332

پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں قوم پرستوں پر بغاوت اور غداری کے مقدمے درج

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے تحصیل راولاکوٹ میں لبریشن فرنٹ کے گرفتار رہنماؤں کی رہائی کے لیے احتجاج کرنے والوں کے خلاف بھی بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار صغیر خان ایڈووکیٹ سمیت نو نامزد افراد اور کئی نامعلوم مظاہرین کے خلاف سٹی تھانہ راولاکوٹ میں ایس ایچ او تھوراڑ سجاد احمد کی مدعیت میں درج ایف آئی آر نمبر 197/19 مورخہ یکم جولائی 2019 زیردفعات 341/124A،34APC،16MPOکے تحت بغاوت سمیت دیگر مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیرمین سردار صغیر ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ یہ ایک ریاستی جبر ہے اور بغاوت کے مقدمات اقوام متحدہ کی قردادوں کا مذاق ہے۔

انہوں نے کہ ایسے مقدمات سے آزادی رائے کا گلا گھونٹا گیا ہے اور پاکستان کے آئین کے سیکشن ستاون کی بھی خلاف ورزی ہے۔

سردار صغیر کا کہنا تھا کہ یہ مقدمات طاقتور خفیہ ایجنسی کی ایما پر ہوا ہے اور مقامی حکومت اور پولیس محض کٹھ پتلی ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں گرفتاریوں کا ڈر نہیں کیونکہ پاکستان زیر انتظام کشمیر کی سیاسی اور قوم پرست جماعتیں یک نکاتی آزادی اظہار کے ایجنڈے پر ہمارے ساتھ آئیں گی کیونکہ ہم سے کوئ بھی اپنی ضمانت نہیں کرائے گا۔

مقدمے کی ایف آئی آر کا عکس

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر راولاکوٹ نے بتایا کہ یہ مقدمات ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی اور دیگر واقعات پر بنائے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس ڈائری پر مقدمات درج کیے گے ہیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ پہلا مقدمہ تو انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ مقدمہ بھی پولیس ڈائری پر ہوا۔

جب ان سے آئندہ متوقع احتجاج اور مظاہروں کا پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو دیکھ لیں گے۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے وائس چیئرمین راجہ مظہر ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، گلگت بلتستان اور اقصی چین کشمیر کا حصہ ہیں اور ان کے مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی لہذا یہاں بغاوت کے مقدمات بنتے ہی نہیں اور ان کی جماعت کشمیر کی آزادی اور دونوں ممالک کی افواج کے انخلا کی بات کرتی ہے جو اقوام متحدہ کی عین قرادادوں کے مطابق ہے۔

اس سے قبل 27 جون کو لبریشن فرنٹ کے کنونشن کے منتظمین چھ کارکنان کے خلاف بھی بغاوت کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی جس میں دو افراد صدام حیات اور سردار توقیر خان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

رہنماؤں کی گرفتاریوں اور مقدمہ کے خلاف یکم جولائی کو لبریشن فرنٹ نے آزادکشمیر بھر میں مظاہرے کیے تھے۔

لبریشن فرنٹ نے بدھ کو پھر مظاہروں کی کال اور آئندہ پھر آل پارٹیز کانفرنس بھی بلائی ہے۔