھتے ہوۓ روشنی کو کفر مانتے ہيں ۔

وقت کی رفتار کے ساتھ چلنا گوارہ نہيں کرتے اور ماضی کی خيالی دُنيا ميں پناہ گزين ہونے کے ساتھ ساتھ تنگ نظری، فرقہ پرستی کو بڑھاوا دينے کے عمل کو انسانی زندگی کی منزل خيال کرتے ہيں۔ ان منجمد سوچوں کا پرزور حملہ يوں تو دُنیا کے بيشتر خطوں ميں اسی خباثتوں بھرے سرمايہ دارانہ نظام کی دين ہے جو کوئ مذہب نہيں رکھتا ماسواۓ فائدے کے اور اپنے فائدے کيليے لوگوں مذاہب ميں نفرتيں پھيلاتا ہے جس ميں خون بہانا مقدس بتايا جاتا ہے ۔اپنے مقاصد کے حصول کے لئے نسلِ انسانی کو غلام بناۓ ہوۓ محنت کشوں کے خون سے لُتھڑا ہوا يہ نظام اپنے چہرے پہ تہذيب کا پردہ بھی رکھتا ہے۔انسانی سماجوں ميں وقت کے ساتھ تبديلی ناگزیر سمجھی جاتی ہے  اور اپنے حق کيليے انسان خود کو تيار کرتا رہتا ہے مگر اس سب کا تعلق سوچ سے ہے يعنی آپ کی سوچ ہی دراصل عمل پہ اُکساتی ہے۔

رياست جموں کشمیر ميں منجمد سوچوں کی طوالت کا عالم کچھ زيادہ ہے۔ اب تو حالت يہ ہے کہ رياست ميں منجمد سوچوں سے محبت ايمان اور نتيجتاً غلامی کو آزادی خيال کيا جانے لگا ہے۔ يہ منجمد سوچيں جس سماج پر حملہ کرتی ہيں تو سب سے پہلے “احساس” چھين کر انسان کو اُسکی بلنديوں سے گراتے ہوۓ  ايک ایسی انسان نما چيز بنا ديتی ہيں جسکا مقصد محض پيٹ بھرنا اور افزاہشِ نسل رہ جاتا ہے۔ يہ منجمد سوچيں ہماری اور آنے والی نسلوں کی دشمن ہيں  يہ اندھير رسموں اور ظلمت پسندی کی تقليد ميں قید ہونے کو انسان کی سرفرازی بتاۓ ہوۓ اپاہج اور معذور نسل پيدا کرتی ہيں اور اپنے سماج کی تبديلی کو مشيعتِ الہاہيا کی رو گردانی بتاتے ہوۓ ظالم نظام کی عبادت پہ مجبور کرتی ہيں۔ منجمد سوچيں ايسے حالات پيدا کرتيں ہيں کہ جن ميں پوری کاہنات دشمن ، ہر نۂی کرن اُن دشمنوں کی سازش لگتی ہے اور اسے قتل کرنا خداۓ برتر کا حکم سمجھا اور مانا جاتا ہے۔ رياست جموں کشمير پچھلی سات دہاہيوں سے غلام اور منقسم ہے اور ابتری کی يقيناً حدوں کو چُھو رہا ہے۔

ہونا تو يہ چاہيے کہ رياستی عوام آزادی اور بہتر سماج کی تعمير کی جہت کرتی اس دُنيا ميں راہج نظاموں کا تجزيہ کرتے ہوۓ اپنی رياست ميں سوشلزم کے قيام کی کوشش کرتی۔اس دُنيا کی ترقی ميں کردار ادا کرتی۔ مگر اس کے برعکس ان منجمد سوچوں پہ ہی انحصار کرتے ہوۓ اپنی غلامی اور استحصال کو نہ صرف طوالت دی جا رہی ہے بلکہ اس کے وجود کے احساس سے ہی انکاری ہيں۔ سوالات پہ پابندی اور سوال اٹھانے والوں سے قطع تعلقی۔ طبقاتی نظام چونکہ سرمايہ دار طبقے کا رکھوالا ہے اور ہر وہ حربہ استعمال کرتا ہے جس سے اس نظام کی حفاظت يقينی بنائ جاۓ۔

پاکستان اور ہندوستان کے حکمران طبقات رياستی عوام کو غلام بنانے اور  وسائل کی لُوٹ گھسوٹ جاری رکھنے کے لئے ان منجمد سوچوں کو آۓ روز دلکش رنگوں ميں رنگنے کی ناکام کوششيں کررہے ہيں۔ اپنے عوام کو فُٹ پاتھوں پر مرتا چھوڑنے والے کمال خوبصورتی سے پڑوسيوں کے محافظ بننے کی اداکاری جاری رکھے ہوۓ ہيں۔

غلام رياستوں کی حکومتيں ظاہر ہے غلام ہی ہوتی ہيں مگر يہ منجمد سوچيں پچھلی سات دہاہيوں سے کچھ رياستی لوگوں کو مسندِ حکومت پہ بٹھاتی ہيں اُن کو ہر ماہ لاکھوں روپے اپنی جيبوں سے تنخواہ اور مراعات ديتی ہيں مگر يہ سوال کرنا جُرم سمجھا جاتا ہے کہ اُن سے بنيادی حقوق نہ ملنے کی وجہ پوچھيں معاشی اور دوسری پاليسياں اور اُنکا اطلاق پوچھيں اگر جواب وہی پرانا کہ مقبوضيتب ہے تو اسکا حل پوچھا جاۓ اپنی محرميوں کو ختم کرنے کی جسارت کی جاۓ۔

مگر يہ سب تبھی ممکن ہے جب ہم اُلٹی تعریف کرنے واليں ان منجمد سوچوں کو دھتکار کر اپنے حق کو پہچاننے کی خاطر اپنی نسلوں کی آزادی اور بہتری کی خاطر ايک دفعہ صرف ايک دفعہ سوچيں گے تو رياست کی آزادی و خودمختاری غداری لگے گی اور نہ سوشلزم کُفر بلکہ اتحاد اور قوت بن کر ان منجمد سوچوں کو شکست دينے کی خواہش اور عمل فرض محسوس ہوگا کيونکہ يہ سوال ہماری اپنی نسلوں کا ہے نسلِ انسانی کا ہے۔