196

معائدہ امرتسر، متفرق و متضاد پہلو

معاہدہ امرتسر بلا شبہ ریاست جموں کشمیر کی تشکیل و تعمیر کی بنیاد بنا، جہاں اہل علم اس کی اہمیت و افادیت سے بخوبی واقف ہیں وہیں تاریخ و سیاست سے نابلد ایسے لوگ یا گروہ بھی موجود ہیں جو تاریخی حقیقتوں کا انکار کرتے ہوئے جہاں اس معاہدہ پر غیر انسانی ہونے کا لیبل لگاتے ہیں وہیں اس کی غلط اور من مانی تشریحات کرتے ہوئے غیر منطقی اعتراضات و الزامات کی بنیاد پر اس کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں۔

زیر نظر مضمون میں معاہدہ امرتسر پر معروف اعتراضات و الزامات کا بین الاقوامی قوانین اور سیاسی و فوجی روایات کی روشنی میں ایک جائزہ پیش کرتے ہیں تاکہ ریاست جموں کشمیر کو محض کسی بغض میں ناجائز اور مافوق الروایت ریاست قرار دینے والوں کا علمی و تاریخی رد پیش کیا جا سکے۔

معاہدہ امرتسر پر سب سے معروف اعتراض علاقے کی بمع انسانوں کے خرید و فروخت کے حوالے سے کیا جاتا ہے جس کی بنیاد یا تو بین الاقوامی قانون و تاریخ سے لاعلمی ہے یا پھر محض کوئی بغض و عناد، معاہدہ امرتسر 9 مارچ 1846 کے معاہدہ لاہور کے تسلسل میں ہوا جس معاہدے کے تحت پنجاب کی سکھ سلطنت پر انگریزوں کی طرف سے تاوان جنگ عائد ہوا، سکھوں نے کچھ رقم ادا کی اور باقی رقم کے عوض کچھ علاقے انگریزوں کی عملداری میں دے دیئے جن میں دیگر علاقوں کے ساتھ کشمیر (وادی) اور دریائے سندھ کے مشرق میں گلگت کا علاقہ بھی شامل تھا، معاہدہ امرتسر انہی علاقوں کے حوالے سے تھا جو سکھوں نے تاوان جنگ کی عدم ادائیگی کے بدلے انگریزوں کی عملداری میں دے دیے تھے۔

تاوان جنگ کی ادائیگی جبکہ عدم ادائیگی کی صورت میں علاقوں کا مختلف ممالک کو دیا جانا ایک مسلسل تاریخی روایت و قانون رہا ہے جسے خرید و فروخت کا نام صرف برصغیر میں معاہدہ امرتسر کے حوالے سے دیا جاتا ہے۔

معلوم انسانی تاریخ میں جا بجا تاوان جنگ کی ادائیگی کی مثالیں موجود ہیں لیکن یہاں صرف معاہدہ امرتسر کے آس پاس کے زمانے کی کچھ مثالیں پیش کرتے ہیں۔

نومبر 1815 میں فرانس کی ہار کے بعد معاہدہ پیرس کے تحت فرانس پر دس کروڑ فرانک تاوان جنگ عائد کیا گیا جو اس نے برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کو ادا کرنے تھے۔

1846 میں شروع ہونے والی امریکہ-میکسیکو جنگ کے اختتام پر 1848 میں “معاہدہ گواڈالوپ” کے تحت امریکہ نے ڈیڑھ کروڑ ڈالر تاوان جنگ کی مد میں میکسیکو کو ادا کرنے تھے اور میکسیکن حکومت کی طرف سے 35 لاکھ ڈالر جو امریکہ کو واجب الادا تھا کے عوض ٹیکساس کا علاقہ امریکہ کو دے دیا گیا اور دریائے گرینڈ ریو کو میسکسیکو اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے درمیان سرحد مانتے ہوئے اس کے شمال میں واقع علاقوں کو امریکہ کا حصہ تسلیم کیا گیا، واجب الادا رقم کے عوض کسی ایک ملک کا اپنا علاقہ دوسرے ملک کو دینے کا یہ واقعہ معاہدہ امرتسر کے انعقاد کے صرف دو سال بعد کا ہے، ٹیکساس کا جو علاقہ واجب الادا رقم کے عوض امریکہ کی عمل داری میں دیا گیا اس پر موجودہ امریکہ کی تین مکمل ریاستیں کیلیفورنیا، نیواڈا اور یوٹا قائم ہیں جبکہ امریکی ریاستوں نیو میکسیکو، اریزونا، اور کولوراڈو کا بیشتر حصہ اور ٹیکساس، اولکوہاما، کانساس، اور یومنگ کے کچھ علاقے شامل ہیں یعنی مجموعی طور پر میکسیکو سے لیے گئے علاقے پر جدید امریکہ کی دس ریاستیں جزوی یا کلی طور پر قائم ہیں۔

فرانس اور جرمنی کی جنگ کے اختتام پر مئی 1871 میں معاہدہ فرانکفرٹ کے تحت فرانس پر پانچ ارب گولڈ فرانک تاوان جنگ عائد ہوا۔

یونان اور ترکی کی جنگ کے اختتام پر 1897 میں ترکی کی طرف سے یونان پر چالیس لاکھ برطانوی پاونڈ تاوان جنگ عائد ہوا۔

پہلی عالمی جنگ میں جرمنی کی شکست کے بعد جرمنی پر ایک کھرب 32 ارب گولڈ فرانک تاوان جنگ عائد ہوا جس کی آخری قسط جرمنی نے اکتوبر 2010 میں ادا کی۔

دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر جرمنی، اٹلی، ہنگری، چیکو سلواکیہ، یوگو سلاویہ، رومانیہ اور بلغاریہ سمیت دیگر ممالک پر اربوں ڈالر کا تاوان جنگ عائد ہوا۔

ان ممالک نے فاتح ممالک کو تاوان کی رقم مختلف ذرائع سے ادا کی جس کا ہرگز یہ مطلب اخد نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے اپنا ملک اور لوگ قابض یا فاتح ممالک سے خریدے بلکہ انہوں نے یہ تاوان اپنے اپنے ممالک کے اقتدار اعلی اور حق حکمرانی بحال کرنے کے لیئے ادا کیئے۔

مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں اگر 9 مارچ 1846 کا معاہدہ لاہور اور 16 مارچ 1846 کے معاہدہ امرتسر کا تجزیہ کیاجائے تو یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہیکہ معاہدہ امرتسر کے تناظر میں خرید و فروخت کی کہانی محض ایک سفید جھوٹ اور عوام کو گمراہ کرنے کی سازش ہے۔
اس کے علاوہ دنیا کی جدید تاریخ میں ایسی بھی بیشمار مثالیں موجود ہیں کہ جہاں ممالک کے درمیان باقائدہ علاقوں کی خرید و فروخت ہوئی۔

1803 میں امریکہ نے فرانس سے لوایزیانا کا 8 لاکھ 28 ہزار مربع میل کا علاقہ ایک کروڑ 12 لاکھ 50 ہزار ڈالر کے عوض خریدا، خریدے گئے اس علاقے پر آکنساس، لووا اور موناٹا سمیت 15 امریکی ریاستیں اور دو کنیڈین صوبے البرٹا اور سسکاچون قائم ہیں۔

1854 میں “گیڈزڈن پرچیز” کے نام سے امریکہ اور میکسیکو کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت میکسیکو نے ایک کروڑ ڈالر کے عوض اپنا 29670 مربع میل کا علاقہ امریکہ کو فروخت کیا جو بعد میں ایرازونا اور نیو میکسیکو کی امریکی ریاستوں کا حصہ بنا۔

1867 میں امریکہ نے الاسکا کا 586412 مربع میل علاقہ روس سے 72 لاکھ ڈالر کے عوض خریدا۔

آخر میں جو لوگ سب سے زیادہ معاہدہ امرتسر کے بارے میں خرید و فروخت کا واویلا کرتے ہیں یعنی ہندوستانی ان کے لیئے ایک سوال چھوڑا جا رہا ہیکہ 1857 میں بغاوت کی ناکامی کے بعد 1858 میں جب برطانوی حکومت نے ہندوستان کا انتظام و انصرام ایسٹ انڈیا کمپنی سے براہ راست اپنے ہاتھ میں لیا تو برطانیہ نے ہندوستان اور ہندوستانیوں کی کیا قیمت مقرر کر کے ایسٹ انڈیا کمپنی کو ادا کی؟

اوپر بیان کیے گئے حقائق سے ایک بات تو یہ واضح ہو جاتی ہیکہ معاہدہ امرتسر کے تحت جو رقم انگریزوں کو ادا کی گئی وہ خالصتاََ اس تاوان جنگ کی ادائیگی تھی جس کی عدم ادائیگی پر وہ علاقے انگریز کی عملداری میں چلے گئے تھے اور اس معاہدہ کے بعد آج ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہیں۔ دوسرا یہ کہ دنیا کی قدیم و جدید تاریخ میں نہ صرف تاوان جنگ اور واجب الادا رقم کے عوض مختلف ممالک اپنے علاقے دوسرے ممالک کو دیتے رہے، اس سے بھی بڑھ کر خالصتاََ تجارتی بنیادوں پر ممالک کے درمیان علاقوں کی خرید و فروخت کی ایک روایت موجود رہی ہے، اوپر امریکہ کی مثال اس لیے دی گئی کہ اسے تہذیب یافتہ اور وہاں کے لوگوں کو مہذب خیال کیا جاتا ہے، یہ سب جاننے کے باوجود اگر کوئی معاہدہ امرتسر کو تاریخ کا “نویخلہ واقع” قرار دیتا ہے اور تاوان جنگ کی ادائیگی کو خرید و فروخت سے تعبیر کرتا ہے تو اس کی بنیاد یقیناََ بغض، تعصب یا ریاست دشمنی ہی ہو سکتی ہے۔

دوسرا مقبول اعتراض اقتدار اعلی کے نہ ہونے کا اٹھایا جاتا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کوئی مقتدر ریاست نہیں تھی بلکہ اقتدار اعلی انگریز کے پاس تھا۔

اس نقطے کا تجزیہ کرنے سے قبل اقتدار اعلی کے جس فہم کو لے کر ایسا کہا جاتا ہے اس کا جائزہ لینا ہو گا، اقتدار اعلی کے کلاسیکی تصور کے مطابق اقتدار اعلی کسی فرد، گروہ یا ریاست کے مطلق اختیار کو کہا جاتا ہے۔ اس تعریف یا فہم کے مطابق جسے اقتدار اعلی سمجھا جاتا تھا وہ مطلق العنان بادشاہت کے ساتھ ہی کہیں ماضی میں دفن ہو چکا ہے اور جدید دنیا میں اس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے، ریاست جموں کشمیر کو اقتدار اعلی کے پیمانے پر پرکھنے کے لیئے تاریخ کے دو ادوار کا جائزہ لینا ہو گا، ایک وہ جس میں ریاست جموں کشمیر کی تشکیل ہوئی یعنی کہ “پیکس بریٹانیکا” اور دوسرا وہ کہ جس میں ہم ریاست جموں کشمیر کے اقتدار اعلی کی نوعیت پر بحث کر رہے ہیں یعنی “پیکس امیرکانہ” جدید تاریخ میں ہمیشہ کوئی ایک یا بعض اوقات دو بالادست قوتیں موجود رہی ہیں اور باقی ممالک ان کے وضع کردہ قوانین اور اصولوں کے مطابق ان کی بالادستی تسلیم کرتے ہوئے اپنا سیاسی وجود قائم رکھتے تھے، ریاست جموں کشمیر کی تشکیل پیکس بریٹانیکا میں ہوئی یعنی اس دور میں برطانیہ دنیا کی بالادست قوت تھی اور بین الاقوامی اداروں اور قوانین کی عدم موجودگی میں اسی کے وضع کردہ اصول و قوانین کو بین الاقوامی قانون اور تاج برطانیہ اور اس کے اداروں کو عالمی اداروں کا سا مقام حاصل تھا کیونکہ سیاست، معیشت، معاشرت سمیت ہر شعبہ زندگی میں ان کی بالادستی قائم تھی، ریاست جموں کشمیر نے معاہدہ امرتسر کے تحت برطانیہ کی بالادستی تسلیم کرتے ہوئے کسی دوسری ریاست کے ساتھ تنازعہ کی صورت میں برطانوی ثالثی کو قبول کیا تھا اور اسے ایک سالانہ علامتی نذرانہ بھی پیش کیا جاتا تھا، پیکس امیریکانہ میں ممالک کو جس معیار پر ساورن سمجھا جاتا ہے اس معیار کے مطابق ریاست جموں کشمیر آج کی دنیا میں موجود ممالک سے زیادہ مقتدر تھی, جدید دنیا میں بھی اقتدار اعلی بالادست ممالک کے ساتھ ہی خاص ہے فرق صرف اتنا ہیکہ پہلے وہ اپنے نام کے ساتھ بالادستی قائم رکھے ہوئے تھے جبکہ اب بین الاقوامی اداروں کے پردے میں، دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر جب اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا تو جنگ کے فاتح ممالک نے نئی عالمی ترتیب قائم کی، اقوام متحدہ کے رکن ممالک اس کے چارٹر پر دستخط کر کے ہی اس کا حصہ بنتے ہیں اور مذکورہ چارٹر کے آرٹیکل 25 اور 26 واضح طور پر یہ بیان کرتے ہینکہ اقتدار اعلی یو این کی سیکیورٹی کونسل کے پاس ہے یعنی اقوام متحدہ کے رکن ممالک پانچ مخصوص ممالک برطانیہ، امریکہ، فرانس روس اور چین کی بالادستی تسلیم کرتے ہوئے اس ادارے کا حصہ بنتے ہیں، باقی ساری دنیا بھلے کچھ کہتی رہے لیکن اگر ان پانچ ممالک میں سے کوئی ایک بھی اپنا ویٹو کا حق استعمال کرتے ہوئے مخالفت کر دے تو دیگر ممالک کی رائے کا ٹھکانہ ردی کی ٹوکری ہو گا، ایسے میں جس معیار پر ریاست جموں کشمیر کو غیر مقتدر ریاست قرار دیا جاتا ہے اس کے مطابق پانچ ممالک کو چھوڑ کر دنیا کا کوئی بھی ملک مقتدر نہیں ہے؟

اوپر کی بحث سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہیکہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے پانچ ممالک آج کی دنیا میں مقتدر ہیں لیکن ایسا بھی نہیں ہے، یہ سمجھنے کے لیئے بین الاقوامی مالیاتی نظام کے قیام کا پسمنظر جاننا ہو گا، دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر جولائی 1944 میں نیویارک کے مقام پر 44 اتحادی ممالک کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی جسے بریٹن دووڈز کانفرنس یا یونائیٹد نیشنز مانیٹری اینڈ فنانشل کانفرنس کہا جاتا ہے، مذکورہ کانفرنس میں نئے عالمی مالیاتی نظام اور عالمی مالیاتی اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا، یہ کانفرنس پیکس امیریکانا کا نقطہ آغاز تھا، اس کانفرنس میں آئی ایم ایف سمیت دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے قیام کے علاوہ ڈالر کو پاونڈ اسٹرلنگ کی جگہ انٹرنیشنل ریزرو کرنسی کے طور پر اپنایا گیا اور ڈالر کی قدر کے تعین کے نظام کو سونے کیساتھ منسلک کیا گیا، پینتیس ڈالر کی قدر ایک اونس سونے کی مقدار کیساتھ منسلک کی گئی، باقی دنیا کی کاغذی کرنسی اور دہاتی سکوں کی مالیت کو ڈالر کیساتھ منسلک کیا گیا یعنی باقی ممالک اپنی کرنسی سونے کی بجائے ڈالر کی قدر کیساتھ منسلک کرنے کے پابند قرار دیئے گئے اسطرح دیگر ممالک کیساتھ ساتھ سیکیورٹی کونسل کے باقی چار ممالک بھی مالی اور معاشی طور پر امریکہ کے دست نگر ٹھہرے، بریٹن ووڈز کانفرنس میں یہ قانون بنا کہ دیگر جو ممالک اپنی کرنسیوں کی قدر کا تعین ڈالر کی نسبت سے کریں گے ان کے مرکزی بینک حسب منشائ و ضرورت پینتیس ڈالر فی اونس سونے کے حساب سے امریکہ کے مرکزی بینک سے تبادلہ کر سکیں گے، 27 سال تک ساری دنیا امریکی ڈالروں کے عوض اپنی محنت، جنس اور خدمات ایک دوسرے کو بیچتی رہی بالآخر 1971 میں فرانس نے بین الاقوامی قانون کے مطابق تین ارب ڈالر کے عوض سونے کے تبادلے کا مطالبہ کیا تو امریکی صدر رچرڈ نیکسن نے ایک صداری حکم نامے کے تحت سونے کی فی اونس قیمت 35 سے بڑھا کر 38 ڈالر کر دی اور ساتھ ہی فیڈرل ریزرو بینک پر ڈالر کے سونے سے تبادلے پر پابندی عائد کر دی، فرانس سمیت دنیا کے باقی ممالک جنہیں ساورن یا مقتدر تصور کیا جاتا ہے وہ سوائے ہاتھ ملنے کے کچھ نہ کر سکے، درج بالا حقائق و واقعات کی روشنی میں یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہیکہ جس معیار پر ریاست جموں کشمیر کے اقتدار اعلی کو پرکھا جاتا ہے اس کے مطابق آج کی دنیا میں سوائے امریکہ کے دوسرا کوئی مقتددر ملک موجود نہیں ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہ ریاست جموں کشمیر تقسیم سے قبل آج کی جدید دنیا کے تمام ممالک سوائے امریکہ سے زیادہ مقتدر تھی۔

برطانیہ کو علامتی نذرانے کی دائیگی پر بھی تنقید کی جاتی ہیکہ اس سے ریاست غیر مقتدر ثابت ہوتی ہے، جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہیکہ جدید دنیا میں بالادست ممالک عالمی اداروں کے پردے کے پیچھے چھپ کر مفادات اور اختیارات حاصل کرتے ہیں، آج بھی اقوام متحدہ کے رکن ممالک یو این چارٹر کے آرٹیکل 17 کیمطابق اپنی مجموعی قومی پیداوار کی ایک خاص شرح ہر سال یو این میں جمع کروانے کے پابند ہیں، دو سال کی عدم ادائیگی یا اس کے برابر رقم اگر واجب ادا ہو اور ادا نہ کی جائے تو ممبر ملک جنرل اسمبلی میں اپنے ووٹ کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

اوپر بیان کیئے گئے حقائق کی روشنی میں وہ تمام اعتراضات جو ریاست جموں کشمیر پر اقتدار اعلی کے کلاسیکی تصور کو معیار بنا کر اٹھائے جاتے ہیں اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔ زندہ اور باغیرت قومیں وہی ہوتی ہیں جو اپنی تاریخ کا درست تجزیہ کرتے ہوئے حال میں جدوجہد اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرتی ہیں، آج جب بھارتی اور پاکستانی بیانیہ کے زیر اثر نیشنلزم کے نام پر ریاست جموں کشمیر کے وجود کو ناجائز اور اس کی تاریخ کو شرمناک ثابت کرنے کی مذموم کوششیں اپنے عروج پر ہیں تو ہر محب وطن ریاستی شہری کا یہ اولین فرض ہیکہ وہ ریاست کی تشکیل و تعمیر کے عمل اور تاریخ و حقائق کو مسخ کرنے کی تمام سازشوں کا ڈت کر مقابلہ کریں۔