260

72 سال اور ستر دن۔۔۔۔۔۔۔!!!!

آج دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلائے جانے والے بھارت کا جموں کشمیر کے عوام پر جبر، استبداد اور ظلم کو ستر دن مکمل ہوئے۔ اگر یہ کوئی خوشی کی بات ہوتی تو عین ممکن ہے سو دن کے قریب پہنچنے پر جشن کی تیاری ہوتی لیکن یہ ایک ایسی پریشان کن اور بدقسمت حقیقت ہے کہ جس پر سارے بھارتی بھی جشن نہیں منا سکتے کیونکہ بھارتی حکومت کے پانچ اگست 2019 کے فیصلے کے بعد سے لیکر کے آج تلک بھارت میں زندہ ضمیر اور انسانیت کا درد رکھنے والے سایسی کارکنان، دانشوروں، فنکاروں اور صحافیوں نے جموں کشمیر کے حالات پر نحیف ہی سہی مگر آواز اٹھائی۔

اس دوران بھارتی حکومت میں موجود بھارتیا جنتا پارٹی جو ایک واضع اکثریت کے ساتھ بھارتی پارلیمنٹ میں حکومتی نشستوں پر براجمان ہے نہ صرف اپنے مؤقف پر قائم رہی بلکہ حکومت نے سفارتکاری کے عمل کو تیز کرتے ہوئے بین الاقوامی طور پر جموں کشمیر کے محکوم انسانوں کے حق میں کوئی آواز نہ اٹھنے دی۔ریڈ کلف لائین کے دوسری طرف بسنے والے 22 کروڑ انسانوں کی ریاست پاکستان جو 1947 سے تاحال یہ شور و غوغا کرتی نظر آتی ہے کہ جموں کشمیر (کشمیر) پاکستان کی شہ رگ ہےنے حکومت ہندوستان کے اس فیصلے پرمزاحم نظر آئی اور پاکستان کے موجودہ وزیر خارجہ (جن کے طرزِ تخاطب میں تصنع اور اداکارانہ جوہر کسی سے ڈھکے چھپے نہیں) نے بھی وزیر خارجہ ہونے کا حق ادا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور ذرائع ابلاغ پر ایسی گفتگو کرتے نظر آئے کہ بعض اوقات یہ گمان ہونے لگا کہ اگر موصوف اس جارحانہ انداز میں کھیلتے رہے تو وہ وقت دور نہیں کہ یہ اپنے خطابانہ جوہر سے کسی بھی بین الاقوامی فورم پر مودی اور اسکے حواریوں کو ایسے ہی پچھاڑ دینگے جیسے رسہ کشی کے مقابلے میں فربہ اور صحت مند کھلاڑیوں پر مشتمل ٹٰیم نحیف اور کمزور لوگوں کو پہلی جستی میں نشان سے اسطرف کھینچ لیتی ہے۔

لیکن اقوامی متحدہ کے ذیلی ادارے میں کی گئی تقریرکے بعد بھی مودی تو کجا بھارتی دفترِ خارجہ کے نمائندگان کو بھی پچھاڑنے میں ناکام نظر آئے (نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا)۔ اوائل روز میں پاکستانی دفتر خارجہ سے یہ دعوٰی بھی سننے کو ملا کہ اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے 50 سے زائد ممالک کی حمایت بھی حاصل کر لی گئی ہے، یار لوگوں کی خوشی کی انتہا نہ تھی کہ ایک دن یہ عقدہ کھلا کہ مذکورہ کونسل کے ارکان کی تعداد ہی 47 ہے تو ماتھا ٹھنکا کہ الٰہی ماجرا کیا ہے، دل کو تسلی دی کہ شاید پاکستانی وزیر خارجہ اقوام متحدہ کے ممبران کی بات کر رہے ہوں، شاید نشریاتی اداروں نے بغض معاویہ میں کوئی عددی رد و بدل کیا ہو، کیونکہ وکیل تو اپنی سارے دستاویزی ثبوت لیکر میدان میں اترتا ہے اور اگر اس کے پاس مطلوبہ شواہد میسر نہ ہوں تو معزز عدات سے مزید وقت کی استدعا کرتا ہے۔

پاکستان اگر دو کروڑ انسانوں کا وکیل ٹھہرا تو اتنی عجلت میں غیر مناسب بیانات کیسے دئیے جاسکتے ہیں؟؟؟؟اسی اثنا میں جموں کشمیر کی حد متارکہ کی اس طرف کچھ ہلچل شروع ہوئی، مکمل آزادی کے حامیوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ میچ فکس تھا، کچھ دوراندیش دوستوں کا کہنا تھا کہ معاملات علامی چوہدری ( امریکا بہادر) کے سامنے طے پا گئے ہیں اب یہ گردن سے اوپر اوپر کے بیانات ہیں۔ حیرانی ہوتی تھی کہ ایک بلامعاوضہ وکیل کی نیت پر کیسے شک کر رہے ہیں یہ کیسے لوگ ہیں۔ جب انکا یہ جھوٹ سچ لگنے لگا تو یار لوگوں نے بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر احمقانہ پوسٹیں ڈالنی شروع کر دیں جس پر دوست ناراض بھی ہوئے اور کئی ایک خبطی، پاگل اور غدار تک کہہ کر بلاک کر کے چلتے بنے، کئی ایک ہمارے ہاتھوں بھی بلاک ( ہلاک نہیں) ہوئے ( میں دست بدستہ معذرت خواہ ہوں)۔

مکمل آزادی پر ایمان اور ایقان رکھنے والی تنظیموں نے سر جوڑے، سیاسی اتحاد بنے۔ کچھ نے کہا ہم خود کریں گے، اتحاد کی قطعاً ضرورت نہیں۔جلوس نکلے ، تقریریں ہوئیں، لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر حد متارکہ کی جانب بڑھے ، نوجوان زخمی ہوئے، حد متارکہ پر گولہ باری سے جانوں اور املاک کا نقصان ہوا( معمول ہے پریشانی کی بات نہیں) ایک گروہ آگے بڑھا ہزاروں لوگ ساتھ ملے، پولیس، آنسو گیس، لاٹھی چارج، حد متارکہ پر دھرنہ سب کی یکجہتی، جپھیاں، تقریریں “آواز دو ہم ایک ہیں ” وغیرہ وغیرہ ۔(آزاد) کشمیر سے مخالفیں اٹھے ، اداروں کو گالیاں کیو دیتے ہو، پاک فوج محافظ ہے یہ آزادی چاہنے والے نعرہ باز ہیں ، مارچوں میں سب کشمیری تھے، جذبات مجروح ہوئے سماجی رابطے کی سائیٹس پر بیانات ، دلائل جھگڑے، تنقید، ہجو، دشنام طرازی، بد زبانی، تم غدار نہیں تم غدار۔ تم جلسے کرتے سرگرمی کرتے ہم تنقید کرتے تم خالی تنقید کرتے کام نہیں یہ اور وہ، ایسا اور ویسا، دوسرا مرحلہ وزیر اعظم پاکستان مظفر آباد میں ” میری تقریر کا انتظار کرنا ، حد متارکہ کی طرف نہ بڑھنا”۔

جی مہاراج ہم انتظار کرینگے۔ 19 ستمبر کونسل برائے انسانی حقوق میں قرارداد یا سپیشل سیشن کا وقت گذرا، 14 ملکون کی حمایت نہ ملی اللہ کہہ تو رہے تھے پچاس کی مل گئی، یہ بھارتی بیانیہ ہے ایسا کچھ نہیں۔ دوسرے دن پاکستانی ذرائع ابلاغ پر وہی خبریں۔ سب غدار منافق ہمارے اداروں اور لاالہ الا للہ پر بنے ملک پر تنقید!!!!ایک صفائی آتی ہے ” قرارداد جمع کرواتے تو کمزور ہوتی ” تو مضبوط کب جمع کر وائیں گے۔ بس تقریر کا انتظار کرو۔ جی اچھا!!! تقریر ہوئی۔۔۔۔۔۔۔ سنی جی خوش ہوا۔۔۔۔ نہیں میں ناقد ہوں مگر تقریر اچھی تھی ۔۔۔۔۔ کشمیری پھر رقصاں و شاداں ۔۔۔۔ اب حل نکلے گا ۔۔۔۔۔ ناقدین ہوا کے مخالف، غیر روائیتی کشمیریوں کی پھر تنقید ۔۔۔۔ ہیں ؟ یار باتیں تو اچھی کیں ؟ نہیں اچھا پھر کیا ہوگا؟

وزیر اعظم آزاد کشمیر ۔۔ جذباتی تقریر ۔۔ ڈالر کھاؤ گے۔۔۔ مطالبہ۔۔ آنسو۔۔۔۔ ٹی وی سے غائب!!!ہم حد متارکہ توڑیں گے ۔۔۔ کارواں چل پڑا۔۔۔۔ کچھ ساتھ ۔۔ کچھ کی اخلاقی حمایت۔۔۔ اللہ رحم ۔۔۔۔۔نیت پر شک نہیں۔۔۔ لیکن پھر تنقید ۔۔۔ یہ مہم جوئی ہے۔۔۔”حد متارکہ کی طرف بڑھنے والے بھارتی بیانئے کو تقویت دے رہے ہیں” (وکیل) گفت و شنید تبصرے۔۔۔ حد متارکہ کی طرف بڑھنے والے سہنا کے لوگ ہیں (بھارتی میڈیا) ۔۔۔۔ نہتے لوگوں کو مروائیں گے۔۔۔۔کارواں چل پڑا۔۔۔ لوگ، پھول، استقبال ۔۔۔ گرمجوشی ، جذبات ، پولیس، کنٹینر، خار دار تاریں ، تشدد نہیں ۔۔۔ دھرنا ۔۔ دھرنا جاری، یکجہتی ، مذاکرت پہلا دور، دوسرا دور، تیسرا دور۔۔۔۔۔ مذاکرات ناکام۔۔۔ اب کیا ؟ پھر یکجہتی تشدد کی صورت میں۔۔۔۔ صلاح الدین کی تقریر۔۔۔ ارے یہ کیا ظلم کیا وہ تو عالمی چوہدری کی طرف سے دہشتگردی کے زمریے میں آتا ہے۔۔۔۔!!!نہیں پہلے مظفرآباد آزاد کروانا ہے۔۔۔۔ گلی گلی آواز ۔۔۔ اسمبلی ہو گی آئین ساز۔۔۔۔ دھرنا جاری۔۔۔۔متضاد خبریں۔۔۔۔حکومت وزیر۔۔تنقید ۔عالمی قوانین ، اقوام متحدہ۔۔ نہیں اقوام متحدہ سامراج کا ادارہ۔۔۔۔ یہ ممکن نہیں یہ غلط ہے۔۔۔۔ یہ درست۔۔۔نہیں یہ درست۔۔۔مظفرآباد۔۔۔ یہ کنٹینر ہٹا دو۔۔ جہلم دومیل ۔۔۔ کچھ لوگ خاموش ۔۔۔۔نہیں بس کر دو۔۔۔ بہت ہو گیا۔۔۔۔کیا بہت ہو گیا؟ 72 سال ۔۔۔ تو؟

ہم بھی یہی چاہتے تو آو نہیں مجبور ہیں۔۔۔ !!!ایک صفحے پر چند لوگ ۔۔ سر پھرے، گلی گلی، گاؤں گاؤں۔۔۔ کہاں جانا ۔۔۔ مظفرآباد ۔۔ اسمبلی آئین ساز۔۔۔ عوام۔۔ خواتین۔۔ سب راز ۔۔۔ ہم آواز ۔۔۔ ایک آواز نہیں گلگت بھی ۔۔۔ بابا جان ۔۔۔۔ بیس کیمپ ۔۔۔ دنیا کو آواز ہم سنائیں گے۔۔ وکیل ؟ ؟؟ نہیں اپنی وکالت خود۔۔۔ اپنی جنگ خود۔۔!!!!! اگلا مارچ !!!! سترہواں دن اور 72 سال!!!