Abdul Hakeem Kashmiri 175

کیا آزادکشمیر کی محدود شناخت بھی دائو پر ہے

ویسے تو آزادکشمیر میں ایک پورا حکومتی سیٹ اپ موجود ہے ، ایک ایسا ڈھانچہ جو کسی بھی خودمختار یا نیم خودمختار ریاست یا ملک کا ہوتا ہے۔ جیسے جھنڈا،قومی ترانہ، قانون ساز اسمبلی ،وزیراعظم ،صدر،سپریم کورٹ۔۔۔یہ وہ امور ہیں جو کسی بھی ریاست یا ملک کے ہوتے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ان تمام امور کے باوجود آزادکشمیر کی حیثیت ایک میونسپل کارپوریشن کے برابر بھی نہیں ہے۔ دنیا بھر میں آزادکشمیر کو کہیں بھی تسلیم نہیں کیا جاتا، چلو دنیا کو چھوڑتے ہیں وہ جنہوں نے یہ سیٹ اپ تشکیل دیا ہے اس ریاست کے لوگوں کو بے اختیاری کا احساس دلانے کے لیے کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ اسے آزادی کا بیس کیمپ بھی کہاجاتا ہے مگریہاں کی حکومت کے پاس نہ تو آزادی کے بارے میں فیصلے کرنے اور نہ ہی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے عالمی سطح پر بات کرنے کا اختیار ہے۔گزشتہ دنوں آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے بجٹ تقریر میں معمول سے ہٹ کر اتحاد ثلاثہ جو گزشتہ صدی کی ساتویں دھائی میں کچھ جماعتوں کا اتحاد تھا اور قراردادآزادکشمیر کا مکمل متن اپنی گفتگو کا حصہ بنایا۔ وزیراعظم نے ایسا کیوں کیا؟ وہ کون سے حالات ہیں جن کا سامنا فاروق حیدر کو ہے اس پر آگے بات کریں گے فی الوقت دیکھتے ہیں قرارداد آزادکشمیرکیا ہے۔۔۔۔۔ 27 جولائی 1946؁ء کو میر واعظ منزل سری نگر میں چوہدری غلام عباس کی زیر صدارت آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کا ایک خصوصی کنونشن منعقد ہوا، جس میں ریاست بھر سے 300 سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔ اسی کنونشن میں قرارداد آزاد کشمیر منظور ہوئی۔

قرارداد آزادکشمیر کا مکمل متن ’’ہرگاہ کہ ہندوستان کے نئے آئین کا ڈھانچہ مرتب کرنے کا ڈول ڈالا جا رہا ہے اور برطانوی ہند کے صوبہ جات اور ہندوستانی ریاستوں کو ایک محدود اختیار والی یونین میں منسلک کرنے کے لیے جس آئین ساز اسمبلی کو تشکیل دیا جا رہا ہے اس میں ایک کروڑ ریاستی باشندوں کو شبہ ہے کہ انہیں مطلق العنان ریاستی شہزادگان کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا ہے۔ مجلس عاملہ کی رائے میں آئین ساز اسمبلی ریاستی عوام کو بھی اسی طرح اپنے نمائندے خود منتخب کرنے کا حق دیا جائے جیسا کہ برطانوی ہند کے عوام کو حاصل ہے، بالخصوص جہاں تک ریاست جموں و کشمیر کا تعلق ہے، مسلم کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ ہندوستان کی آئین ساز اسمبلی میں ریاست کشمیر کی طرف سے جو نمائندے بھیجے جائیں وہ لازمی طور پر کشمیر اسمبلی کے منتخب ممبران کی طرف سے انتخاب کردہ ہونے چاہئیں۔ اور ان کا تناسب و طریق انتخاب اسی طرح ہونا چاہیے جیسا کہ برطانوی ہند کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔

مجلس عاملہ یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ مستقبل قریب میں جب ریاستوں کا ہندوستانی گروپوں میں شامل ہونا مقصود ہو تا کسی بھی گروپ (پاکستان یا ہندوستان) کا دوش بہ دوش چلنا ممکن نہیں اور مجوزہ آئین ساز اسمبلی جو ہندوستان کے مختلف اجزاء کے لیے آئین مرتب کرے گی اس کا انحصار آزاد اور جمہوری اصولوں پر ہو گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ریاست جموں و کشمیر جو آبادی اور وسعت کے لحاظ سے صوبہ سرحد سے بڑی اور سندھ کے برابر ہے کا آئین بھی ان ہی اصولوں پر مرتب ہونا چاہیے۔ بناء بریں ضروری ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے مطلق العنان اور غیر ذمہ دارانہ نظام حکومت کو فی الفور ختم کر دیا جائے اور عوام کو اپنی پسند کا آئین حکومت بنانے کا پورا پورا اختیار دیا جائے جو اپنے مخصوص حالات کے مطابق آزاد کشمیر کے لیے جس طرز کا آئین حکومت چاہیں مرتب کریں۔

اس کام کو سر انجام دینے کی خاطر جموں و کشمیر کے لیے ایک آئین ساز اسمبلی کا قیام از بس ضروری ہے۔ مجلس عاملہ مہاراجا کشمیر سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے موجودہ وقت فرسودہ اسمبلی کو توڑ کر اس کی جگہ فی الفور مطلوبہ اسمبلی کا قیام عمل میں لایا جائے، جو وسیع حق رائے کے ساتھ تمام تر رائے دہندگان پر مشتمل ہو اور جس میں ہر قوم اور فرقہ کو تناسب آبادی کے لحاظ سے جداگانہ حق نیابت کے ذریعے حق نمائندگی حاصل ہو اور اسی اسمبلی کو ریاست جموں و کشمیر کے لیے اپنی مرضی کا آئین حکومت بنانے کا اختیار سونپا جائے۔ مجلس عاملہ کو توقع ہے کہ مہاراجا کشمیر کے بدلے ہوئے حالات، سارے ہندوستان کے مفاد اور اہل ریاست کشمیر کی بہتری کے پیش نظر عوام کو اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کرنے کے جائز حق کو تسلیم کر لیں گے۔ مجلس عاملہ واضح طور پر اعلان کرتی ہے کہ اگر مندرجہ بالا مطالبات کے برعکس حکومت کشمیر نے کوئی اور راہ اختیار کی تو مسلم کانفرنس اس کو قبول نہیں کرے گی بلکہ ریاست کے مسلم عوام مسلم کانفرنس کی قیادت میں پوری طاقت کے ساتھ آزاد کشمیر کے لیے جد و جہد کریں گے‘‘۔

قرارداد آزادکشمیر 27جولائی 1946کو پیش کی گئی، 19جولائی 1947کو مسلم کانفرنس نے قرارداد الحاق پاکستان منظور کی۔ واقفان حال کی اس بارے میں رائے مختلف ہے بحر حال یہ وہ قرارداد ہے جس سے ریاست جموں کشمیر کے 19ویں حصے( موجودہ آزادکشمیر) میں مسلم کانفرنس کی کنٹرولڈ حکومت قائم ہوئی جس کا تسلسل آج تک اس خطے میں برقرار ہے ، 19جولائی 1947کی قرارداد کس نے پاس کی اس میں کتنے لوگ شامل ہوئے یہ معاملہ تاریخ کے طالب علموں کے لیے چھوڑتا ہوں۔

بہت سے سوالات اپنی جگہ موجود ہیں کہ یہ خطہ آزادکشمیر تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہے یا مسلم کانفرنس کی 19جولائی کی قرارداد الحاق پاکستان کی روشنی میں الحاق پاکستان کا بیس کیمپ۔۔۔۔۔۔کچھ سوالات ہیں، آزادکشمیر کی الحاق نواز قیادت اگر الحاق پاکستان پر کامل یقین رکھتی ہے تو پھر ریاست کی علیحدہ شناخت کو کیوں برقرار رکھنا چاہتی ہے ؟؟۔۔ یہ طریقہ کار کہ اس خطہ میں بے اختیار حکومت کے ذریعے سری نگر اور جموں کی آزادی کی جدوجہد کی جائے کس حد تک موثر ثابت ہوا؟؟؟ آزادکشمیر کو عالمی سطح پر نمائندگی سے دور رکھنے کی روش سے من پسند نتائج حاصل ہو سکے؟ اس حوالے سے ہر دو مکتبہ فکر کی اپنی رائے ہے لیکن قانون ساز اسمبلی کے حالیہ بجٹ اجلاس میں وزیراعظم آزادکشمیر فاروق حیدر کی طرف سے معمول سے ہٹ کر قرارداد آزادکشمیر پڑھنا یہ ثابت کرتا ہے کہ انہیں ان دیکھے محاذ پر ایسے مسائل کا سامنا ہے جن کا تعلق آزادکشمیر کی موجودہ شناخت اور اختیارات سے ہے ۔۔۔

یہ سوال غور طلب ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے جو پیغامات’’ اتحاد ثلاثہ‘‘(گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی میںآزادکشمیر کی تین سیاسی جماعتوں کا اتحاد) اور’’ قرارداد آزادکشمیر‘‘ کے ذریعے دیئے گئے اس کا رد عمل ان کی سوچ کے مطابق ہو گا یابرعکس۔۔۔۔۔۔۔ لیکن وزیراعظم فاروق حیدر کو ایک تجربہ تو ہو گیا ہو گا کہ ماضی کے آزادکشمیر کے حکمرانوں نے اختیارات سے کس طرح دستبرداری اختیار کی ۔۔۔ رولز آف بزنس کیسے آئے ، اختیارات کیسے چھینے گئے ۔۔۔ کیونکہ فاروق حیدر اکثر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان لوگوں کے بارے میں لکھا جانا چاہیے جنہوں نے آزادکشمیر کے عوام کے حق حکمرانی سے دستبرداری اختیار کی ، بلکہ ان کی مشہور زمانہ تقریر ریکارڈ کا حصہ ہے کہ میرا جی چاہتا ہے کہ ان(آزاد کشمیر کے سابق مسلم کانفرنسی لیڈر)کی قبروں پر سوٹیاں ماروں جو اختیارات سے دستبردار ہوے، آج فاروق حیدر کوان ہی مسائل کا سامنا ہے ، نیلم جہلم کا معاہدہ نہ ہونا، دریائے جہلم کا رخ موڑنے کے حوالے سے ان ک کل کے بیانات اور آج کے عمل میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

چائینہ کمپنی تھری گارجیز نے کوہالہ پراجیکٹ کی تعمیر دوبارہ شروع کرنے کیلئے جو ضمانت مانگی اس حوالے سے سیکرٹری قانون کا تین صفحات پر مشتمل ڈرافت بے بسی اور مجبوری کی ایک داستان ہے ، عبوری آئین کی دفعہ 52.Cسے متصادم سیکرٹری قانون کی تشریح 13ویں ترمیم کے متعلق اس دعوے سے بھی ہٹ کر ہے جو وزیراعظم اور ان کے ماتحت بیورو کریٹ ہمیں بتاتے رہے ۔۔۔۔ کوئی بھی ایسا خطہ جس کے ساتھ آپ انتظامی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں وہاں اپنے حق کی بات کرنا اس وقت تک جرم ہو تا ہے جب تک آپ کمزور ہیں یا خود اسے جرم سمجھیں۔ کچھ حقائق تلخ ضرور ہیں لیکن اس پر مجرمانہ خاموشی اس سے بھی زیادہ تلخ حقیقت ہے ۔مثلاً اے این پی نے کے پی کے اسمبلی میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف قرارداد جمع کروائی، وہ غداری نہیں ہم اپنے حقوق کی بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں، ہماری اسمبلی اتنی سہمی اور ڈری ہوئی ہے کہ اس معاملہ پر مکمل خاموش ہے ، یہ بیانیہ کس قدر غلط ہے کہ اگر ہم نے اپنے حقوق کی بات کی تو ہندوستان کو پروپیگنڈے کا موقع ملے گا؟ 

پہلی بات یہ کہ حق دیا جائے تو پروپیگنڈہ نہیں ہو گا، یہ کوئی جوازیت نہیں کہ آپ ہمیں ہندوستانی پروپیگنڈے سے خوف زدہ کر کے ہمیں بنیادی حقوق سے محروم کر دیں۔۔ ۔۔۔۔ یہ معاملہ اس بیوہ عورت کی طرح ہے جس کا خاوند فوت ہو جاتا ہے ، دیور اور جیٹھ اس کی عصمت دری کرنے کے بعد یہ بھاشن دیں کہ شور نہیں کرنا ہمارے خاندان کی عزت کا مسئلہ ہے ۔ 

وزیراعظم سے گذارش ہے کہ وہ وزارت عظمیٰ کے لیے ان حقوق سے دستبردار نہ ہوں جن کا وہ خود کو نگہبان کہتے ہیں۔’’قراردادآزاد کشمیر ‘‘اسمبلی میں پڑھنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اسمبلی میں قرارداد منظور کریں، نیلم جہلم کا معاہدہ کیا جائے ، کوہالہ پراجیکٹ کا معاہدہ کرکے دریا کے بہائو پر بنایا جائے ، اگر ایسا نہیں ہوتا تو معاہدہ کراچی پر نظر ثانی کی جائے کیونکہ جملہ معاملات معاہدہ کراچی سے جڑے ہوئے ہیں۔

وزیراعظم اپنے ارباب اختیار سے دوٹوک انداز میں یہ بات بھی کریں کہ انتظامی رشتوں کے معاہدوں کی توہین ایسا عمل ہے جس سے نفرت جنم لے گی ، احساس محرومی بڑھےگا۔۔۔۔۔۔۔اور اس کے نتائج کبھی بھی اچھے نہیں ہوتے۔