211

چین میں کورونا وائرس کی بنیادی وجہ چمگادڑ کی یخنی ہو سکتی ہے:ماہرین

چین کے شہر ووہان میں کورونا وائرس کا معاملہ سنگین ہوگیا ہے، اس مہلک وائرس سے اب تک 17 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ساڑھے پانچ سو سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔اتنی بڑی تعداد میں کیسز سامنے آنے کے بعد چینی شہر ووہان کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے۔

ٹرینوں، پروازوں، بسوں سمیت دیگر ٹرانسپورٹ کے ذریعے ووہان سے باہر نکلنے پر پابندی لگادی گئی۔اس پابندی کی وجہ سے ووہان کی ایک کروڑ آبادی اپنے ہی شہر میں محصور ہو کر رہ گئی۔حکومتی اقدامات کے پیش نظر ووہان میں غذائی قلت کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جس تیزی سے یہ وائرس لوگوں میں پھیل رہا ہے اس سے بڑی تعداد میں اموات کا خدشہ ہے۔

اس وائرس کے پھیلنے کی وجہ چمکادڑ کی یخنی بتائی جارہی ہے۔چین کے صوبے ووہان میں ایک بڑی مارکیٹ میں ممنوعہ جانوروں کا گوشت کھلے عام فروخت ہوتا ہے۔بڑے، بڑے مشہور ریسٹورنٹ کے مالکان مختلف جانوروں، پرندوں اور کیڑے مکوڑوں کے نت نئے پکوان اور سوپ بنا کر متعارف کروانے اور بیچنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسی طرح کچھ عرصہ قبل چمکادڑوں کے سوپ نے بڑی مقبولیت حاصل کی مگر ایک خاص قسم کے خطرناک ترین وائرس کی چمکادڑ میں موجودگی نے لوگوں کو موت کے منہ میں دھکیلنا شروع کردیا یہ وائرس ایک متعدی اور تیزی سے پھیلنے والا وائرس ہے اس کے شکار افراد چند روز میں ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

اس وائرس پہ اگر کنٹرول نہ کیا گیا تو جلد ہی یہ وائرس اپنے پڑوسی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔