JKPNA Flag, 199

فتح تو قریب ہے..مگر آپ کہاں کھڑے ہیں؟

پوری دنیا کو فتح کر لینا ایک خواب ہوتا ہے. جب تک دنیامیں عالمی جمہوریت نہیں تھی تو ہر بادشاہ چھوٹا یا بڑا یہ خواب ضرور دیکھتا تھا. اکبر اعظم جو جاہل مطلق تھا مگر نورتنوں سے لطائف کے علاوہ کبھی کبھار سابقہ بادشاہوں کے قصے بھی سن لیتا تھا..ٹوڈرمل, فیضی اور ملا دوپیازہ تاریخ دان بھی تھے. اکبر نے جب سکندر اعظم کی فتوحات کا سنا کہ وہ یورپ میں پیدا ہوا, ایشیا میں مرا, افریقا میں دفن ہوااور محض تینتیس سال کی عمر میں ساری دنیا فتح کر کے دنیا سے رخصت بھی ہو گیا.

تو ایسا قصہ سن کر اکبر کے من میں بھی دنیا کو فتح کرنے کی جوت جاگی. مگر المیہ یہ تھا کہ اس کی دس لاکھ شاہی فوج ہندوستان کے اندر تو یلغار کرتی تھی مگر ہندوستان سے باہر نکلنے پر آمادہ نہ تھی. فوج کو ایک پیج پر لانے کی خاطر ہی اکبر نے دین الہی کا کاک ٹیل بھی بنایا. خود وہ سورج دیوتا کا پجاری تھا مگر مسلمان اسے اپنا بادشاہ بتاتے ہیں.

کشمیر سے فرقہ پرستی کے زہر میں بجھے ہوۓ مولوی کشمیر فتح کرنے کی دعوت لے کر اکبر کے پاس پہنچے.اکبر کی فوج نے جب کشمیر پر یورش کی تو مقابلتا سات گنا کم کشمیری فوج نے بری طرح سے دانت کھٹے کر دیے. جوش انتقام میں 1585 میں زیادہ بڑا لشکر کشمیر فتح کرنے بھیجا گیا اور چھوٹی سی فوج نے اس کو زیادہ عبرت ناک شکست دی. اکبر کے دل سے کشمیر کی فتح کا خیال رخصت ہو گیا. مگر سنی مولوی کہاں ٹکنے والے تھے. انہوں نے اکبر کو نیا طریقہ جا بتایا اور اکبر نے دھوکے سے یوسف چک کو بلا کر قید کر لیا اور یوں کشمیر پر مغلوں کا قبضہ ہو گیا..

اس کے بعد اکبر نے دنیا فتح کرنے کا ارادہ اور بھی مضبوط کر لیا. مگر ہندوستانی فوج برعظیم سے باہر نکلنے کے لیے تیار نہ ہوئی. اور اکبر کا ارادہ خواب ہی رہ گیا. یہ میدانی فوج تھی.

تاریخ گواہ ہے کہ تاریخ یا صحرائی لوگوں نے بنائی ہے یا پہاڑی لوگوں نے.
سمیری حمیری وغیرہ کی بابت زیادہ مستند معلومات نہیں ہیں مگر معلوم تاریخ کی کایا پلٹنے والا پہلا شخص سکندر یونانی ہے جو مقدونیا کے پہاڑوں سے اترا اور پورے یورپ ایشیا اور افریقا پر قابض ہو گیا کہ اس وقت معلوم دنیا صرف یہی تھی. اس کی کوہستانی یلغار کے سامنے نہ راجا پورس ٹک سکا نہ دارا…بل کہ ایک محاورہ بھی وجود میں آ گیا کہ جو جیتا وہ سکندر جو یارا وہ دارا.
تین سو سال تک سکندر مقدونی کا ڈنکا بجتا رہا.

تاریخ پلٹا لیتی ہے اور حجاز کے صحراؤں سے ایک طوفان اٹھتا ہے. محض پندرہ سال کے عرصے میں روم اور ایران جیسی دو سپر پاورز اس صحرائی طوفان کے قدموں میں بیٹھ گئیں. تاجدار مدینہ رسالت ماٰب کی تیار کردہ سپاہ شوکت پناہ فتوحات کے جھنڈے گاڑتی چلی گئی. مسلمان آدھی معلوم دنیا پر متصرف ہو گئے. صحرا سے اٹھے طوفان کو تھامنا کسی کے بس کی بات نہ تھی.

اسلامی غلغلہ پانچ سو سال تک بلند رہا یہاں تک کہ تاتاریوں نے اسلامی سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی.

چین کے جنوبی صحراۓ گوبی سے ایک اور طوفان چنگیز خان, اباقا خان, شیبانی خان, تگودار خان اور ہلاکو خان کی صورت میں اٹھا اور سب کچھ ساتھ اڑا کے لے گیا. چین, روس, پورا ایشیا آدھا افریقا اور آدھا یورپ اس کی لپیٹ میں آ گئے. فتنہ تاتار آج بھی ضرب المثل ہے.

تاریخ پلٹا لیتی ہے اور انگلستان کی زمستانی پہاڑیوں سے ایک قوم یونین جیک ہاتھ میں لیے اتنی دنیا فتح کر لیتی ہے جس پر سورج بھی غروب نہیں ہوتا.. یہ تمام عالمی فتوحات یا صحرائیوں کے مرہون منت ہیں یا کوہستانیوں کے.

عالمی کے علاوہ ہٹ کر ملکی سطح پر دیکھ جاۓ تو غزنوی, غوری, ابدالی, اور ایبک اس کی مثالیں ہیں.

اب آتے ہیں تعداد کی طرف.. سکندر مقدونی جس سلطنت سے اٹھا اور دنیا فتح کر لی اس پوری سلطنت کی آبادی چھبیس ہزار تھی.

ساتویں صدی میں رسات ماٰب نے جس انقلاب کی بنیاد رکھی تو مدینے کی کاشتکار بستی کی آبادی پندرہ ہزار تھی.

چنگیز خان کا پہلا لشکر نو ہزار لوگوں پر مشتمل تھا. جزیرہ انگلینڈ کی آبادی اٹھارہویں صدی میں ایک کروڑ سے بھی کم تھی. خالی ہندوستان میں گورے سپاہیوں کا مقامی آبادی کے ساتھ تناسب ایک بمقابلہ بارہ سو تھا. یعنی ایک گورا سپاہی بارہ سو ہندوستانیوں پر حاکم تھا.

محمود غزنوی پانچ دس ہزار کا کوہستانی لشکر لے کر اڑھائی کروڑ کی آبادی والے پنجاب پہ حملہ آور ہوتا تو اہل پنجاب لڑے بنا ہی کندھا لگا کر محمود کے پانچ دس ہزار کے لشکر کو ایک دو لاکھ کا لشکر بنا دیتے تھے اور دہلی تک پہنچا کے آتے تھے. چوبیس کروڑ آبادی والا ہندوستان ہمیشہ غزنوی کے چند ہزار کے لشکر کے ہاتھوں ہانپتا کانپتا ڈھیر ہو جاتا کہ مزاحمت میدانی علاقے والوں کا شیوہ ہی نہیں.

ہاں وہی محمود غزنوی کشمیر کو بھی ہندوستان سمجھتے ہوۓ 1015 میں کالنجر(کوٹلی, پلندری)پر حملہ آور ہو گیا تھا. کالنجر تو دور کی بات, لوہ کوٹ کے ایک معمولی سے قلعہ دار نے محمود غزنوی کے لشکر کو تہس نہس کر کے رکھ دیا تھا. محمود غزنوی نوے ہزار کے لشکر میں سے بمشکل پانچ ہزار لشکر اور اپنی جان بچا کے بھاگا تھا..اور دوبارہ کشمیر کی حدود کے بہت دور سے گزرتا تھا. 1028 تک وہ چوبیس کروڑ والے ہندوستان پر نو دفع مزید بھی حملہ آور ہوا مگر سترہ لاکھ آبادی والے کشمیر کا بھول کر بھی نہیں سوچا. لوہ کوٹ کے جس قلعہ دار نے محمود غزنوی کو شکست فاش دی تھی اور روزانہ فصیل پہ آ کر لشکر غزنی پر پھبتیاں کستا تھا..اس کے لشکر کی تعداد تیرہ ہزار تھی..

پہاڑی دروں سے اترتی ندیاں دریاؤں تو کیا پہاڑوں کو بھی کاٹ دیتی ہیں

وہ جوۓ کہستاں اچکتی ہوئی
اٹکتی لچکتی سرکتی ہوئی
رکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہ
پہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہ

پونچھ باغ کوٹلی اور پلندری کے کوہستانوں میں ایک لاوا پک رہا ہے. میدانی علاقوں والے ان کو کبھی کنکترا کبھی غدار کہ کر اپنے لفافے حلال کر رہے ہیں. ان میدانیوں سے اتنا پوچھا جاۓ کہ ان کے میدانی پرکھوں کا بھی تحریک آزادی میں کیا کردار رہا تھا تو پتا چلے گا کہ رن پڑتے وقت یا تو مویشی خانے میں جا چھپے تھے, یا کسی بھی غالب فریق نے پکڑ کے بیگار لینا شروع کر دی تھی یا فصلوں جھاڑیوں اور جنگلوں میں چھپ گئے تھے.

جو آج بھی قابضین کے خلاف برسر پیکار ہیں ان کے اجداد کی بھی یہی تابناک تاریخ ہے. یہ خاک خمیر کا اثر ہوتا ہے. انہی غیور کوہستانی پونچھیوں نے ظلم کے خلاف بغاوت کی. سکھا شاہی ہو یا ڈوگرا راج, افغان بربریت ہو یا مغل شہنشاہیت. وطن کے ان بیٹوں نے غیر ملکی قبضے پر سمجھوتہ نہیں کیا. اس وقت بھی سجاد افضل, فاروق صابر, سردار صغیر, لیاقت حیات, سردار ذولفقار, چودھری غلام عباس اور ان جیسے سینکڑوں دن رات ایک کیے ہوۓ ہیں. وہ وہ قرض اتارنے میں مصروف جو واجب بھی نہیں ہیں.

آئیے تاریخ تبدیل کرنے میں پونچھ کے کوہستانوں سے اٹھنے والے سیلاب کو روکنے کی بہ جاۓ اس میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ آنے والی نسلیں فخر کے ساتھ بتا سکیں کہ تحریک آزادی میں ہمارے والدین میدان عمل میں تھے. قومی دھارے میں تھے. اپنے ہم وطنوں کے ساتھ ڈٹ جانے والے ٹیپو سلطانوں اور سراج الدولوں میں تھے. بیرونی قابضین کے طرف دار میر جعفروں میر قاسموں اور میر صادقوں میں نہیں تھے. باتیں بنانے والوں اور چھپ جانے والوں میں سے نہیں تھے.

یہ الگ بات کہ میر جعفر میر صادق اور میر قاسم اُس وقت قابضین کی طرفداری کر کے اپنے آپ کو سیانوں میں سمجھتے تھے مگر اُن کی اولاد آج خود کو ان کی اولاد کہتے ہوۓ جو محسوس کرتی ہے..اپنی اولاد کو ویسے احساسات سے بچائیے. پہاڑی دروں سے اٹھنے والے سیلاب ٹالے تو نہیں جا سکتے…مگر آپ حسینی کہلانا چاہیں یا یزیدی..فیصلہ آپ کے ہاتھوں میں ہے.

مظفرآباد ڈویژن کا کرداراس سے پہلے تحریک آزادی میں عملی حصے کے حوالے سے اگر شان دار نہیں بھی رہا تو نیلم مظفرآباد اور ہٹیاں والے اسے شاندار بنائیں. اسی ڈویژن کے پہاڑی لوگوں کا کردار نسبتا خاصا بہتر رہا ہے.. کھاوڑہ والوں کی جدوجہد ہو یا خواجہ سیری والوں کا لوٹ مار کرتے قبائلیوں کو مکان میں بند کر کے جلا دینا ہو…ان کی اولاد کے پاس بتانے کو کچھ نہ کچھ تو ہے..ملی خان سبز علی خان حسن خان خان محمد خان کے مقابلے میں…مگر باقی….؟؟؟

فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے.

آئیے اہلِ کشمیر کے حق خودارادیت کے لیے اکیس اکتوبر کے آزادی مارچ میں ہمارا ساتھ دیجیے. اپنی آنے والی نسلوں کو محفوظ بنوائیے. آپ الحاق پاکستان چاہتے ہوں یا الحاق ہندوستان خود مختاری چاہتے ہوں یا الحاق چین..اپنی مرضی کی مستند شناخت حاصل کرنے کے لیے ہمارے ہاتھ مضبوط کیجیے.
حکیم الامت علامہ اقبال کے اس شعر پر غور ضرور کیجیے گا

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مرد کہستانی